مومل شیخ نے شوبز انڈسٹری میں خود کو کیسے منوایا؟

ڈراموں کی مقبول اداکارہ مومل شیخ نے کہا ہے کہ انہیں شوبز انڈسٹری میں آنے اور اداکاری کرنے کا موقع والد اور پھوپھا کی وجہ سے نہیں ملا۔ آج میں جس مقام پر ہوں اس میں والد یا فیملی میں سے کسی کا کوئی کردار نہیں ہے، خود محنت کرکے یہ مقام حاصل کیا ہے۔

مومل شیخ نے مزید بتایا کہ انہیں اداکاری کرنے کا موقع والد کی وجہ سے نہیں بلکہ شوہر کی وجہ سے ملا۔انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ان کی کامیابی کے لیے ان کی والدہ نے بہت قربانیاں دیں، انہوں نے ان کی بہتر پرورش کے لیے بہت کچھ قربان کیا۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ تاثر ٖغلط ہے کہ ماں بننے کے بعد بعد اداکاراؤں کا کیریئر ختم ہوجاتا ہے، خدا نے ہر عورت کو اتنی طاقت دی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پروش، گھر کی ذمہ داریوں سمیت کیریئر کو بھی آگے بڑھا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابی اور شوبز میں نام کمانے میں ان کے شوہر کا بھی ہاتھ ہے، وہ ان کی اجازت، مدد اور تعاون کی وجہ سے ہی باہر نکلی ہیں اور کام کر رہی ہیں۔مومل شیخ کے مطابق اب بھی جب وہ گھر سے کام کے لیے نکلتی ہیں تو ان کے شوہر بچوں سمیت گھر کا خیال رکھتے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انہیں والد کی وجہ سے نہیں بلکہ شوہر کی وجہ سے اداکاری کرنے کا موقع ملا۔مومل شیخ نے بتایا کہ ان کے شوہر کی ایک دوست ہدایت کارہ تھیں، جو کسی ڈرامے کے لیے کاسٹنگ کر رہی تھیں، انہوں نے ان کے شوہر کو آڈیشن کے لیے کہا اور پھر شوہر نے ہی انہیں آڈیشن دینے کے لیے بھیجا اور انہیں اداکاری کا موقع ملا۔

خیال رہے کہ فلم ہو یا ڈرامہ انڈسٹری آئے روز اقربا پروری کی خبریں گردش کرتی ہیں کہ سینئر اداکار کے بیٹے کو بغیر کسی محنت کے ڈرامے میں مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کرلیا گیا، جس پر شائقین سمیت شوبز انڈسٹری کے اداکار بھی انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

واضح رہے کہ مومل شیخ کا تعلق شوبز کے ایک ممتاز گھرانے سے ہے، ان کے والد جاوید شیخ شوبز انڈسٹری کا بہت بڑا نام ہیں جبکہ بھائی شہزاد شیخ بھی نامور اداکار میں جانے جاتے ہیں، اس کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد بھی اسی شعبے سے منسلک ہیں۔مومل شیخ اور ان کے بھائی کو بھی اکثر اقربا پروری کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے تاہم ہر بار انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے۔

مومل شیخ کے مطابق ابتدائی طور پر، وہ انڈسٹری میں اپنے والد کی ساکھ اور اقربا پروری کے تاثر کی وجہ سے کام کے لیے پروڈیوسرز سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں، تاہم، آخرکار انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے اپنا سفر خود طے کرنا ہے۔مومل نے بتایا کہ اداکار کو بنانے والے بھی عوام ہیں اور گرانے والے بھی عوام ہیں، عوام تعریف کرے گی تو ہمیں کام ملے گا ورنہ نہیں ملے گا، اپنے والد کی ہدایت کاری میں کبھی کام نہیں کیا۔

مومل شیخ نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بتایا کہ اداکاری کے شعبے میں قدم رکھنے کے لیے شروع میں بہت محنت کرنی پڑی ، بہت سال گھر بیٹھنا پڑا، ایسا وقت بھی آیا کہ کام بالکل نہیں تھا۔مومل کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے ڈرامے کے لیے 3 آڈیشن دیے تھے، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ڈیڑھ سال تک میرے پاس کوئی ڈرامہ نہیں تھا، پروڈکشن ہاؤس اور پروڈیوسر سے خود بات کرنی پڑتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ آج میں جس مقام پر ہوں اس میں والد یا فیملی میں سے کسی کا کوئی کردار نہیں ہے، خود محنت کرکے اس مقام تک پہنچی ہوں۔

Back to top button