صدر علوی کا از خود الیکشن شیڈول کا اعلان غیر آئینی کیسے؟

آئینی ماہرین، وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کی رائے کے برخلاف صدر عارف علوی کی جانب سے الیکشن شیڈول کے اعلان کی خبریں ایک باد پھر زیر گردش ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ عمرانڈو صدر عارف علوی کی اس طرح کی کسی بونگی کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہو گی تاہم اس طرح کا کوئی بھی اعلان ملک میں سیاسی انتشار کا سبب ضرور بنے گا۔
دوسری جانب سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے تازہ سیاسی تجزیے کے مطابق شنید ہے کہ صدر مملکت آئندہ چند روز میں ایک اہم ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے والے ہیں جس میں وہ آئین کے آرٹیکل (5)48 کے تحت ملک میں 90 روز میں انتخاب کرانے کی تاریخ دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ صدر مملکت کے اس ممکنہ اقدام سے ملک میں آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کا مضبوط موقف ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 220 اور 222 کے مطابق مکمل با اختیار ادارہ ہے۔ آئین کا آرٹیکل (5)48 محدود اختیار کا حامل ہے اور صدر مملکت اس آرٹیکل کے تحت الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم کی ایڈوائس کے بغیر الیکشن کی تاریخ تجویز کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیارات کے پیش نظر ایوانِ صدر کے ایسے کسی بھی احکامات کو بجالانے کا پابند نہیں ہے۔ آئین کے آرٹیکل 222 کے آخری پیرا گراف میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کی واضح تشریح موجود ہے کہ ملک کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور لوکل گورنمنٹ کے الیکشن کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کے معاملات میں کوئی ادارہ مداخلت نہیں کر سکتا۔ لیکن ان حقائق کے برعکس صدر مملکت عارف علوی الیکشن کی تاریخ دینے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں جس کی وجہ شاید بعض طبقات کی طرف سے نوے روز میں الیکشن کے انعقاد کے لیے کیا جانے والا احتجاج ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ کی دفعہ 57 میں ترمیم ہونے کی وجہ سے صدر مملکت کے فیصلے کو مسترد کر سکتا ہے۔ بالفرض صدر مملکت کوئی تاریخ دے بھی دیتے ہیں تو الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017 ء کی دفعہ 58 کے تحت انتخابی شیڈول میں رد و بدل کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔
کنور دلشاد کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کا کڑنے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات جنوری اور فروری سے پہلے بھی ہو سکتے ہیں، ہم نہ لانگ ٹرم کیلئے آئے ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے لیکن چونکہ الیکشن کی تاریخ کا تعین الیکشن کمیشن نے کرنا ہے تو ہم بھی اس انتظار میں ہیں کہ جیسے ہی وہ تاریخ کا اعلان کرتے ہیں تو اس سے جڑی ہوئی جتنی بھی تیاری ہے وہ مکمل کر کے اپنا آئینی فریضہ ادا کریں اور گھر کو جائیں۔ اگر سپریم کورٹ نوے دن میں انتخابات کا فیصلہ دے گی تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی اور کوئی ادارہ جاتی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام انتخابات میں سب کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گا۔ پاکستان کے جتنے بھی ووٹرز ہیں، یہ ان کا اختیار ہے کہ وہ جس سیاسی رہنما کو چنا چاہتے ہیں چنیں۔
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ زمینی حالات کے پیش نظر ملک میں نوے روز میں عام انتخابات کا انعقادممکن نہیں۔ سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے ملک کی بنیادی ہلا کر رکھ دی ہیں لیکن اب مختلف طبقات کی طرف سے ملک میں نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار کونسل کے زیر انتظام منعقدہ آل پاکستان و کلا کنونشن میں نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کے تحفظ اور بالا دستی اور انسانی حقوق کے لیے14 ستمبر کو وکلا کی جانب سے ہڑتال ہوگی۔ وکلا ملک بھر میں بارایسوسی ایشنزکی حدود میں 14 ستمبر کوریلیوں کی شکل میں پر امن احتجاج کریں گے۔
کنور دلشاد کا مزید کہنا ہے کہ گو کہ نگران وزیر اعظم جنوری فروری یا اس سے بھی پہلے عام انتخابات کے انعقاد کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر کیا ایسا ممکن ہے یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔
