اداکار یاسر حسین نے فلم سنسر بورڈ کو نااہل کیوں قرار دیا

100 بچوں کے قاتل سیریل کلر جاوید اقبال بارے بنائی جانے والی تھرلر فلم میں جنونی قاتل کا مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار یاسر حسین اپنی فلم کی نمائش روکے جانے پر پھٹ پڑے ہیں اور انہوں نے فلم سینسر بورڈ کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ فلم سنسر بورڈ سے پاس کیے جانے کے باوجود تھرلر فلم ’جاوید اقبال: ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘ کی نمائش روک دی گئی ہے اور اس کے ری ویو کے لیے 16 لوگوں پر مبنی بورڈ بنا دیا گیا ہے۔

اداکار یاسر حسین نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مرتبہ سینسر بورڈ سے پاس ہو جانے کے بعد حکومت کی طرف سے فلم کی ریلیز کو روک لینے کا اقدام سمجھ میں نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ‘سینسر بورڈ میں نااہل لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جنھوں نے پہلے صحیح ریویو نہیں کیا۔یاسر حسین نے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ ’فلم پر پابندی کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آئی، معلوم نہیں کہ فلم ’جاوید اقبال‘ میں بولا گیا سچ ہضم نہیں ہوا یا کسی کو شو پر بُلانا بھول گئے۔

اداکار نے مزید لکھا کہ کیا اس ملک کے سینما میں صرف کرکٹ میچ اور ٹی وی ڈرامے چلیں گے، یا فلم میکرز کو بھی کوئی چانس ملے گا۔‘ انہوں نے لکھا کہ جس ملک میں ڈالر ہی قابو پر نہ آرہا ہو وہاں آرٹ کی کیا دہائی دی جائے، افسوس صد افسوس۔ خیال رہے کہ محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب نے یاسر حسین اور عائشہ عمر کی فلم ’جاوید اقبال: ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘ کی نمائش روک دی ہے۔

فلم 28جنوری کو ریلیز کی جانی تھی، فلم کو تمام سنسر بورڈز نے پاس کردیا تھا لیکن فلم کی کہانی پر مختلف شکایات ملنے پر نمائش روکی گئی۔ اب فلم کو دوبارہ دیکھا جائے گا اور فل بورڈ فلم کی ریلیز کا فیصلہ کرے گی، فلم 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی کہانی پر مبنی ہے ۔

بلال سعید کا کریں کی بہن کے ساتھ نیا گانا تیار ہو گیا

فلم کو نمائش سے صرف ایک دن پہلے ریلیز کرنے سے روک دیا گیا جبکہ اس کا پریمئر بھی ہو چکا تھا۔ یاسر حسین اور عائشہ عمر کی ہارر تھرلر فلم کا پریمیئر کراچی میں منعقد کیا گیا تھا۔ اب اس معاملے پر یاسر حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ‘کچھ تو آزادی رائے کا اختیار ہونا چاہیے۔ یہ ایک اتنا بڑا واقعہ تھا جس پر فلم بننی چاہیے۔ ‘انڈیا نے ہم سے پہلے اس پر فلم بنا لی تھی جو بہت ہی تھکی ہوئی تھی اب بھی یوٹیوب پر موجود ہوگی۔

یاسر حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ تو کام کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، ورنہ آپ کے سینما گھروں میں صرف کرکٹ اور ساس بہو کے ڈراموں کی پہلی اور آخری اقساط ہی دکھائی جائیں گی۔فلم ریلیز نہ ہونے پر سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی کافی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ٹوئٹر پر معروف وکیل حسان نیازی نے لکھا کہ ‘فلم کو عین اس وقت روک دیا گیا جب اس کو ریلیز ہونا تھا۔ اگر ایسے ہی ہوتا رہا تو پروڈیوسر بھاگ جائیں گے۔

ایک اور صارف فرزین امین کے مطابق ’حکومت کی طرف سے جاوید اقبال بارے بنی فلم پر پابندی عائد کرنا بہت مایوس کن ہے۔ ہمارے معاشرے میں منفی کردار بھی پائے جاتے ہیں اور وہ کہانیاں بھی سنائی جانی چاہییں۔’ ایک صارف عبداللہ خان نے لکھا کہ ‘میں نے جاوید اقبال فلم کا ہریمئیر دیکھا ہے۔ یہ بہت اچھی تھی۔ فلم ‘خدا کے لیے’ کے بعد یہ بہترین فلم ہے، ایک اور صارف ’پیٹریاٹ ان ٹو ٹریٹر‘ نے لکھا کہ ‘فلموں کا زیادہ دلدادہ نہیں لیکن جاوید اقبال پر بنی فلم کا شدت سے انتظار ہے۔

Back to top button