آئی جی سندھ کا تبادلہ قبل ازبلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کےعام فہم ہے
سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈراورپاکستان تحریک انصاف سندھ کے سینئررہنما فردوس شمیم نقوی نے آئی جی سندھ کے تنازع پر کہا ہے کہ جس طرح ماضی میں پولیس افسران اورڈی سی کے ساتھ مل کر انتخابات میں دھاندلی کرائی جاتی تھی مذکورہ تبادلہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات قریب آرہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما نےکہا کہ وزیراعظم عمران خان نے گورنرعمران اسمٰعیل سے رابطہ کیا ہے تاہم وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ رابطے کے لیے کون سا ذریعہ استعمال کیا۔
واضح رہے کہ سندھ کابینہ نےانسپکٹرجنرل(آئی جی)سندھ ڈاکٹرکلیم امام کوعہدےسےہٹانےاوران کی خدمات وفاق کوواپس دینےکی منظوری دےدی ہے۔ اس حوالے سےفردوس شمیم نقوی نےکہا کہ ‘گورنر سندھ اوروزیراعظم کےمابین آئی جی سندھ کےتبادلےکامعاملہ زیربحث آیااورجیسےہی ہمیں پتہ چلا، ہم نے عمران اسمٰعیل سےبات کرکےاس معاملےپراپنےتحفظات کااظہارکیا’۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں دیانتدارپولیس افسران کوسیاست کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب یں انہوں نے کہا کہ پنجاب اوروفاق کےدرمیان آئی جی پنجاب کے تبادلے پرایک رائے تھی تو تبادلہ ہوگیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘سندھ اسمبلی کےارکان، جو پاکستان تحریک انصاف کےممبرہیں تقاضہ کرتے ہیں کہ آئی جی کے تبادلے پرقانون کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے’۔
آپ وفاق کا حصہ ہیں اورنہ ہی سندھ حکومت تو پھرآئی جی کلیم امان کے تبادلے پراعتراض کیوں کررہے ہیں؟ سے متعلق سوال کے جواب میں فرودس شمیم نقوی نے کہا کہ ‘ہم اسمبلی کے کسٹوڈین ہیں جہاں سے یہ قانون منظور ہوا، دوم وفاق اور ہم ہمارے درمیان تحریک انصاف کا رشتہ ہے، اس کا مطلب آپ کو سمجھ آگیا کہ ہمارا وفاق سے کیا رشتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم وزیراعظم عمران خان کوآگاہ کرتے ہیں کہ سندھ کے حالات اچھے نہیں ہیں، سندھ حکومت پولیس کے ساتھ جورویہ اختیار کیے ہوئے اس کی وجہ سے لاقانیت کا گراف بڑھ رہا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں گزشتہ 30 برس میں سندھ حکومت رینجرز کو ریپلیس
نہیں کرسکے اور اگر رینجرز کو ہٹادیا جائے تو شہر کا الامان الحفیظ۔
واضح رہے کہ سندھ کابینہ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ ڈاکٹر کلیم امام کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ ‘آئی جی سندھ کلیم امام کو 13 دسمبر 2019 کو لکھے گئے آخری خط میں بتا دیا گیا تھا کہ جس طرح وہ رولز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں صوبائی حکومت اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھنے پر غور کر رہی ہے، اسی کے تناظر میں آج کا اجلاس ہوا۔’
نہیں
