امریکا کا ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ شروع، متعدد اہداف نشانے پر

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے جنوبی ایران میں متعدد مقامات پر حملے کیے، جبکہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نئے مرحلے کے آغاز کی تصدیق کر دی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اہواز، سیریک، بندر عباس، قشم جزیرہ، چابہار اور بمپور میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک کے قریب امریکی گولے گرے، جبکہ بندر عباس میں مسلسل تین دھماکے سنے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ایرانی ذرائع کے مطابق قشم جزیرے، چابہار اور بمپور میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بندر عباس، ساحلی علاقوں اور خلیج فارس کے مختلف جزیروں میں سنائی دینے والی دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آبنائے ہرمز میں جاری عسکری تصادم کا نتیجہ ہیں۔ اس کے علاوہ حاجی آباد، ایلام اور کیش آئی لینڈ میں بھی حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات دی گئی ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں کا بنیادی مقصد ایران کی بحری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی تیاری بھی کر رہی ہیں، جبکہ امریکی وقت کے مطابق شام چار بجے سے اس ناکہ بندی پر عمل درآمد شروع کیے جانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

Back to top button