فیض کو ریٹائرمنٹ کے بعد کس واردات پر کورٹ مارشل کا سامنا ہے؟

عمران خان کے سابق دست راست اور ائی ایس ائی کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید کی ڈرامائی گرفتاری کے بعد سے مسلسل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس ایکشن کا تعلق 9 مئی کے واقعات اور عمران خان اور ان کی جماعت سے بھی ہے۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی بات تو سامنے نہیں آ سکی لیکن عمران خان نے فیض حمید کو "ڈس اون” ضرور کر دیا ہے جس سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کی گرفتاری اور کورٹ مارشل کے اعلان کے بعد سے سیاسی و سماجی حلقوں میں فوجی افسران کے سیاسی کردار اور ان کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات پر بحث نے زور پکڑ رکھا ہے۔
اگرچہ آئی ایس پی آر کے بیان میں کسی سیاسی جماعت یا سیاستدان کا ذکر تو نہیں کیا گیا مگر یہ بیان سامنے آنے کے بعد متعدد صحافی و تجزیہ کار ٹی وی چینلز پر اپنے تجزیوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف اور فیض حمید کے قریبی تعلقات کا ذکر بھی کرتے دکھائی دیے۔ خیال رہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران نے ملک میں اتحادی حکومت قائم کی اور 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا تھا۔ بطور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پی ٹی آئی اور اس وقت کے وزیرِاعظم عمران خان کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے اور اس قربت کا تاثر خود عمران خان اور ان کے مخالفین کے متعدد بیانات سے بھی مضبوط ہوا۔
عمران کے مخالفین کو پریشان کرنے والا فیض حمید اب خود سخت پریشان
پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں عمران خان اکثر اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ چونکہ ماضی میں جنرل حمید گل، جنرل احمد شجاع پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام پراجیکٹ عمران خان لیکر چلتے رہے تھے اور اس کی تکمیل جنرل فیض حمید نے کی تھی لہذا عمران خان انکے باقاعدہ پرس تار تھے اور اسی وجہ سے انہیں اگلا آرمی چیف بھی بنانا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی فیض اور عمران کے ساتھ پی ٹی آئی کا نام منسوب کیا جاتا ہے۔ عمران خان کے دور اقتدار کے آخری چند ماہ کے دوران ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی سے متعلق معاملے پر فوج اور ان کی حکومت کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ عمران نے بعدازاں اپنی حکومت کے خاتمے میں اس مبینہ تنازعے کو بھی ایک وجہ قرار دیا تھا۔
فیض حمید نے کن سیاستدانوں اور صحافیوں کو قتل کرانے کی سازش کی؟
جب اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ختم کیا گیا تو اس کے کچھ عرصہ بعد مئی 2022 میں عمران نے کہا تھا کہ انھیں پہلے ہی معلوم ہو چکا تھا کہ اس وقت کی اپوزیشن پی ٹی آئی کی حکومت کو ہٹانا چاہتی ہے۔
عمران خان نے اس انٹرویو میں اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس لیے میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے انٹیلیجنس چیف فیض حمید تبدیل ہوں، خاص طور پر جب تک یہ سردیاں نہ گزر جائیں کیونکہ انٹیلی جنس چیف حکومت کی آنکھیں اور کان ہوتا ہے۔‘ خیال رہے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو 2021 میں آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس وقت پاکستانی میڈیا پر یہ خبریں بھی چلی تھیں کہ عمران اور پاکستانی فوج کے درمیان اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کے حوالے سے ایک محاذ آرائی چل رہی تھی۔اسی دوران یہ چہ مگوئیاں بھی گردش کرتی سنائی دیں کہ وزیر اعظم عمران خان، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو پاکستانی فوج کا نیا سربراہ مقرر کرنا چاہتے ہیں۔
مئی 2022 میں ایک انٹرویو کے دوران فیض حمید کے آرمی چیف بنائے جانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’جنرل فیض تھا آئی ایس آئی چیف، آئی ایس آئی چیف کا وزیراعظم سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ میں تو کسی اور فوجی کو جانتا نہیں تھا، میں تو کسی اور جنرل کو نہیں جانتا تھا۔‘ یاد رہے کہ فیض حمید عمران خان کے مفادات کی تکمیل کے لیے اخری حد تک جایا کرتے تھے۔ جولائی 2018 میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ایک تقریب کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ فیض حمید ان پر عمران خان کے مخالفین کے خلاف فیصلے دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انھوں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا نام لے کر الزام عائد کیا تھا کہ 2018 میں عام انتخابات سے قبل ’سابق لفٹیننٹ جنرل فیض حمید ان کے گھر آئے اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی درخواستوں کو نہ سننے کا کہا تھا۔‘
پی ٹی آئی کے مخالفین کا آج بھی یہی موقف ہے کہ جنرل فیض حمید نے بطور آئی ایس آئی چیف عمران خان کی حکومت چلانے میں مدد کی اور ان کی گرفتاری کے بعد بھی پی ٹی ائی کے چیف منصوبہ ساز کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹرعرفان صدیقی نے اس الزام کو دہرایا ہے کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سیاسی معاملات سمیت مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے، پی ٹی آئی دور میں قانون سازی کے لیے اسمبلی اجلاسوں میں اراکین کی حاضری پوری کروانے اور بجٹ منظور کروانے کے معاملات میں بھی ملوث رہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پارلیمنٹ میں ایک کمرہ مخصوص تھا جہاں فیض حمید سے منسلک ایک افسر بیٹھتے تھے اور اسمبلی کے اجلاس پر نظر رکھتے تھے کہ کون سا بِل آ رہا ہے۔ ‘
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید کے حوالے سے عمران خان کا یہ موقف درست نہیں کہ وہ ان کے ساتھ رابطے میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیض عمران خان کے چیف منصوبہ ساز تھے اور نو مئی کے ہنگاموں کی پلاننگ بھی انہوں نے کی تاکہ فوج میں جنرل عاصم منیر کے خلاف بغاوت کی جا سکے۔ ان کے مطابق آئی ایس پی آر کے فیض بارے بیان میں موجود ایک سطر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کے خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں صاف تحریر کیا گیا ہے کہ فوج کا کوئی بھی افسر ریٹائرمنٹ کے دو برس تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ سینیٹر عرفان صدیقی آئی ایس پی آر کے بیان پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ وہ نکتہ ہے جس پر لوگ شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ فیض نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایسے کون سے کام کیے ہیں جن کی وجہ سے ائی ایس پی آر ترجمان نے پریس ریلیز میں اس بات کا ذکر کیا ہے۔ ویسے بھی فوج نے اپنے بیان میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کرنے کی بات کی ہے اور یہ ’اس ہی وقت ہوتا ہے جب کسی کے خلاف انکوائری ہو چکی ہے اور فوج کے پاس ثبوت موجود ہوں۔‘
