سو سنار کی اور ایک لوہار کی، فیض حمید کو لمبی قید کی سزا کا امکان

آئی ایس ائی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو گرفتاری کے بعد ان عاائد کردہ ان الزامات کی چارج شیٹ فراہم کر دی گئی ہے جنکی بنیاد پر ان کے کورٹ مارشل کا فیصلہ ہوا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کورٹ مارشل کے نتیجے میں فیض حمید کو لمبی قید کی سزا ملنے کا قوی امکان موجود ہے چونکہ ان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ تاہم کورٹ مارشل کی کاروائی سے پہلے فوج کی جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ کی تشکیل کردہ کورٹ آف انکوائری اپنی کارروائی مکمل کرے گی۔ اس انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ایک حاضر سروس لیفٹنٹ جنرل کی سربراہی میں کورٹ آف انکوائری قائم کی جا چکی ہے جس میں دو ممبران کے علاوہ جج ایڈوکیٹ جنرل برانچ کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوتا ہے اس عدالت کے سربراہ کو پریزیڈنٹ کہا جاتا ہے۔

فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ انکے خلاف ’ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک معاملہ ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلقہ تھا جس کے مالک نے فیض حمید پر زور زبردستی سے سوسائٹی کا قبضہ لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم نامے پر عمل کرتے ہوئے فیض حمید کے خلاف کورٹ اف انکوائری تشکیل دی گئی ہے۔ ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک معیز احمد خان کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے سماعت کی تھی اور 9 نومبر 2023 کو درخواست گزار کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ان کے معاونین کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے وزارت دفاع سمیت متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ فیض حمید کے خلاف کاروائی کا فیصلہ وزارت دفاع نے اسی سلسلے میں کیا ہے۔

کیا عمران نے وعدہ معاف گواہ بننے کے ڈر سے جنرل فیض کو ڈس اون کیا؟

فوج کی جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ سے ریٹائر ہونے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی آر کے ترجمان نے فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کرنے بارے جو بیان جاری کیا ہے اس میں ’تمام قانونی پہلو کوور ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ٹاپ سٹی سے متعلق ابتدائی سماعت کے بعد درخواست گزار کو متعقلہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا جس کی روشنی میں فوجی قیادت نے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک میجر جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی۔ انھوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 92 میں کسی بھی فوجی افسر کی ریٹائرمنٹ کے 6 ماہ کے بعد اگر اس کے خلاف کوئی الزام ہو تو کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں ہو سکتی لیکن آرمی ایکٹ کے سیکشن 31 اور 40 اس سے مستثنیٰ ہے۔ آرمی ایکٹ کا سیکشن 31 فوجی افسران اور اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے سے متعلق ہے جبکہ سیکشن 40 مالی بدعنوانی اور فراڈ کے زمرے میں آتے ہیں اور اگر کسی بھی فوجی افسر یا اہلکار پر اس طرح کے الزامات ہوں تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

یاد رہے ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک معیز احمد خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست کے مطابق 12 مئی 2017 کو فیض حمید کے حکم پر پاکستان رینجرز اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے ٹاپ سٹی کے دفتر اور معیز احمد خان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ اس چھاپے کے دوران معیز پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا اور بعد ازاں فیض حمید کے بھائی سردار نجف حمید نے ان سے ملاقات میں تقاضا کیا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی ملکیت فیض حمید اور ان کے نام کر دی جائے۔ اس کے علاوہ معیز سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا بھی چھین لیا گیا اور چار کروڑ کیش بھی زبردستی لے لیا گیا۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ ان الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے جانے والی کورٹ آف انکوائری ایک تفتیشی عمل ہے۔ ’جس طرح سویلین اداروں میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی جاتی ہے اس طرح فوج میں کورٹ آف انکوائری عمل میں لائی جاتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اگر فوجی افسر کی جانب سے بدعنوانی یا کرپشن اور اختیارت سے تجاوز کرنے کا معاملہ سامنے آئے تو سیکٹر کمانڈر اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیتا ہے۔ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ کورٹ آف انکوائری کوئی ایکشن لینے کی مجاز نہیں ہے البتہ اس کی سفارشات کی روشنی میں کورٹ مارشل کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہو گی تو اس میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سربراہ کو پراسیکوشن کے گواہ کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کورٹ آف انکوائری میں ’جو شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں ان کی روشنی میں بھی مزید گواہوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران ملزم کو ’اپنی مرضی کا وکیل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور وہ اپنی صفائی میں گواہان بھی پیش کرنا چاہے تو انھیں ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔‘

انعام الرحیم کے خیال میں کورٹ مارشل کے نتیجے میں فیض حمید کو لمبی قید کی سزا ملنے کا واضح امکان موجود ہے چونکہ ان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔

Back to top button