علی امین گنڈاپور نےنئے صوبوں اور صدارتی نظام کی تجویزدیدی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نےنئے صوبوں اور صدارتی نظام کی تجویزدیدی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور نے کالا باغ ڈیم بنانے کی تجویز کے بعد نئے صوبوں کے قیام کی بھی حمایت کردی۔ جبکہ ملک میں صدارتی نظام کے حق میں بھی دلیل سامنے لے آئے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا بھر کے ممالک میں نئے یونٹس بنتے جارہے ہیں، لیکن پاکستان واحد ملک ہے جو اتنی بڑی آبادی کے ساتھ 4 صوبوں پر مشتمل ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ جب چھوٹے یونٹس بن جائیں گے تو گورننس بہترین ہوگی اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ صوبے کا انتظامی سربراہ ہونے کے ناطے فوج ان کے کام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتی، اور نہ ہی اب تک کسی ٹرانسفر یا پوسٹنگ کے حوالے سے فوج کی سفارش موصول ہوئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماضی کے بعض واقعات کی وجہ سے فوج اور عمران خان کے درمیان اعتماد کی کمی ضرور موجود ہے۔ ’میں نے مذاکرات کا آغاز کیا تھا لیکن وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ وقت آنے پر سب کو احساس ہوگا کہ ملک کی بہتری کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ناگزیر ہے۔‘
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ معافی اور انا کی سیاست سے نکل کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کی پالیسی ہے کہ پاکستان کا ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کردار ادا کرے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے انہیں چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت دیگر جماعتوں سے بات کرنے کی ہدایت کی تھی، مگر چونکہ دوسری جماعتیں کمیشن بنانے پر راضی نہیں ہوئیں، اس لیے معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
علی امین گنڈا پور نے کہاکہ 2 اپریل کے بعد سے ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ اگر ملاقات ہوئی تو وہ انہیں قائل کریں گے کہ ایک بار دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے پر غور کریں۔
