سعودیہ کے بعد دیگر ممالک بھی دفاعی معاہدے میں شمولیت کے خواہاں ہیں،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی سے خطاب میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے بعد دیگر عرب اور مسلم ممالک بھی اس اتحاد میں شمولیت کے خواہاں ہیں، جو مستقبل میں ایک نیٹو طرز کے مشترکہ دفاعی بلاک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ انہوں نے کہا، "ہر پاکستانی حرمین شریفین کی حفاظت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں خادم حرمین کے درجے پر فائز کیا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اس معاہدے کی مکمل تفصیلات جلد سامنے لائیں گے۔ "یہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ نہیں رہے گا، بلکہ کئی دیگر مسلم ممالک اس میں شامل ہونے کے لیے دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔”

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی نوعیت اجتماعی دفاع کی ہو گی — یعنی اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہو گا تو وہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا ہوتا اور یہ معاہدہ موجود ہوتا تو اسے سعودی عرب پر حملہ شمار کیا جاتا۔

اسحاق ڈار نے کہا، "ہم اللہ کے شکر گزار ہیں کہ یہ معاہدہ ہمارے دور حکومت میں ہوا، اور پاکستان اسلامی دنیا کا دفاعی محافظ بن گیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بعض قومی راز ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ سینوں میں دفن رہتے ہیں، اور ان کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

Back to top button