کشیدگی کے جال میں پھنسا، امریکہ!

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اگر موجودہ کشیدگی چند ماہ اور چلتی رہی تو جنگ عظیم سوئم کا امکان بدرجہ اتم موجود ہے۔ صدر ٹرمپ ایک ایسی خیالی دنیا میں جس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کی دنیا میں جنگیں ایک ٹویٹ سے ختم ہو جاتی ہیں، دشمن ایک ہی ٹویٹ کی مار، ہتھیار ڈال دینے پر مجبور ہے۔ گویا صدر ٹرمپ ایک ایسے فریبِ نظر کے زیرِاثر حکمرانی کر رہے ہیں جہاں ہر مسئلہ ختم قرار پاتا ہے اور کل اسی مسئلہ سے آغاز ہو جاتا ہے۔ ایک طرف ایران کو ’’بیمار لوگوں‘‘ کا ملک قراردیا اور بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، تو دوسری طرف اسی ایران سے مذاکرات جاری رکھے جاتے ہیں، دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ ایرانی سمجھدار اور نیک نیت لوگ ہیں اور ان پر بھروسہ نہ کرنا زیادتی ہے۔

زمینی حقائق صدر ٹرمپ کے خیالی تصور سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور کٹھن ہیں۔ تیل کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار، دنیا ہیجانی کیفیت میں جبکہ اتحادی شدید اضطراب اور بے یقینی میں مبتلا ہیں۔ امریکی اتحادی مایوس جبکہ مخالفین پُراعتماد، جری اور بے باک ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کا ایک حصہ کشیدگی، تصادم اور جنگ کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ اس قدر وسیع اور گہرا ہے کہ اُنکی محض خیالی سوچ نے ہی عالمی نظام کو انتشار، بے یقینی اور افراتفری میں دھکیل دیا ہے۔ ٹرمپ حکومت کے 18 ماہ کے اثرات مٹانے اور اس کی تباہی کا ازالہ کرنے میں خطہ ارضی کو کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔

ایران کسی طور آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں چھوڑے گا۔ آبنائے ہرمز ایران کی سلامتی کی ضامن اور اسکا حفاظتی پشتہ ہے۔ امریکہ ہر صورت آبنائے ہرمز ہتھیانے کی کوشش میں ہے۔ چنانچہ پچھلے 9دنوں سے ایران پر خوفناک بمباری کی وجہ یہی ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکے۔ امریکہ کو کون بتائے کہ یہ کام دھمکیوں سے نہیں 14نکاتی مفاہمتی فارمولے پر عملداری کے ذریعے ممکن ہے۔ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کون کرئیگا ؟ کیا میکنزم ہوگا ؟ یہ امریکہ کا روگ نہ رویہ، فقط ایران اور خلیجی ممالک کا دردِسر ہے۔ ایران ایسی جگہ نہیں جہاں آپ زمینی یا فضائی حملہ کر کے یہ سمجھ لیں کہ آپ کو حقیقی کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ ایران کی زمین اور چٹانوں سے امریکہ کو واقفیت اور نہ ہی ایرانی قوم کی استقامت کا اندازہ۔ ایران کے پاس اسرائیل اور خلیج کے مغربی حصے میں موجود امریکی دفاعی اڈے بلکہ ہر چیز کو تباہ کرنے کی کماحقہ صلاحیت موجود ہے۔ امریکہ کے خلیج میں اثاثوں کی بہتات ہے اور سب ایران کی دسترس میں ہیں۔ ایران کی سہولت کہ اسکے پاس گنتی کے درجن بھر ٹارگٹس ہیں۔ جبکہ امریکہ کو ایران کی جنگی صلاحیت ختم کرنے کیلئے کم از کم دو ہزار مقامات پر بمباری کرنی ہے ۔

