جج کی ویڈیو بنانے والے دو لیگی مطلوب ترین دہشت گرد قرار

نیب کی جانب سے حکومت کے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب ایک تازہ واقعے میں ایف آئی اے نے مسلم لیگ ن کے ان دو کارکنان کو انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر دیا یے جو کہ جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل میں روپوش ہیں۔ اس ہائی پروفائل لسٹ میں موجود دیگر دہشتگردوں میں ممبئی حملہ کے ملزمان اور پرویز مشرف پر حملے کی سازش تیار کرنے والے ملزمان کے نام بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں ماضی میں ایسے لوگوں کے نام شامل ہوتے تھے جو دہشتگرد جہادی تنظیموں سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم اب حیرت انگیز طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس میں ملوث مسلم لیگ ن کے دو اراکین راولپنڈی کے رہائشی ناصر محمود اور لاہور کے رہائشی میاں سلیم رضا کے نام ہائی پروفائل دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیے ہیں جو کہ کسی لطیفے سے کم نہیں۔ یہ وہ دو لوگ ہیں جن پر جج کی ویڈیو بنا کر مریم نواز کو فراہم کرنے کا الزام ہے اور یہ دونوں لوگ سیاسی کارکن ہیں لیکن بنیادی سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ ویڈیو جھوٹی تھی یا سچی تھی۔ ایف آئی اے کی جانب سے ان دونوں لیگیوں کے نام مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے سے واضح ہوگیا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی ہے۔ ویسے بھی ان مطلوب اشخاص میں سے ناصر محمود نامی لیگی لندن کی ایک لیب سے جج ارشد ملک کی ویڈیو کی فرانزک رپورٹ حاصل کرچکے ہیں لیکن برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن اس رپورٹ پر تصدیق کی مہر ثبت کرنے سے انکاری ہے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پچھلے برس سامنے لائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ انہوں نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو قید کی سزا اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آکر دی تھی۔ مریم نوازکی جانب سے یہ انکشاف کیے جانے کے فورا بعد ملک بھر میں ان تمام لوگوں کے خلاف ادارے حرکت میں آگئے تھے جنہوں نے جج کی ویڈیو بنانے اور پھر اسے مریم کے حوالے کرنے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔ س دوران سپریم کورٹ نے جج کو اسکے عہدے سے ہٹا دیا تھا لیکن ابھی تک اس کے خلاف نوکری سے برطرفی کی کارروئی نہیں کی گئی چونکہ ایف آئی اے ارشد ملک کے خلاف معاملے کی انکوائری رپورٹ فائنل کرنے سے گریزاں ہے اور حکومت بھی اسے تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ بجائے کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت ایف آئی اے جج ارشد ملک کے خلاف انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے، اس نے تمام تر زور ان لوگوں کے خلاف کارروائی پر لگا رکھا ہے جنہوں نے کہ ویڈیو بنانے کا فریضہ سرانجام دیا تھا۔
ایف آئی اے نے اس سلسلے میں تازہ ترین واردات یہ ڈالی ہے کہ اس ویڈیو کو بنانے والے لیگی اراکین کا نام دہشت گردی، قتل و غارت گری، شرپسندی، بلیک میلنگ سمیت مختلف جرائم میں ملوث مطلوب ہائی پروفائل دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں متحدہ قومی موومنٹ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کا نام بھی شامل ہے جو اس وقت برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرکے قیام پذیر ہیں، الطاف حسین پر ڈاکٹر عمران فاروق قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے جبکہ اس کیس میں دیگر 3 ملزمان انور علی، افتخار حسین اور کاشف خان کا نام بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔
ایف آئی اے کی انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست میں لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کے نام شامل ہیں جو مبینہ طور پر ممبئی دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے۔ فہرست میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملتان سے تعلق رکھنے والے امجد خان پر ممبئی حملوں کے دوران استعمال ہونے والی کشتی الفوز، کراچی میں اے آر زیڈ واٹر اسپورٹس سے یاماہا موٹربوٹ انجن، لائف جیکٹس، انفلیٹ ایبل بوٹس، وغیرہ کی خریداری کا الزام ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق یہ چیزیں ممبئی حملوں میں استعمال ہوئیں تھیں اور انہیں بھارتی حکام کی جانب سے برآمد کیا گیا تھا۔
اس فہرست پر ایک اور لشکر طیبہ کا کارکن فیصل آباد سے تعلق رکھنے والا افتخار علی بھی شامل ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کیس میں اس نے دہشت گردوں کے رابطوں کے لیے وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول یعنی وی او آئی پی کنیکشن حاصل کرنے کے لیے خود کو ملک تیمور ظاہر کرکے اسلام آباد میں ایک منی چینجر کے پاس رقم جمع کروائی تھی۔ مزید برآں فہرست میں کہا گیا ہے کہ تربت سے محمد خان نے دہشت گردوں کو الحسین کشتی فراہم کی تھی۔ اس فہرست میں لشکر طیبہ کے کئی دیگر افراد کے نام بھی شامل ہیں جو الحسین اور الفوز کشتیوں کے عملے کے لوگوں اور دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔
ایف آئی اے کی فہرست میں وفاقی پولیس کی طرف سے نامزد کردہ البدر اور حرکت المجاہدین کا کارکن محمد عمران بھی شامل ہے جس پر میریٹ اسلام آباد ہوٹل کا دہشت گرد حملے کے لیے ہدف کے طور پر انتخاب کرنے کا الزام ہے جبکہ وہ افغانستان میں 9/11 کے بعد ہونے والی جنگ میں بھی حصہ لے چکا تھا۔ دہشتگردوں کی فہرست میں مولانا اعظم طارق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن یعنی آئی ایس او کے کارکنان ٹوبہ ٹیک سنگھ سے امجد شاہ، سرگودھا سے رضوان علی، جہلم سے قلب عباس شاہ، سرگودھا سے سید کاشف علی رضا اور واہ کینٹ سے اسد عباس کے نام بھی شامل ہیں، ان ملزمان میں سے 3 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران میں قیام پذیر ہیں جبکہ ایک برطانیہ میں ہے۔
اس کے علاوہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی سفارشات پر سپاہ صحابہ پاکستان کے کارکن قاری احسان الحق کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن پر سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف پر خود کش حملے اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام ہے جبکہ ان کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔مذکورہ فہرست میں تحریک طالبان پاکستان کے بیت اللہ محسود گروپ سے تعلق رکھنے والے واہ کینٹ سے محمد اعجاز کا نام بھی شامل ہے، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف پر خود کش حملے کے لیے 4 گاڑیاں تیار کیں۔
دریں اثنا اس فہرست میں متعدد ایسے افراد کے نام بھی شامل ہیں جن پر سیاست دانوں، فوجی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا اور قتل سمیت دیگر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
