9 مئی کے حملوں میں فیض کے علاوہ عمران کیخلاف بھی ثبوت مل گئے

باخبر ذرائع انکشاف کیا ہے کہ 9 مئی 2923 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش میں فیض حمید کے علاوہ عمران خان کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی سامنے آ گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سازش 9 مئی کے حملوں سے کچھ ہفتے پہلے تیار کی گئی اور اس میں سابق وزیر اعظم اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی دونوں ملوث تھے۔ سازش کا مقصد فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کی کوشش کرنا اور اسے تحریک انصاف کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے مجبور کرنا تھا۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق سرکاری ذرائع نے عمران خان کے خلاف 9؍ مئی اور جنرل فیض حمید کیس کے حوالے سے فوجداری شواہد جمع کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن تاحال پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیلئے فوجی حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تام اس حوالے سے فیصلہ بہت جلد متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمران کے خلاف الزامات کی نوعیت ایسی ہے کہ یہ کیس آرمی ایکٹ کے تحت فوجی ٹرائل کے دائرے میں آتا ہے لیکن 9؍ مئی کے معاملے میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔  9؍ مئی کے کیس کے حوالے سے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کے بیانات اور متعدد شواہد کے پیش نظر ماسٹر پلانر کے طور پر عمران خان کی شمولیت یقینی طور پر مصدقہ ہے۔ لیکن، فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کا انحصار عدلیہ کے فیصلے پر ہوگا۔

پنجاب میں PTI مریم حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں ناکام کیوں رہی ؟

ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں عمران خان کو 9؍ مئی کے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ نگراں حکومت کے دوران 9؍ مئی کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، ’’کمیٹی کو دکھائے گئے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبہ بندی میں پارٹی کے کئی رہنما ملوث تھے۔ اس سے مزید پتہ چلتا ہے کہ عمران خان نے اس ساری منصوبہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور فیض حمید چیف منصوبہ ساز تھے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ 34؍ افراد پرتشدد سٹریٹ پاور کی حکمت عملی کے ماسٹر مائنڈ تھے جنہوں نے تشدد اور تباہی کی منصوبہ بندی میں فعال طور پر تعاون کیا۔ اسکے علاوہ 52؍ لوگوں نے ف2جی تنصیبات پر 9 مئی کے حملوں کی تفصیلی منصوبہ بندی میں حصہ لیا اور 185؍ افراد نے اسے عملی جامہ پہنایا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے نہ صرف فوج پر سیاسی معاہدے کیلئے دباؤ ڈالنا ایک منظم اور خطرناک حکمت عملی تھی بلکہ مسلح افواج کے اندر سے تحریک انصاف کے حق میں بغاوت کو ہوا دینے کی کوشش تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حوالے سے ثبوت بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا عمران خان اور جنرل فیض کے درمیان ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی مجرمانہ تعلق پایا جاتا ہے، ذرائع نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اس طرح کا ’’مجرمانہ تعلق‘‘ 9؍ مئی کے حملوں سے جڑا ہے۔ عمران خان کے فوجی ٹرائل بارے عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کا ملٹری ٹرائل ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب عمران خود وزیراعظم تھے تو 2021 میں ادریس خٹک نامی انسانی حقوق کے ایک ایکٹیوسٹ کا فوجی ٹرائل ہوا تھا اور اسے 14 سال قید کی سزا ہوئی تھی۔

Back to top button