ایران کیلئے خاموش بیٹھ کر اپنی تباہی کا انتظار کرنا نا توممکن اور نہ ہی دانشمندی ، چنانچہ ایران کا فیصلہ کہ وہ امریکہ کو منہ توڑ جواب دئیگا ۔ آبنائے ہرمز ایران کا جیتنے والا پتہ، علاقائی سالمیت کا دفاعی حصار ہے چنانچہ کسی صورت آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑے گا۔ بات حتمی! یہ جنگ آخری میزائل اور آخری گولی تک جاری رہتی دکھائی دیتی ہے۔ سوال اتنا کہ پہلے کس کا گولہ بارود ختم ہوگا ؟ آبنائے ہرمز ہی واحد مسئلہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی موجودگی میں اب جوہری مسئلہ اصل مسئلہ ہی نہیں رہا۔ امریکہ نے جس جنگ کا آغاز کیا ہے ، وہ دنیا کو تباہی کے گڑھے میں ڈالنے کو ہے۔ جنگ کے آغاز میں نیتن یاہو کا فرمان کہ وہ 40 سال سے اسکا انتظار کر رہا تھا، نیتن یاہو نے بغیر الفاظ چبائے کہا کہ ” انکو ایران کی تباہی و بربادی دیکھنی تھی”۔ اسرائیلی ہمیشہ سے ایسے حیلے بہانے کی تلاش میں کہ اپنے جوہری ہتھیار وہ ایران پر داغ سکے اور امریکہ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ جاگے اورہوش کے ناخن لے ۔ اسکا قوی امکان موجود کہ ایران بھی جوہری ہتھیار آناً فاناً حاصل کرے اور ادلے کا بدلہ نقد چکائے۔ آج تک تو ایران کے ڈرون اور میزائل ہی اسکی دھاک بٹھا رہے ہیں۔ کل رات جس طرح امریکہ نے ایران پر وحشیانہ بمباری کی، اگر ایران کا کوئی بڑا نقصان ہوا تو وہ کسی لمحہ امریکہ کا کوئی بڑا بحری بیڑہ ڈبونے میں نہیں ہچکچائے گا اور نتیجتاً جنگ مزید خوفناک شکل اختیار کر جائیگی ۔

صدر ٹرمپ کو ہزاروں امریکی دانشمندوں کا مشورہ ایک ہی ’’بس ایران سے نکل جائیں اور ٹویٹر پر اپنی فتح کا اعلان کر دیں‘‘۔ کامیابی کا دعویٰ کریں اور واپس گھروں کو روانہ ہو جائیں ، اسی میں پوری دنیا کی سلامتی ہے ۔ امریکہ کیلئے سب سے کم نقصان دہ راستہ بھی یہی ہے۔ 38روزہ جنگ کا بھی یہی سبق تھا چنانچہ ایران کی شرائط پر 14نکاتی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے ۔ موجودہ صورتِ حال پہلے سے کہیں زیادہ گھمبیر ’’بدترین شکست‘‘ افق پر منڈلا رہی ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلوانے سے قاصر ہے اور دوسری طرف انصاراللہ ( حوثی ) زیادہ طاقت سے ابھر کر آچکے ہیں، بحیرہ احمر اور باب المندب کو بند کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ۔ حزب اللہ کا نہ ختم ہونے کا سلسلہ، اسرائیل کا دردِ سر بن چکا ہے ۔ تاہم صدر ٹرمپ کو واپس جنگکی طرف لوٹنا پڑا۔ اب اگر صدر ٹرمپ آبنائے کو محفوظ بنائے بغیر اور لبنان کا مسئلہ حل کئے بغیر واپس ہٹتے ہیں ، توانہیںایک ہارا ہوا شخص قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ انکے لئے ایک ہی راستہ کہ کشیدگی بڑھانی ہے اور یہ کشیدگی تقریباً یقینی طور پر ایک حقیقی عسکری شکست کی ضمانت ہے۔

امریکہ کا تباہ کن بمباری سے مقصد حل نہیں ہونا چنانچہ محدود زمینی قبضے کی تیاری میں ہے۔ ایران کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے شروع کئے تو ایران نے پوری خلیج کی توانائی کو راکھ بنا دینا ہے۔ امریکہ بمباری سے ایران کی فوج اور آئی آر جی سی (IRGC) کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کی کوشش کہ ایرانی فوج کی کمر توڑی جا سکے۔ چنانچہ پلوں، بجلی کے نظام، تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا مقصد رسد کو فوج تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ ایران نے اسی مقدار کی جوابی کارروائی کرنی ہے اور خطہ کے ہر اس ملک کے خلاف کرنی ہے جہاں امریکی دفاعی نظام موجود ہے، ایران ان ممالک کے بنیادی ڈھانچہ کو نشانہ پر لے گا۔ ایران کے اہداف آسان ہوں گے:نمبر ایک، اسرائیل ، اردان اور خلیجی ممالک کے بنیادی ڈھانچے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں، چاہے ان اڈوں کو استعمال کیا جا رہا ہو یا نہیں۔ اس کے ساتھ بحیرہ احمر میں باب المندب کوبھی بند کیا جائیگا تاکہ بحیرہ احمر سے تیل کی ترسیل اور دیگر تجارت بند ہو جائے ۔ امریکہ کے بحری بیڑوں کو بھی ایران اپنے نشانے پر لے گا ۔ بحیرہ احمر سے تیل کی ترسیل بند ہوئی تو پوری دنیا منہ کے بل گرےگی۔ ایران اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور اسے باقی رہنا ہے۔ کاش ٹرمپ رک جائیں لیکن وہ رک نہیں سکتے کیونکہ کشیدگی کے جال (Trap Escalation ) میں بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ کشیدگی کے جال میں پھنسا امریکہ ، ’’لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا‘‘۔

 

Back to top button