موجودہ حکومت ملک کو گٹر میں لے جارہی ہے

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ملک کو گٹر میں لے کر جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس کی براہ راست کوریج کی درخواست پر سماعت کی۔ وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے ٹرائل کی براہ راست کوریج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست کوریج سے عدالتی وقار میں کمی آئے گی، عدالتی کارروائی تکنیکی نوعیت کی ہوتی ہے جو عام آدمی سمجھ نہیں سکتا، کورٹ رپورٹرز آسان زبان میں کارروائی عوام تک پہنچاتے ہیں، ججز کے کنڈکٹ پر پارلیمنٹ میں بھی بحث نہیں ہو سکتی، براہ راست کوریج سے ججز کے کنڈکٹ پر عوامی سطح پر بحث ہوگی جس سے ججز عوامی سطح پر مقبول اور شناخت ہوسکیں گے، جس سے خدشہ ہے فیصلے قانونی نہیں مقبولیت پر مبنی ہوں گے، ججز ٹی وی پر نہیں اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں۔
جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کبھی تصویر نہیں بنی تھی، اب عدالت آتے جاتے میری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، عمران خان اور وزیر قانون نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جسٹس فائز عیسی کو راستے سے ہٹانے کےلیے غیر قانونی اقدامات کیے، فروغ نسیم نے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کےلیے عہدے کا نا جائز استعمال کیا، میرے ساتھ حکومتی عہدیداروں کا رویہ تضحیک آمیز ہے، اپنی رقم سے خریدی جائیداد راتوں رات میرے شوہر کی بنادی گئی، عمران خان سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہوں، عمران خان میں شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں۔ جسٹس عمر عطابندیال نے انہیں ٹوکا کہ اس وقت سماعت کی براہ راست نشریات کی درخواست پر سماعت ہورہی ہے۔ سرینا عیسی نے کہا کہ جون 2020 تک کے میرے ٹیکس ریکارڈ تک رسائی حاصل کی گئی، شہزاد اکبر نے نوکری شروع کی تو ان کی تنخواہ 35 ہزار تھی، وہ آج امیر آدمی ہیں لیکن کبھی اثاثے ظاہر نہیں کیے، ان کے حوالے سے ہر سچ پر پردہ ڈالا جا رہا ہے، نیب ایف آئی اے اور ایف بی آر شہزاد اکبر کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں، عدالت حکم دے تو براہ راست کوریج کا بندوبست کر سکتی ہوں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی خود عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ جسٹس منظور ملک نے میری رہنمائی کی ہے، ان کی ہدایت پر کوشش ہے جذباتی نہ ہوں، عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی لیکن ملک دشمنوں کے خلاف ففتھ جنریشن وار نہیں ہورہی، سوشل میڈیا بریگیڈ منہ چھپا کر حملے کررہی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کو گٹر میں لے کر جارہی ہے، میرے خلاف صحافی وحید ڈوگر کی شناخت کیا ہے؟ کوئی نہیں بتاتا، پاکستان میں اس وقت ڈوگر جیسے ٹاؤٹ بھرے پڑے ہیں، آٹھ ہزار روپے پر نیب کا ملازم شہزاد اکبر عدلیہ کو لیکچر دیتا ہے، ہم احمقوں کی جنت میں نہیں رہ رہے، چاہتا ہوں لوگ میری بات براہ راست سنیں، میری گفتگو کا مکمل حصہ میڈیا رپورٹ نہیں کرتا، صدر مملکت بھول جاتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ورکر ہیں، کیچڑ مجھ پر اچھالا گیا لیکن برداشت ان سے نہیں ہورہا تھا، صدر مملکت نے ایوان صدر میں بیٹھ کر تین انٹرویوز دیے اور کہا ریفرنس پر خاموش رہنے اور میڈیا ٹرائل کا بھی آپشن تھا، تیسرا آپشن جوڈیشل کونسل کا تھا جو استعمال کیا، سچ بولتا رہوں گا چاہے کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ صدر کبھی میڈیا ٹرائل نہیں کرواتے یہ خود ہو جاتا ہے، بہتر ہو گا ان باتوں پر نہ جائیں، عدالت جس سماعت کےلیے بیٹھی ہے اس سے بات دوسری طرف جاچکی ہے، ہمیں کمنٹری سننے پر مجبور نہ کریں، آپ بات اس طرف لے گئے کہ حکومت