اتحادیوں کا 9 اگست کو اپنی حکومت توڑنے کا فیصلہ

اتحادی حکومت نے قومی اسمبلی قبل از وقت تحلیل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ حکمران اتحاد میں قومی اسمبلی 9 ستمبر بدھ کی رات تحلیل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔خیال رہے کہ قبل از وقت اسمبلی کی تحلیل پر آئین کے مطابق 90 روز میں انتخابات کرانے ہوں گے جبکہ اسمبلی کی مدت مکمل ہونے پر60روز میں انتخابات کرانا ناگزیر ہے ، قبل ازوقت اسمبلی کی تحلیل پر حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو عام انتخابات کی تیاری کے لیے زیادہ وقت مل جائے گا۔
دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکمران اتحاد میں نگران وزیر اعظم کے لیے شارٹ لسٹ کئے گئے ناموں پر نظرثانی کا امکان ہے۔ نگران وزیر اعظم کیلئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام بھی زیرغور ہے ۔ ذرائع کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے بارے میں مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل ہو گیا اور اسمبلی 9 اگست کو تحلیل کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس اہ پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تاریخ 9 اگست مقرر ہو گئی ہے جبکہ نگران وزیراعظم کیلیے چار سے پانچ ناموں پر اتفاق ہو گیاہے ۔ خواجہ آصف کا کہناتھا کہ نگران وزیراعظم کیلیے پیپلز پارٹی سے چار روز قبل میٹنگ ہوئی ہے ، میٹنگ میں چار سے پانچ ناموں پر اتفاق ہواہے ،مشاورت کے بعد نام قیادت کے پاس چلے جائیں گے ،جو نام ہم نے دیے ہیں ان میں کوئی بیوروکریٹس شامل نہیں۔انھوں نے کہاکہ جو نام دیے ہیں ان میں عام شہری ہیں جن کی اچھی ساکھ ہے ، ایک کا تعلق سیاست کے ساتھ ہے ،ایک شخصیت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، 9 اگست کو اسمبلیاں تحلیل ہونے کی تاریخ مقرر ہو گئی ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے کبھی نگران وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ،نگران حکومت بننے کے90 روز کے اندر الیکشن ہوں گے ۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں سے نگران وزیراعظم کیلئے 48 گھنٹوں میں نام مانگ لئے ہیں۔ نگراں وزیراعظم کے معاملے پر اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں نگراں وزیراعظم کیلئے نام طلب کر لیا گیا، ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں پارٹی قیادت کی مشاورت سے 2 دن میں نگران وزیراعظم کیلئے نام دیں۔ تاہم اجلاس میں صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے متعلق مشاورت نہیں کی گئی۔تفصیلات کے مطابق حکومتی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کو اپنی قیادت سے مشاورت سے 2 دن میں نگران وزیراعظم کیلئے نام دینے کی ڈیڈلائن دی گئی ہے۔ حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے رہنماؤں کا نگران سیٹ اپ کی تشکیل کیلئے مشاورتی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں پیپلز پارٹی، ن لیگ، مسلم لیگ ق، جمہوری وطن پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں نے شرکت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوید قمر، خورشید شاہ، ایاز صادق، سعد رفیق، منظور کاکڑ، شاہ زین بگٹی مشاورتی اجلاس میں شریک ہوئے۔
دوسری طرف ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجا ریاض نگراں وزیراعظم کیلئے ناموں پر مشاورت کا دوسرا مرحلہ 2 اگست سے شروع کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ ریاض نگراں وزیراعظم کیلئے 3 نام تجویز کریں گے، اس کیلئے اپوزیشن ارکان کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی اور جی
ایکس (ٹوئٹر) کے تمام صارفین اب اپنی پوسٹس سے پیسے کما سکتے ہیں
ڈے اے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
