کیا واقعی کراچی کے تاجر میر رضا کے قاتل سامنے آنے والے ہیں؟

کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات نے ایک اہم رخ اختیار کر لیا ہے۔ پولیس نے تفتیش کو ڈیجیٹل اور مالی شواہد کے دو اہم حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے سے باضابطہ معاونت لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے این سی سی آئی اے کو یکے بعد دیگرے چار خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں، جن میں مقتول میر رضا کی اسمارٹ واچ، موبائل فون، دیگر ڈیجیٹل آلات، سماجی رابطوں کے کھاتوں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کی مکمل فارنسک جانچ سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق میر رضا کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ اہم شواہد کے طور پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ تفتیش کار اسمارٹ واچ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ مقتول نے زندگی کے آخری لمحات میں گھڑی کا کس طرح استعمال کیا، اس میں کون سا ڈیٹا محفوظ ہے، آخری سرگرمی کیا تھی اور آیا گھڑی سے ایسی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں جو میر رضا کی آخری نقل و حرکت یا جائے وقوعہ سے متعلق کوئی اہم کڑی فراہم کریں۔
اسمارٹ واچ کی فارنسک جانچ اس لیے بھی اہم ہے کہ جدید گھڑیوں میں دل کی دھڑکن، قدموں کی تعداد، جسمانی نقل و حرکت، سرگرمیوں، وقت، بعض صورتوں میں مقام، موبائل فون سے منسلک اطلاعات اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ ہوسکتا ہے۔ اگر یہ ڈیٹا محفوظ حالت میں مل جاتا ہے تو تفتیش کار میر رضا کے آخری لمحات کی ایک ممکنہ ڈیجیٹل ٹائم لائن تشکیل دے سکتے ہیں۔
تاہم مقتول کے اہلخانہ نے اسمارٹ واچ کی فارنسک جانچ کے طریقہ کار پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق گھڑی کئی روز تک سابق سربراہ تحقیقاتی کمیٹی کے پاس رہی اور بعد ازاں این سی سی آئی اے کے حوالے کی گئی۔ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ اسمارٹ واچ کی فارنسک جانچ لاہور کی فارنسک لیبارٹری سے کرائی جائے۔ اہلخانہ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ گھڑی کچھ عرصہ ایک غیر متعلقہ فرد کے پاس رہنے کے باعث شواہد میں ممکنہ تبدیلی کے امکان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس حوالے سے حتمی حقیقت فارنسک معائنے اور تحقیقاتی نتائج ہی سے سامنے آسکے گی۔
تفتیش میں میر رضا کے موبائل فون اور سماجی رابطوں کے کھاتوں کو بھی انتہائی اہمیت دی جارہی ہے۔ این سی سی آئی اے سے یہ معلومات طلب کی گئی ہیں کہ مقتول کی گمشدگی سے قبل اور اس کے بعد اس کے کھاتوں پر کیا سرگرمیاں ہوئیں، وہ کن افراد سے رابطے میں تھا، کون سے پیغامات یا روابط موجود تھے اور آیا قتل سے قبل کسی شخص، گروہ یا کھاتے کے ساتھ کوئی غیر معمولی رابطہ ہوا تھا۔
میر رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سماجی رابطوں کے کھاتے بند کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی تھی، جس نے اس پہلو کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اگر فارنسک ماہرین بند کیے گئے کھاتوں، لاگ اِن سرگرمیوں، متعلقہ آلات، انٹرنیٹ پتے یا دیگر دستیاب ڈیجیٹل شواہد سے کوئی کڑی تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ کیس کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