نے آپ کی تضحیک ہو گی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ مزید تین سال بینچ میں رہنے یا پنشن لینے میں کوئی دلچسپی نہیں، میری دلچسپی صرف عدلیہ کی عزت اور احترام میں ہے، میرے خلاف یوٹیوب پر پراپگینڈہ کیا جا رہا ہے، یوٹیوب چینل نہیں بنا سکتا اس لیے عدالت میں کھڑا ہوں، بول ٹی وی کا مالک کون ہے یہ کوئی نہیں بتائے گا، سمیع ابراہیم نے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو آصف سعید کھوتا کہا، دبئی میں بول ٹی وی کے شیئرز کس کے پاس ہیں میڈیا ذکر نہیں کرے گا، میرے نام سے تین جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس بنے ہیں، 3 بار خط لکھ چکا کہ میرا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں۔ عدالت نے جسٹس عیسی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ 19 جون کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے 7 ججز کے اپنے اکثریتی مختصر حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بینچ میں سے انہیں7 اراکین نے مختصر حکم نامے میں پیرا گراف 3 سے 11 کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے سامنے دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔تاہم عدالت عظمیٰ کے اس مختصر فیصلے کے پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کے لیے 8 نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھی۔
یہ درخواستیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین، ایڈووکیٹ عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل نے دائر کی تھیں۔
اپنی نظرثانی درخواستوں میں درخواست گزاروں نے اعتراض اٹھایا تھا کہ 19 جون کے مختصر فیصلے میں پیراگرافس 3 سے 11 کی ہدایات/ آبزرویشنز یا مواد غیر ضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیرقانونی ہے اور یہ حذف کرنے کے قابل ہے چونکہ اس سے ریکارڈ میں ’غلطی‘ اور ’ایرر‘ ہوا ہے لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے اور اسے حذف کیا جائے۔
بعد ازاں اس کیس کا 23 اکتوبر کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا جو 174 صفحات پر مشتمل تھا، جس میں سپرم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت صدر مملکت عارف علوی غور شدہ رائے نہیں بنا پائے، لہٰذا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’مختلف نقائص‘ موجود تھے۔
تفصیلی فیصلے کے بعد اکتوبر میں سپریم کورٹ کو 4 ترمیم شدہ درخواستیں موصول ہوئی تھی جن میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق اکثریتی فیصلے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔10 نومبر کو سرینا عیسیٰ عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار کے ساتھ درخواست جمع کروانے کے لیے پیش ہوئی تھی اور انہوں نے درخواست کی تھی کہ ان تمام ججز کو 10 رکنی فل کورٹ میں شامل کیا جائے جنہوں نے صدارتی ریفرنس کے خلاف ان کے شوہر (جسٹس عیسیٰ) کی درخواست پر فیصلہ کیا تھا اور 19 جون کا مختصر حکم جاری کیا تھا۔
یہی نہیں بلکہ دسمبر کے اوائل میں سرینا عیسیٰ نے عدالت میں ایک درخواست جمع کروائی تھی جس میں انہوں نے پہلے والی نظرثانی درخواست کو منظور کرنے کیا استدعا سمیت زور دیا تھا کہ جسٹس عیسیٰ کیس میں 7 ججز کے 19 جون کے مختصر حکم سمیت 23 اکتوبر کے تفصیلی فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔علاوہ ازیں 5 دسمبر کو جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اضافی درخواست داخل کی تھی اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب سے متعلق میری درخواست پر سماعت ہی نہیں کی۔ساتھ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نظر ثانی درخواست میں استدعا کی تھی کہ سماعت ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button