جوڈیشل کمیشن کا بڑا فیصلہ، تین عمرانڈوججز مختلف ہائیکورٹس میں منتقل

اسلام آباد میں ہونے والا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس محض رسمی کارروائی ثابت نہیں ہوا بلکہ اس نے پاکستان کے عدالتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت رقم کر دی ہے۔ کمیشن نے تین اہم ججز کے تبادلوں کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ قیاس آرائیوں سے نکل کر عملی شکل اختیار کر گیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اکثریتی رائے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائیکورٹ تبادلے کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کے تبادلے کے حق میں 9 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ جسٹس بابر ستار کے تبادلے کی مخالفت میں 3 ووٹ سامنے آئے۔
اجلاس کے دوران بعض دیگر مجوزہ تبادلوں میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی، جہاں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلوں کی سفارش واپس لے لی۔
اہم پیش رفت یہ بھی رہی کہ جسٹس بابر ستار نے اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط لکھ کر مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت کسی بھی جج کے تبادلے سے قبل اسے ذاتی طور پر سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے کمیشن سے درخواست کی تھی کہ فیصلہ کرنے سے پہلے انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے، جس سے اس معاملے کی حساسیت مزید واضح ہو گئی۔
ان منظوریوں کے باوجود، ججز کے تبادلوں کا معاملہ عدالتی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے ابتدا میں بعض تبادلوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ووٹنگ کے دوران حکومتی مؤقف کو تقویت ملتی دکھائی دی، جس کے نتیجے میں یہ فیصلے اکثریت سے منظور ہو گئے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ ججز کے تبادلے بظاہر انتظامی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن ان کے اثرات عدالتی خودمختاری پر براہ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس تناظر میں کہ بعض اطلاعات کے مطابق ججز کو مرکزی شہروں کے بجائے علاقائی بنچوں جیسے ملتان، بہاولپور اور بنوں میں تعینات کیے جانے کی تجاویز بھی زیر غور رہی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ فیصلہ نہ صرف ججز کے کیریئر بلکہ انصاف کی فراہمی کے نظام پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو عدلیہ اور حکومت کے درمیان طاقت کے توازن کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف تبادلوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے پاکستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عدالتی خودمختاری کے مستقبل پر بھی اہم سوالات اٹھتے نظر آتے ہیں۔یوں، جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس نے ایک سادہ انتظامی عمل کو ایک بڑے آئینی اور سیاسی مباحثے میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔

Back to top button