عمران کی قید لمبی ہونے کی صورت میں علیمہ خان وزیر اعظم

 

اگر عمران خان لمبی قید کی سزا ملنے کی صورت میں اپنا سیاسی سفر جاری نہ رکھ سکے تو چند برس بعد علیمہ خان کی قیادت میں تحریک انصاف کا برسر اقتدار آنا خارج از امکان نہیں، عمران کی غیر موجودگی میں پی ٹی آئی کی قیادت کا ہما فی الحال علیمہ خان کے سر پر بیٹھ چکا ہے لہذا ہر انہونی کا امکان موجود ہے اور علیمہ خان وزیر اعظم بھی بن سکتی ہیں۔

معروف لکھاری اور کالم نگار حفیظ اللہ نیازی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ چند مہینوں سے انہیں یہ خدشہ لاحق ہو رہا ہے کہ جیل میں قید عمران خان کی سیاسی موت کا بندوبست کیا جا رہا ہے جس میں مرکزی کردار علیمہ خان ادا کر رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی فوج مخالف سیاست نے عمران کی قید لمبی کر دی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ جب جب عمران خان گرفتار ہو کر اٹک جیل منتقل ہوئے تھے تو انہوں نے عمران کے لواحقین کو پیغام پہنچایا تھا کہ سیاست میں ہوشمندی کے ساتھ معاملہ فہمی درکار ہے لہذا اس راستے پر نہ چلیے گا جو پارٹی کو بند گلی میں لے جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے افہام و تفہیم کے ساتھ بات چیت کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، میری رائے یہ تھی کہ سب سے پہلی ترجیح زندگی بچانا ہونی چاہیئے، لیکن میری رائے کوئی انصافیہ خاطر میں کیوں لاتا؟ لہذا اج تحریک انصاف اور عمران خان کے جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں مانا کہ عمران اب بھی پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ پچھلے دو برس سے جیل میں بند ہیں اور ان کی مقبولیت ان کی قید کم کروانے کی بجائے اسے بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ اس پیرائے میں بھٹو اور نواز شریف کی سیاست کا تقابلی جائزہ لینا ہوگا۔ نواز شریف نے جنرل مشرف کے ساتھ سعودی عرب میں جلا وطنی کاٹنے کی ڈیل کر کے اپنی جان بچائی تھی ۔ سست سالہ جلا وطنی کے بعد 24 نومبر 2007ء کو جب میاں صاحب لاہور واپس آئے تو ایک فقید المثال عوامی استقبال ان کا منتظر تھا، اسکے بعد نوازشریف جنوری 2022 تک سیاست کا محور رہے۔ چارسُو نواز شریف ہی نواز شریف تھے۔ 2018 کے انتخابات میں دھونس اور دھاندلی سے عمران کو وزیر اعظم بنانے سے پہلے پاکستان میں نواز شریف کی سیاست کا ہی طوطی بولتا تھا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو کسی طور جنرل ضیاء الحق کے سامنے نہ جھکے اور پھانسی کے پھندے پر جھول گے۔ انہیں ضیا کی جانب سے سمجھوتے کی آفر کی گئی لیکن وہ انکاری رہے۔ تاہم حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ میں پیپلز پارٹی کے اس مؤقف سے بالکل متفق نہیں ہوں کہ بھٹو نے اصولوں کی خاطر جان دے کر پارٹی بچا لی۔ میرے خیال میں بھٹو نے جیسے ہی اپنی جان دی، پیپلز پارٹی کی سیاست سے بھی جان نکل گئی۔ جونہی پیپلز پارٹی کی جانشینی بینظیر بھٹو کے پاس آئی، نصرت بھٹو اور محترمہ دونوں جیل سے لندن پہنچ گئیں۔ 10اپریل 1986 کو جب بے نظیر بھٹو لاہور واپس تشریف لائیں تو بلاشبہ تاریخی استقبال ہوا۔ لیکن انہیں عوامی حمایت سے وزیر اعظم بننے کے باوجود اسی ادارے کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا جسں نے کہ بھٹو کی جان لی تھی۔

