عام شہریوں کے بعد طاقتور سیاستدان بھی جعلسازوں کےنشانے پر

جعلسازوں کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بعد اب مختلف اداروں کے نام۔پر فون کالز کے ذریعے عوام کا نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تاہم حالیہ صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ نئی حکمت عملی خی وجہ سے جہاں عوام جعلسازوں کے شکنجے میں آ رہے ہیں وہیں دوسری جانب مختلف جماعتوں سے وابستہ اراکین اسمبلی کے بھی جعلسازوں کے ہاتھوں لٹنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ جس پر متعلقہ حکام نے کوئی ٹھوس کارروائی کرنے کی بجائے عوام کو سوشل میڈیا پر محتاط رہنے اور ان چاہے لنک پر کلک نہ کرنے بارے ایڈوائزری جاری کر کے خاموشی اختیار کر لی ہے۔
خیال رہے کہ آج کل جعلساز پی ٹی اے، ایف آئی اے، پولیس یا کسی حساس ادارے کے نمائندے بن کر اسی ادارے سے وابستہ نمبر کی طرح کے جعلی نمبر سے کال کرتے ہیں اور شناختی معلومات یا بینک کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بندہ آسانی سے جعلسازوں کے نرغے میں آجانا ہے اور اپنی ساری معلومات فراہم کر کے بڑا نقصان کروا بیٹھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جعل ساز اب اداروں کا سہارا لے کر شہریوں کو خوف زدہ کرتے ہیں اور اُن سے ایسی معلومات حاصل کر لیتے ہیں، جن کی مدد سے آن لائن بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل شناخت تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔یہ سائبر حملے صرف عام شہریوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب ارکانِ پارلیمنٹ بھی اِن کا شکار ہو رہے ہیں۔ جس کے بعد جعلی کالز اور سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے فراڈ کا معاملہ قومی اسمبلی تک جا پہنچا ہے۔
قومی اسمبلی کے 15ویں اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکنِ اسمبلی انجم عقیل خان نے سوال اٹھایا کہ شہریوں کو جعل سازوں کی جانب سے دھوکہ دہی پر مبنی کالز موصول ہو رہی ہیں، ایسے میں متعلقہ ادارے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ اس حوالے سے کی گئی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی بھی ایسی ہی جعل سازی کا نشانہ بنی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ آسٹریلیا میں مقیم تھیں، تو اُنہیں ایک ساتھی رکنِ اسمبلی کے نام سے واٹس ایپ پر پیغام موصول ہوا۔شاہدہ رحمانی کے مطابق ’واٹس ایپ پر اُن سے مالی مدد کی درخواست کی گئی تھی۔ بظاہر یہ پیغام حقیقی معلوم ہو رہا تھا کیونکہ بھیجنے والے کو یہ بھی علم تھا کہ وہ اس وقت بیرونِ ملک ہیں۔‘انہوں نے مزید بتایا کہ ’جعل سازوں نے اُن کے نام سے بھی سوشل میڈیا پر جعلی پروفائلز بنا کر اُن کے دوستوں اور رشتہ داروں سے رقم طلب کی۔‘شاہدہ رحمانی نے سوال اٹھایا کہ آخر شہریوں کی ذاتی معلومات، فون نمبرز اور لوکیشن کی تفصیلات جعل سازوں تک کیسے پہنچ رہی ہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ ’پی ٹی اے سمیت دیگر متعلقہ ادارے ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کر رہے؟‘
تاہم دوسری جانب اس حوالے سے پی ٹی اے حکام کا کہناہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے شہریوں کو متعدد بار خبردار کیا جا چکا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک کال پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز فراہم نہ کریں۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق ’کوئی بھی سرکاری ادارہ فون کال یا میسج کے ذریعے شہریوں سے شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیل یا او ٹی پی یعنی ون ٹائم پاس ورڈ جیسی معلومات طلب نہیں کرسکتا۔‘
پی ٹی اے کے مطابق’جعلی پروفائلز کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ضابطے میں لانا ضروری ہے، تاہم جعل سازوں کی شناخت میں درپیش تکنیکی رکاوٹیں تاحال اس عمل میں تاخیر کا سبب ہے۔‘
تاہم اس صورتحال بارے سائبر سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ جعل سازوں کی جانب سے جعلی کالز یا پیغامات کے ذریعے شہریوں سے او ٹی پی اور دیگر ذاتی معلومات حاصل کرنے، معلومات کو مالی فراڈ کے لیے استعمال کرنے اور سوشل میڈیا پروفائلز ہیک کر کے یا کسی معروف شخصیت کے نام سے جعلی پروفائل بنا کر اُس کے دوستوں اور اہلِ خانہ سے رقم طلب کرنے کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سائبر حملوں سے بچاؤ کے طریقہ کار بارے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’جب تک صارفین خود اپنی معلومات فراہم نہیں کرتے، کسی بھی سائبر حملہ آور کے لیے کامیاب ہونا ممکن نہیں۔‘انہوں نے زور دیا کہ شہری کسی بھی مشکوک کال، میسج یا پروفائل کو نظرانداز کریں اور فوری طور پر پی ٹی اے یا ایف آئی اے میں شکایت درج کروائیں۔
