پیپلزپارٹی سندھ میں کیا سرپرائز دینے والی ہے؟

سیاسی ماہرین نے قرار دیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی کراچی کے ضلع شرقی کے علاقے محمود آباد میں ایم کیو ایم امیدوار کے خلاف فتح سرپرائز کامیابی تھی جوکہ موجودہ الیکشن میں بھی کہرام مچانے کیلئے تیار ہے، پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی نے 2017 کے الیکشن میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو شکست سے دوچار کیا تھا۔اس نشست سے پی پی پی کے امیدوار سعید غنی کامیاب ہوئے تھے اور اُن کے مقابلے میں ایم کیو ایم کے امیدوار اور موجودہ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، سیاسی ماہرین اس جیت کو کراچی میں پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ ضلع شرقی کا علاقہ محمودآباد ہے جو اس حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ رکھنے والا علاقہ ہے۔سینئر صحافی رفعت سعید جولائی کے گرم موسم میں ہونے والے اس ضمنی انتخاب کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کراچی کی گرمی میں سیاسی درجہ حرارت بھی عروج پر تھا، عرفان اللہ مروت سمیت علاقے کی کئی بااثر شخصیات پیپلز پارٹی کے خلاف تھیں۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار سعید غنی اس نشست پر الیکشن لڑ رہے تھے اور سارا دن پی پی پی کے ووٹ بینک والے علاقوں میں بدامنی کی وجہ سے مسلسل میڈیا کے نمائندوں کو لمحہ بہ لمحہ صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘رفعت سعید کا مزید کہنا ہے کہ ’1988 سے 2013 تک پاکستان پیپلز پارٹی اس حلقے سے کبھی کامیاب نہیں ہوئی تھی، یہ نشست تین بار ایم کیوایم اور تین بار عرفان اللہ مروت کے پاس رہی تھی۔ملیر کے بعد کراچی شہر کے اندر سے اس نشست نے پاکستان پیپلز پارٹی کو حوصلہ دلایا کہ وہ مہاجر آبادیوں سے بھی الیکشن میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔‘سندھ میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے حکمرانی کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اب سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت بن کر اُبھر رہی ہے۔ سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں سے کامیاب ہونے والی پی پی پی کی نظریں اب 2024 کے عام انتخابات میں بھی صوبے کے شہری علاقوں پر ہیں۔پیپلز پارٹی اب عزیز آباد، لیاقت آباد، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، سرجانی ٹاؤن، ڈیفنس، محمود آباد، کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، ملیر سٹی سمیت دیگر علاقوں میں اپنے مضبوط امیدواروں کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔ پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم (پاکستان) میں پیدا ہونے والے اختلافات کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور اس کے ایک درجن سے زائد سابق ارکان اسمبلی کو پی پی میں شامل ہونے پر آمادہ کرلیا ہے۔سینیئر صحافی عبدالجبار ناصر کا دعویٰ ہے پاکستان پیپلز پارٹی کراچی شہر میں دوسری بڑی سیاسی قُوت بن کر اُبھر سکتی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی سندھ کے شہری علاقوں میں پوزیشن ماضی کے مقابلے میں بہتر نظر آ رہی ہے۔ ایم کیوایم پاکستان کے منحرف اراکین کے پی پی پی میں شامل ہونے سے پیپلز پارٹی کو فائدہ ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی اب باآسانی ان مہاجر علاقوں میں انتخابی مہم چلا رہی ہے جہاں وہ ماضی میں جانے سے کتراتی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے صدر سعید غنی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی پارٹی کی پوزیشن شہر میں مستحکم ہے۔’شہر میں لوگوں کو بہت عرصے بعد اپنی مرضی کے لیڈرز چُننے کا موقعہ مل رہا ہے جو خوش آئند ہے۔ پیپلز پارٹی سے خوف میں مبتلا تمام سیاسی جماعتیں اب اتحاد کرکے ہمیں ہرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ماضی میں اس شہر کا مینڈیٹ چھینا جاتا رہا ہے، تاہم اب حالات مختلف ہیں۔لوگ بے خوف گھروں سے نکل کر اپنی مرضی کی پارٹی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہری علاقوں کے عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ہم پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’2024 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سرپرائز دے گی اور سندھ میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔

Back to top button