حفیظ نیازی کہتے ہیں فرض کریں کہ بھٹو بھی نواز شریف کی طرح سمجھوتہ کر کے باہر چلے جاتے اور پھر 10 اپریل 1986 کو واپس آتے تو ان کا بھی بے نظیر بھٹو کی طرح فقید المثال استقبال ہونا تھا۔ میری نپی تلی رائے ہے کہ اگر بھٹو صاحب معاملہ فہمی کرتے ہوئے اپنی زندگی بچا لیتے تو PPP آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہوتی۔
مجھے کسی کی جانشینی سے غرض نہیں ، فقط پاکستانی سیاست پر اسکے اثرات سے مطلب ہے۔ جانشین کے تعین کی جانچ پرکھ کی میری اپنی ایک کسوٹی ہے، جو میرے لئے حرف آخر ہے۔ اگر کسی پارٹی کا ورکر یا سپورٹر میرے سوال کے جواب میں بتائے کہ ’’مرکزی لیڈر کی غیر موجودگی میں کس کی ذات پراعتماد کرنا ہو گا، پارٹی سپورٹر جسکا نام لے گا وہی جانشین بنے گا‘‘۔ اسی معیار پر فروری مارچ 2018ء کی مقبول پارٹی مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو ان کی جانب سے بلا حیل و حجت شہباز شریف کی بجائے مریم نواز کا نام لیا گیا ۔

چنانچہ اب منظر نامہ واضح ہے، نون لیگ کی جانشینی آج مریم نواز کو منتقل ہو چکی ہے۔ لیکن مت بھولیں کہ 2018 میں شہباز شریف مسلم لیگ ن کے صدر تھے۔ وہ 25 سال سے نواز شریف کے نائب کے طور پر کام کر رہے ہیں اور تین مرتبہ پنجاب کے چیف منسٹر رہ چکے ہیں، دوسری طرف جب 2018 میں پارٹی کی جانشینی کا فیصلہ ہوا تو مریم نواز کے پاس نہ تو کوئی پارٹی عہدہ تھا اور نہ ہی وہ کوئی ایم پی اے یا ایم این اے تھیں۔ لیکن مسلم لیگ ن کے چاہنے ماننے والوں نے جانشینی مریم نواز کو سونپ رکھی تھی۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ہم تاریخ میں تھوڑا اور پیچھے جائیں تو اسلام کا چورن بیچنے والے جنرل ضیاء الحق کے بھی پیروکار تھے۔ 17 اگست 1988 کو موصوف کے طیارہ حادثے میں بھسم ہونے کے چند ماہ بعد بینظیر وزیراعظم بنیں تو نواز شریف بطور اپوزیشن لیڈر سامنے آئے، ضیاء الحق کے ماننے چاہنے والے باجماعت نواز شریف کیساتھ جڑ گئے۔ دسمبر 1988 میں اعجاز الحق نے پاکستان منتقل ہو کر سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو میں نے موصوف سے عرض کی کہ ان کو نواز شریف کی قیادت میں سیاسی سفر شروع کرنا ہو گا کیونکہ آپکے والد کے ماننے والے اب نواز شریف کیساتھ ہیں۔ آپ جنرل ضیا کے بیٹے ضرور ہیں مگر آپکے والد کا ووٹ بینک اب نواز شریف کے تصرف میں جا چکا ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ تیسری مثال بھٹو صاحب کی ہے جن کی سیاسی وراثت ان کے بیٹے مرتضیٰ بھٹو کی بجائے بینظیر بھٹو کو منتقل ہوئی۔ اسی فارمولے کے تحت عمران خان کی جانشینی اب علیمہ خان کو منتقل ہو چکی ہے، ان کا کہنا یے کہ چار ماہ پہلے کی سیاسی صورتحال ایسی نہیں تھی کہ عمران کی جانشینی بارے رائے زنی کی جائے۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان بلا شرکت غیرے ان کی سیاسی جانشین بن چکی ہیں۔
آج PTI ورکرز علیمہ خان کی قیادت میں یکسو ہیں۔ ان کے مطابق یہ بات اہم نہیں کہ علیمہ خان کی سیاست سے دلچسپی واجبی ہے یا وقتی ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اگر عمران خان تاحد نگاہ جیل میں رہے یا سیاست سے باہر رہے تو PTI کی سیاست کا محور تو علیمہ خان نے رہنا ہے لہذا پارٹی کی قیادت بھی انہی کے ہاتھ آئے گی۔ اللّٰہ تعالیٰ عمران خان کو عمر خضر عطا کرے اور وہ اگلی کئی دہائیوں تک جسمانی طور پر توانا رہیں، لیکن بالفرض محال عمران خان پورے کروفر سے سیاست میں واپس آتے ہیں تو جانشینی کا شوشہ جھاگ کی طرح بیٹھ جائیگا۔ وہ اپنی سیاست کے حقوق ملکیت بنفس نفیس اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ لیکن خدانخواستہ اگر عمران اپنا سیاسی سفر جاری نہ رکھ سکے تو چند سال بعد علیمہ خان کی قیادت میں تحریک انصاف کا اقتدار میں آنا بعید ازقیاس نہیں کیونکہ پی ٹی آئی قیادت کا ہما علیمہ خان کے سر پر بیٹھ چکا ہے ۔ ایسے میں اگر علیمہ وزیراعظم بھی بن جائیں تو حرج ہی کیا ہے۔

Back to top button