میر رضا قتل کیس میں تفتیش کا دوسرا اہم رخ مالی معاملات ہیں۔ مقتول کے اہلخانہ اور وکیل کے مطالبے پر اس کے بینک کھاتوں، مالی لین دین، کاروباری روابط اور ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق ممکنہ منی ٹریل کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفتیش کار یہ جائزہ لیں گے کہ میر رضا کے ساتھ مالی لین دین کرنے والے افراد یا ادارے کون تھے، اس کے آخری دنوں میں کن کھاتوں سے غیر معمولی رقم منتقل ہوئی اور آیا کسی مشتبہ شخص کے ساتھ مالی رابطہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ یہ پہلو بھی زیرِ غور آسکتا ہے کہ میر رضا نے گھر سے روانہ ہونے سے قبل اپنے والدین کے کھاتے میں رقم کیوں منتقل کی، رقم کتنی تھی، اس منتقلی کا مقصد کیا تھا اور کیا اس کا بعد میں پیش آنے والے واقعات سے کوئی تعلق بنتا ہے۔
تاہم محض مالی لین دین کا ہونا کسی جرم کا ثبوت نہیں ہوتا۔ البتہ کسی خاص وقت پر غیر معمولی رقم کی منتقلی، بار بار ہونے والے مشکوک لین دین یا کسی مشتبہ شخص کے ساتھ مالی رابطہ تفتیش کاروں کے لیے اہم سراغ ضرور بن سکتا ہے۔
کیس میں اہم موڑ اس وقت آیا جب قبر کشائی کے بعد حاصل ہونے والی ابتدائی طبی رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر متعدد زخموں اور تشدد کے شواہد سامنے آنے کا انکشاف ہوا۔ پولیس کے مطابق 8 اگست کو سامنے آنے والی ابتدائی طبی رپورٹ میں میر رضا کو قتل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا، جس کے بعد پہلے درج اغوا کے مقدمے میں قتل اور شواہد چھپانے سے متعلق دفعات شامل کی گئیں۔
مجسٹریٹ کی نگرانی میں قبر کشائی کے بعد جسم سے مختلف نمونے بھی حاصل کیے گئے۔ ابتدائی رپورٹ میں جسم پر تشدد کے نشانات، پسلیوں کے فریکچر، سر اور چہرے پر متعدد زخم، دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم جبکہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبوں کا ذکر سامنے آیا ہے۔ جبڑے میں گہری چوٹ اور فریکچر، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی زخموں کے شواہد ملنے کی بات سامنے آئی ہے۔
ابتدائی طبی رپورٹ میں گولی لگنے کے حوالے سے بھی ایک اہم مشاہدہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جسم کے پچھلے حصے پر گولی لگنے کا نشان نسبتاً چھوٹا جبکہ سامنے کی طرف بڑا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورت حال اس امکان کی طرف اشارہ کرسکتی ہے کہ گولی پیچھے سے لگی ہو، تاہم اس بارے میں حتمی نتیجہ فارنسک اور بیلسٹک تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
کیس میں مقتول کا موبائل فون ملنے اور جائے وقوعہ سے پستول کا ہولسٹر ملنے کی اطلاعات بھی اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہیں۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ہولسٹر کس ہتھیار سے متعلق تھا، اس کا میر رضا یا کسی مشتبہ شخص سے کوئی تعلق تھا یا نہیں اور آیا اس کا قتل میں استعمال ہونے والے ممکنہ ہتھیار سے کوئی فارنسک تعلق قائم ہوتا ہے۔
اب تفتیشی اداروں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسمارٹ واچ، موبائل فون، سماجی رابطوں کے کھاتے، مالی ریکارڈ، طبی شواہد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے مواد کو ایک مربوط ٹائم لائن میں تبدیل کیا جائے۔
اگر ڈیجیٹل شواہد سے میر رضا کی آخری نقل و حرکت اور رابطوں کا پتا چلتا ہے، مالی ریکارڈ کسی مشتبہ شخص یا واقعے سے جڑتا ہے اور فارنسک شواہد ان معلومات کی تصدیق کرتے ہیں تو تفتیش کاروں کو قتل کے محرک، واقعے کی ترتیب اور ممکنہ ذمہ داروں تک پہنچنے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔
یوں میر رضا قتل کیس اب محض روایتی قتل کی تفتیش نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل فارنسک، مالی تحقیقات اور طبی شواہد کو یکجا کرکے ایک مکمل ٹائم لائن تشکیل دینے کی کوشش بن چکا ہے۔ تاہم کسی بھی فرد کو حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا فارنسک رپورٹس، مالی ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
