عمران آرمی چیف کی تقرری پر غصہ کیوں دکھا رہے ہیں؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے حمایتی یوتھیا تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد نے نومبر سے پہلے عمران کو اقتدار سے اس لیے نکالا تھا تا کہ وہ اپنی مرضی کا نیا آرمی چیف نہ لگا پائیں۔ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی مرضی سے آرمی چیف لگانا چاہتے تھے، اب چونکہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا وقت قریب ہے لہٰذا عمران خان یہ موقع ضائع ہوتے دیکھ کرغم و غصے کی انتہاؤں پر ہیں۔ لیکن ارشاد بھٹی عمران کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ شہباز اور زرداری کو بھی آرمی چیف کی تقرری کا شوق پورا کر لینے دیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ عمران خان، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری اور ذوالفقار علی بھٹو نے بھی آرمی چیف لگانے کا اپنا شوق پورا کیا تھا، بھٹو صاحب کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں 11ویں نمبر پر موجود ضیاء الحق کو لائے اور چیف لگادیا۔نواز شریف نے بھی اپنا شوق پورا کیا، انہوں نے پہلے جونیئر جرنیل پرویز مشرف کو چیف لگایا، دوسری مرتبہ پانچویں نمبر پر موجود جنرل قمر جاوید باجوہ کو چیف بنایا۔ لیکن دونوں مرتبہ وہ بطور وزیر اعظم اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہ کر پائے۔ ایسے میں اگر شہباز شریف اور آصف زرداری بھی اپنی مرضی کا آرمی چیف بنا نا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے لگائیں اور عمران خان کو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ ویسے بھی اسٹیبلشمنٹ کی یہ غلط فہمی تو اب دور ہو چکی ہو گی کہ اقتدار سے نکل کر عمران خان کی مقبولیت ختم ہو جائے گی، عمران جو اقتدار کے آخری دنوں میں غیر مقبولیت کی انتہاؤں پر تھے، اپنے امریکہ مخالف بیانیہ کی وجہ سے اقتدار سے نکلتے ہی ایسے مقبول ہوئے کہ ان کو نکالنے والوں کو بھی یقین نہیں آ رہا۔ اپنے دوراقتدار میں تمام ضمنی انتخابات ہارنے والے عمران نے اقتدار سے نکل کر مسلم لیگ کو انکے گڑھ اور گھر میں ہرا دیا، اور اب وہ پنجاب فتح کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ عمران کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ 5 ماہ پہلے وہ تحریک انصاف جس کا کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہ تھا، آج اس کے مقابلے میں کوئی الیکشن لڑنے کو تیار نہیں۔
عوام سیاست کیلئے دین کو استعمال کرنیوالےعمران سے ایمان کو بچائیں
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ اگر پی ڈی ایم حکومت نہ آتی، اور عمران حکومت نہ جاتی تو بہت ساری غلط فہمیاں، غلط فہمیاں ہی رہتیں، اور کبھی دُور نہ ہو پاتیں! پہلی غلط فہمی جو دُور ہوئی وہ یہ کہ پی ڈی ایم والے اہل، تجربہ کار، لائق، اور مسائل حل کرنے کے قابل ہیں۔ لیکن پی ڈی ایم والے حکومت میں آئے تو نالائقوں اور نااہلوں کے آئی جی نکلے، یہ کنفیوژن کے پہاڑ نکلے، ان کی بدترین کارکردگی نے عمران حکومت کی بیڈ گورننس اور مس مینجمنٹ بھلادی، انہوں نے 5 ماہ میں عمران حکومت کے تمام گناہ بخشوا دیئے، گورننس اور پرفارمنس کے محاذ پر یہ نہلے ثابت ہوئے، ظلم یہ کہ اقتدار میں آکر مہنگائی ختم کرنے والی پی ڈی ایم حکومت نے بجلی اور گیس سمیت ہر چیز مہنگی کر کے مہنگائی کا 50 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔
اس حکومت کی ساکھ کی حالت یہ ہے کہ سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک میں پیسے رکھوائے یا تیل ادھار دیا، یہ سب آرمی چیف کی وجہ سے ہوا، یوا ے ای نے پیسے اسٹیٹ بینک میں رکھوائے یا قطر سے گیس معاہدہ ہوا، یہ بھی آرمی چیف کی وجہ سے ہوا، حکومت کو ناک سے لکیریں نکلوانے کے بعد آئی ایم ایف سے پیسے ملے، اس میں بھی آرمی چیف کی کوششیں نمایاں رہیں، اگر ایف اے ٹی ایف سے متعلق اچھی خبر آئی تو اس میں بھی فوج کی کوششیں سب سے زیادہ رہیں، شہباز شریف ترکی، یواے ای، اور سعودی عرب گئے لیکن کسی نے ان کو منہ نہ لگایا، چین بھی آرمی چیف کو جانا پڑا، ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ حکومت کی حالت یہ ہے کہ اس سے عوامی مسائل اور ملکی مصائب تو حل ہو نہیں پارہے، لیکن صبح وشام عمران خان پر چڑھائی جاری ہے اور ان سے جان چھڑانے کی کوششی کی جاری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کوششوں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔
