فارن فنڈنگ کیس میں حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں

الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر کو پی ٹی آئی کی بینک دستاویزات کے معائنے کی اجازت دیئے جانے اور سکروٹنی کمیٹی کو اپنا کام 31 مئی تک ختم کرنے کے احکامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس کیس کا فیصلہ جلد کرنے والا ہے جس سے حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی اسکروٹنی کرنے والی کمیٹی کو مئی کے اختتام تک کام مکمل کرنے اور فریقین کو کمیشن کی عمارت کے اندر مخصوص اوقات کے دوران ایک دوسرے کے خلاف جمع کروائے گئے ثبوتوں اور شواہد کا جائزہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے حوالے سے کیس کے مدعی اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پروفیشنل آڈیٹرز کی موجودگی میں پی ٹی آئی کی دستاویزات کے مطالعے کی اجازت سے اسکروٹنی کا عمل تیز کرنے اور اسے معتبر بنانے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ اکبر ایس بابر بارہا یہ الزام لگا چکے ہیں کہ تحریک انصاف کے مبینہ طور پر چھپائے گئے غیر ملکی بینک اکائونٹس کی چھان بین کے لئے الیکشن کمیشن کی تشکیل کرد سکروٹنی کمیٹی باقاعدہ پارٹی بن کر پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور اسی لیے انکو تحریک انصاف کی جمع کروائی گئی دستاویزات تک رسائی کی اجازت نہیں دیتی۔ سکروٹنی کمیٹی اکبر بابر کو اپنے شواہد کی مدد سے ہی کیس کو ثابت کرنے کا کہتی رہی ہے۔ تاہم اب الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کی مطلوبہ دستاویزات تک رسائی دینے اور مئی کے آخر تک تحقیقات نمٹانے کا فیصلہ سنا کر 6 برس سے لٹکا ہوا کیس تیزی سے آگے بڑھانے کی راہ ہموار کی ہے۔

ای سی پی نے اپنا حکم پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے اسکروٹنی کمیٹی کے حکمراں جماعت کی مالی دستاویزات خفیہ رکھنے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سنایا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں پی ٹی آئی کے تمام اکاؤنٹس تک رسائی کا درخواست گزار کا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے 30 مئی 2016 کو سنائے گئے ایک حکم کے تحت فریق یعنی پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے فنڈز سے متعلق کارروائی خفیہ رکھنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ اپنے فیصلے میں کمیشن نے کہا تھا کہ جس ریکارڈ کی اسکروٹنی کی جارہی ہے وہ عوامی دستاویزات ہیں جنکی نقل ہر کوئی حاصل کرسکتا ہے۔ ای سی پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہم نے درخواست گزار کو آگاہ کیا تھا کہ تمام کارروسئینخے بعد اسکروٹنی کمیٹی اپنی رپورٹ تمام ریکارڈز کے ساتھ کمیشن کو بھجوائے گی اور پھر ہمیں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کرنا ہوگا ۔کمیشن نے کہا کہ جب معاملہ ہمارے پاس آئے گا تب تمام فریقین دستاویزات کی نقول حاصل کرسکتے ہیں۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے زیر التوا معاملے میں مزید تاخیر سے بچنے اور درخواست گزار کو ریکارڈ کی نقل فراہم کرنے کا معاملہ حل کرنے کے لیے کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی کو فریقین کو صبح 10 سے دوپہر 3 بجے تک دستاویزات کا معائنہ یا مطالعہ کرنے کے لیے 8 روز کی مہلت دی جائے۔ دونوں فریقین کو دستاویزات کے مطالعے کے لیے تکنیکی ماہرین مثلاً چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور کسی مالیاتی ماہر کی مدد حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ فریقین کو اپنے تکنیکی ماہرین کے نام 5 روز میں کمیشن کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے جو مذکورہ بالا عرصے میں اپنے اپنے وکلا کے ہمراہ کمیٹی کی کارروائی میں شامل ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی حکم دیا کہ ریکارڈ کی سیکیورٹی، نگرانی اور معاونت کے لیے ڈی ڈی لاء اور ڈی ڈی سیکریسی تعینات کیے جائیں اور انہیں مذکورہ بالا وقت پر موجود رہنے کی ہدایت کی جائے۔ اسکروٹنی کمیٹی کو تمام ریکارڈ یعنی درخواست گزار، فریقین کے جمع کروائے گئی دستاویزات اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ تمام دستاویزات کی اسکروٹنی کرنے، شواہد کا جائزہ لے کر ایک حتمی رائے قائم کرنے اور اس کے بعد تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ، جامع رپورٹ مئی 2021 کے اختتام تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب مدعی مقدمہ اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ پروفیشنل آڈیٹرز کے ذریعے پی ٹی آئی کی دستاویزات کے مطالعے کی اجازت سے اسکروٹنی کا عمل تیز کرنے اور اسے معتبر بنانے میں مدد ملے گی۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سالانہ مالیاتی گوشواروں میں چھپائے گئے فارن بینک اکائونٹس کی چھان بین کے لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے تین سال قبل تشکیل دی جانے والی سکروٹنی کمیٹی نہ صرف مقررہ وقت کے دوران اپنا ٹاسک مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس کی جانبداری بھی مسلمہ ہے۔ پٹیشنر اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے جمع کروائے گئے بینک اکائونٹس کی تفصیلات اور دیگر شواہد ایک نظر دیکھنے کی درخواست بھی کمیٹی کی جانب سے بار ہا مسترد کی جاتی رہی ہے حالانکہ الیکشن کمیشن ان دستاویزات کو بہت پہلے ہی پبلک ڈاکومینٹس قرار دے چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے۔مطابق کمیشن کی جانب سے فریقین کو دستاویزات تک رسائی اور تحقیقات کے حوالے سے ڈیڈ لائن ملنے کے بعد فارن فنڈنگ کیس کی کارروائی تیز تر ہونے کی امید کی جا رہی ہے تاہم حکومت کو اس فیصلے سے دھچکا لگا ہے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔ کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر ملکی فنڈز میں سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button