عمران کے مخالفین کو پریشان کرنے والا فیض حمید اب خود سخت پریشان

’پریشان نہ ہوں، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔۔۔‘ تین سال قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسکراتے ہوئے یہ فقرہ ادا کرنے والے سابق آئی ایس آئی ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کورٹ مارشل کے لیے گرفتاری کے بعد سے شدید ترین پریشانی کا شکار ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے پاک فوج نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ریٹائرڈ) کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی تھی جس کے نتیجتے میں پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ریٹائرڈ) کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔‘
سو سنار کی اور ایک لوہار کی، فیض حمید کو لمبی قید کی سزا کا امکان
سینیئر صحافی ماجد نظامی بی بی سی کے لیے ٹحریر کردہ ایک رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ پاکستان آرمی کی تاریخ میں وہ افسران انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو دو مختلف کورکے کمانڈر رہے۔ گذشتہ 75 سالوں میں صرف 11 لیفٹیننٹ جنرلز نے ایک سے زائد کورزکی کمان کی اور بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اُن میں سے ایک ہیں۔ چکوال سے تعلق رکھنے والے فیض حمید اپنے کریئر میں بطور بریگیڈیئر راولپنڈی میں 10 کور کے چیف آف سٹاف کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ بطور میجر جنرل انھوں نے پنوں عاقل ڈویژن کے جنرل کمانڈنگ افسر کے طور پر کام کیا اور اس کے بعد تقریباً ڈھائی سال وہ آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلیجنس ونگ کے سربراہ رہے، اس عہدے کو ڈی جی سی کے مخفف سے جانا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل بننے کے بعد دو ماہ کے لیے انھوں نے بطور ایڈجوٹنٹ جنرل کام کیا جس کے بعد 2019 میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ڈی جی ائی ایس ائی عاصم منیر کو اچانک عہدے سے ہٹا کر فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی چیف مقرر کر دیا۔ وہ دو سال سے زائد عرصہ کے لیے اس عہدے پر کام کرتے رہے۔
2021 میں فیض حمید آٹھ ماہ کے لیے کورکمانڈر پشاور کے طور پر کام کرتے رہے اور بعد ازاں چند ہفتے کے لیے کور کمانڈر بہاولپور بھی ہوئے۔ ان کو ان عہدوں پر لگانے کا بنیادی مقصد ارمی چیف کے عہدے کے لیے اہل کرنا تھا چونکہ کور کمانڈ کیے بغیر کوئی بھی فوجی افسر آرمی چیف نہیں بن سکتا۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان کا یہ منصوبہ چوپٹ ہو گیا اور عاصم منیر نئےآرمی چیف تعیینات ہو گئے۔ فیض نے نومبر 2022 میں جنرل عاصم منیر کے عہدہ سنبھالنے کے اگلے ہی روز فوج سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
فیض حمید نے کن سیاستدانوں اور صحافیوں کو قتل کرانے کی سازش کی؟
بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے علاوہ کے علاوہ فیض حمید کا جنرل باجوہ اور ان کے خاندان سے بھی ذاتی تعلق تھا اور دونوں بزنس پارٹنر بھی رہے۔ بطور بریگیڈیئر فیض حمید نے سنہ 2015 میں تب کے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت کام کیا۔ بریگیڈیئر فیض حمید راولپنڈی کور کمانڈر باجوہ کے چیف آف سٹاف تھے اور یہیں سے ان کا جنرل قمر باجوہ سے ایک مضبوط اور ذاتی تعلق بنا۔ سال 2016 میں آرمی چیف بننے کے فوراً بعد جنرل قمر باجوہ نے میجر جنرل فیض حمید کا پنوں عاقل سے تبادلہ کرتے ہوئے انھیں آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس تعینات کیا۔ جنرل (ر) فیض کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔ 27 نومبر 2017 کو حکومت پاکستان اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے آخر میں بوساطت میجر جنرل فیض حمید لکھا ہوا تھا۔ یہی وہ معاہدہ تھا جس کی بدولت جنرل فیض حمید کا نام عوامی حلقوں میں معروف ہوا جس اس کے بعد یہ سلسلہ رک نہیں پایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دھرنے کے پیچھے بھی فیض حمید کا ہی ہاتھ تھا اور اسے ختم کروانے میں بھی انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اسی دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے ’اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا جس پر اب ایک دوسرے کیس میں عمل درامد شروع ہو چکا ہے۔
