آزاد کشمیر: کشیدگی شدت اختیار کر گئی،جھڑپوں میں 2 اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق

آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 2 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پونچھ کے ڈویژنل کمشنر وحید خان نے بتایا کہ مظاہرین نے ایک سکیورٹی قافلے کا راستہ روک کر اہلکاروں پر حملہ کیا، جس کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔ حکام کے مطابق تراڑکھل میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ راولاکوٹ میں پیش آنے والے ایک الگ واقعے میں ایک مظاہر اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں ٹریفک بحالی آپریشن کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے جتھوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اہلکار شہید ہوئے۔ ان کے مطابق بلوچ بازار کے مقام پر شاہراہ سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری تھا، کیونکہ بند سڑک کے باعث عوام کی آمدورفت، پبلک ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی تھی۔حکام نے واضح کیا کہ کوٹلی۔تراڑکھل شاہراہ ہر صورت ٹریفک کے لیے بحال کی جائے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ آپریشن کے دوران کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد نے مزاحمت اور فائرنگ کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

Back to top button