مجھے سپریم کورٹ سے نکالنے کی سازش ہو رہی ہے

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نظرثانی کیس کی سماعت میں دلائل دیتے ہوئے دعوی کیا یے کہ ان کو بطور جج سپریم کورٹ ہٹانے کی سازش کی جا رہی ہے جسکی بنیادی وجہ تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنا کیس میں انکی جانب سے دیا جانے والا حق اور سچ پر مبنی فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر سازشوں کے باوجود میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا اور ہمت نہیں ہاروں گا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ثانی کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے بعد مجھ پر قیامت برپا کی گئی، علامہ خادم رضوی نے دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف کوئی نظر ثانی اپیل دائر نہیں کی، لیکن علامہ خادم رضوی کے علاوہ باقی سب نے فیض آباد دھرنا فیصلہ چیلنج کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزرات دفاع اور شیخ رشید احمد نے بھی نظر ثانی دائر کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے بھی فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کی، اور تحریک انصاف کی نظرثانی درخواست میں تو یہ تک کہا گیا کہ میں پاگل ہوں اور جج بننے کا اہل ہی نہیں ہوں، انہوں نے کہا کہ میں واقعی جج بننے کا اہل نہیں ہوں کیوں کہ میں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہوں۔
جستس عیسی نے کہا کہ وزیر قانون فروغ نسیم نے مجھ پر اور میری اہلیہ پر سنگین الزامات لگائے، میرے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قراردینےکا فیصلہ آئین و قانون پرمبنی تھا، میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں پھر بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، انہوں نے کہا کہ فروغ نسیم جیسے لوگوں کے لیے عدالت کا کوئی احترام نہیں، صرف وزارت بچانا ضروری ہے۔ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی فروغ نسیم تحریری دلائل جمع کراتے رہے، اور وہ پہلا وزیرقانون ہے جس نے آئین پاکستان کو بنیادی حقوق سے متصادم قراردیا، انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلے ہی ایف بی آر کو میرے خلاف کارروائی مکمل کرنے کا حکم دے دیا گیا جب کہ ٹیکس کمشنر ذوالفقار احمد نے عدالت کے دباؤ میں آکرکارروائی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے میرے خلاف بدنیتی پرمبنی کارروائی کی اور کبھی مجھے صفائی کا موقع نہیں دیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے انصاف کا قتل عام کیا۔
جسٹس عیسی نے کہا کہ میرے خلاف نااہلی کا صدارتی ریفرنس دائر کرنے والے صدر علوی نے میرے تینوں خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا، مجھے اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی کاپی نہیں ملی لیکن میڈیا پر بینڈ باجا شروع ہوگیا، میرے اور اہلخانہ کیخلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی۔ جسٹس قاضی فائز نے اپنے دلائل میں کہا کہ آصف سعید کھوسہ نے میرا مؤقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا، میرے ساتھی ججز نے جوڈیشل کونسل میں مجھے پاگل شخص قراردیا، کہا گیا کہ عمران خان کی فیملی کے بارے میں بات نہیں ہوسکتی، لیکن میرے خاندان کے خلاف باتیں کی گئی ہیں اور ان کا میڈیا ٹرائل کیا گیا۔
جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، ہمت نہیں ہاروں گا، مجھے بطور جج سپریم کورٹ عہدے سے ہٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں نے فیض آباد دھرناکیس کا فیصلہ دیا، انہوں نے کہا کہ مرحوم خادم رضوی نے بھی فیض آباد دھرنا کیس فیصلےکیخلاف نظرثانی اپیل دائرنہیں کی لیکن حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں نے دھرنا کیس میں میرا فیصلہ چیلنج کیا اور کہا کہ میں جج بننے کا اہل نہیں ہوں۔
یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نومبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنے کے عدالتی فیصلے میں تحریک لبیک کے بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہونے سے متعلق لکھا تھا کہ اس جماعت نے پارٹی فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں اور الیکشن کمیشن نے اس بارے میں بے بسی کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا بھی ذکر ہے کہ وہ ان افراد میں شامل تھے جو تحریک لبیک پاکستان کے فیض آباد دھرنے کی حمایت کر رہے تھے۔ اس دھرنے کی حمایت کرنے والوں میں سابق فوجی آمر ضیا الحق کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق اور تحریک انصاف کے علما ونگ کا بھی ذکر ہے کہ انھوں نے بھی ٹی ایل پی کے دھرنے کی حمایت کی۔
شیخ رشید اور حکمراں جماعت سمیت دیگر فریقین نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں بھی دائر کر رکھی ہیں جو دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں۔ اس فیصلے میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کی قیادت اور اس کے مالی معاملات کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کا بھی ذکر ہے جبکہ آئی ایس آئی نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اس طرح کی معلومات اکھٹی کرنا ان کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔
