میرا کالم پڑھ کر دکھائیں!

تحریر:عطا الحق قاسمی۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ 

بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ دوسرے بہت سے علوم وفنون کے علاوہ میں علم خطاطی میں بھی ایک بلند مقام پر فائز ہوں میں تو اپنے لکھے ہوئے لفظوں پر خود عاشق ہو جاتا ہوں میں جب اپنی تحریر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے یہ لفظ نہیں ہیں بلکہ کسی نے موتی پروئے ہیں چنانچہ جب میرا کالم اخبار کے کمپوزر کے پاس جاتا ہے تو خاص اسلوب میں لکھے ہوئے لفظ دیکھ کر غالباً خوشی سے اس کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں، وہ ان لمحوں میں اتنا ایکسائٹڈ ہوتا ہے اور لفظوں کے حسن میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اس کیلئے یہ لفظ پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے چنانچہ وہ دوسرے کمپوزروں کو مدد کیلئے طلب کرتا ہے اور یوں ایک بورڈ تشکیل پاتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے جولفظ ’’ہاں‘‘ لکھا ہے وہ ’’ہاں‘‘ ہے ’’ناں‘‘ ہے ’’ماں‘‘ ہے یا ’’باں‘‘ ہے کیونکہ ایک عام نظر رکھنے والا اسے تینوں طرح پڑھ سکتا ہے جس طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک بڑا شاعر وہ ہوتا ہے جس کے ایک شعر کی کئی کئی پرتیں اور جہتیں ہوں۔اس طرح میرے نزدیک ایک بڑے خطاط کی نشانی بھی یہ ہے کہ اس کا لکھا ہوا کوئی لفظ کئی طرح پڑھا جا سکے اور یوں میرا شمار اصولاً بڑے خطاطوں میں ہونا چاہئے تھا مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں پی آر کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا چنانچہ جہاں خط نستعلیق،خط نسخ، خط رقعہ اور خط کوفی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے وہاں میری خطاطی کے اسلوب کو یکسر نظرانداز کیا گیا حالانکہ میں بھی ایک خط کا اگر موجد نہیں تو کم از کم اس کے اہم لوگوں میں ضرور شمار ہوتا ہوں۔میرے کچھ دوست جو خطاطی کے فن کو سمجھنے والے ہیں اور حاسد بھی نہیں ہیں انہوں نے میرے خط کو ’’خط مہمل‘‘ کا نام دیا ہے اور میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھی ابتدا ہے کیونکہ ابتدا میں غالب کے کلام کو بھی مہمل ہی قرار دیا گیا تھا۔

ہمارے ہاں ایسے بہت سے صاحبان علم و فن ہیں جن کا شاعری ،افسانے، سفر نامے اور کالم میں جہاں بہت نام ہے وہاں ’’خط مہمل‘‘ میںبھی ان کا کوئی ثانی نہیں مگر انہوں نے بوجہ انکسار اس فن کے حوالے سے کبھی کوئی دعویٰ نہیں کیا فی الوقت جن مشاہیر کے نام مجھے یاد آ رہے ہیں ان میں سرفہرست بزرگوار م جمیل الدین عالی تھے میرے پاس ان کے کچھ مکتوب گرامی محفوظ ہیں اور مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ خود میں بھی انہیں پڑھنے میں آج تک کامیاب نہیں ہوسکا (استاد آخر استاد ہوتاہے) اسی طرح برادرم ڈاکٹر سلیم اختر کا شمار بھی خط مہمل کی تحریک کے بنیادی ارکان میں ہوتا تھا وہ جب کبھی اپنا کوئی افسانہ یا مقالہ کسی رسالے کے مدیر کو ارسال کرتے وہ ان کے لکھے پر اتنا اعتبار کرتا ہے کہ بغیر پڑھے کمپوزر کے سپرد کر دیتا ہے ۔رسالے کے مدیر صاحبان ڈاکٹر صاحب کے علم وفضل کے اتنے قائل کہ وہ کمپوزر کو ڈاکٹر صاحب کی تحریر کمپوزر کرنے کا دوگنا معاوضہ دیتے کہ ان کے نزدیک یہ تحریر کوئی عام تحریر نہیں کہ اس کا معاوضہ دوسری تحریروں کے مساوی دیا جائے بے شک ’’ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا‘‘۔

خط مہمل کو عروج پر پہنچانے والوں میں بہت سے اور جید لوگ بھی شامل ہیں مگر تفصیل میں جانے سے ان مرحومین کی حق تلفی کا امکان ہے جنہوں نے اس فن کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی۔ان میں ایک نام مرزا ادیب مرحوم کا بھی ہے مرزا صاحب کا خط دیکھنے میں انتہائی خوبصورت تھا ایسے لگتا تھا جیسے کتابت ہوا ہو مگر وہ اپنے فن کا مظاہرہ لفظوں کی خاص بنت سے کرتے تھے جس زمانے میں،میں نوائے وقت کا ادبی ایڈیشن مرتب کرتا تھا میرا سامنا مرزا صاحب کی خطاطی سے ہوتا تھا میں ان کے عالیشان ادبی کارناموں کا تو پہلے سے قائل تھا خط مہمل میں لکھے ہوئے ان کے کالم پڑھ کر میں ان کے اس اعجاز کا بھی قائل ہو گیا ۔اسی طرح محمد خالد اختر مرحوم کی بہت سی تحریریں میرے پاس محفوظ ہیں۔انہوں نے جو کچھ بھی لکھنا ہوتا تھا وہ مختلف اداروں کی طرف سےشائع شدہ ڈائریوں پر لکھتے تھے جو احمد ندیم قاسمی ان کیلئے جمع کرکے رکھتے تھے۔خالد صاحب نے خط مہمل میں جو اختراع کی وہ یہ تھی کہ وہ لفظوں پر نقطے نہیں لگاتے تھے یعنی بے نقط لکھتے، دس بارہ سطروں کے بعد جب طبیعت نقطے ڈالنے کی طرف مائل ہوتی تو کسی ایک لفظ پر وہ سارے نقطے ڈال دیتے جو انہوں نے گزشتہ لفظوں پر نہیں ڈالے تھے۔ میرے پاس ان کا ایک ’’مخطوطہ‘‘ موجود ہے جس میں چلتے چلتے وہ اچانک ایک لفظ ’’آسان‘‘ پر اتنے مہربان ہوئے کہ اس کے آگے پیچھے اور اوپر نیچے دس بارہ نقطے ڈال دیئے ۔اب اگر اس کے بعد کسی پڑھنے والے کو لفظ ’’آسان‘‘ بھی مشکل لگتا تھا تو اس میں خط مہمل کا کوئی قصور نہیں ۔

اگر آپ سچ پوچھیں تو خط مہمل پر اعتراض کرنے والوں پر بھی سارا الزام نہیں دھرا جا سکتا کیونکہ ہمارے درمیان کچھ ایسے مشاہیر بھی موجود ہیں جو خط مہمل کی باریکیوں کے علم سے محرومی کے باعث یہ دشوار راستہ اپنانے سے گریز کرتے ہیں اور اپنے خط کو بنانے سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔خط مہمل میں مہارت تجریدی آرٹ سے لگائو ہی کی صورت میں پیدا کی جاسکتی ہے جو لوگ تجریدی آرٹ سے کوئی نسبت نہیں رکھتے وہ خط مہمل میں بھی کمال حاصل نہیں کر سکتے۔مجھے اس حوالے سے سب سے زیادہ گلہ مشتاق احمد یوسفی سے ہے ۔یوسفی صاحب تو آرٹ کی تمام پرتوں سے واقف تھے مگر اس کے باوجود ان کا خط خطاطی کی کلاسیکی روایت کا عکاس ہوتا ۔میں اسے فریم کرا کے گھر میں تو لگا سکتا ہوں مگر آج کی ماڈرن آرٹ گیلری میں اگر کوئی خط جگہ پائے گا تو وہ جمیل الدین عالی، ڈاکٹر سلیم اختر اور اکابر مرحومین کے علاوہ راقم الحروف کا خط مہمل ہی ہو گا۔دوسروں کا تو مجھے علم نہیں البتہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں نے اس خط کی ترویج کے لئے جہاں بہت سی قربانیاں دی ہیں وہاں اس کا پھل مجھے اس صورت میں ملتا رہا ہے کہ مغرور سے مغرور محبوب بھی میرا خط ملتے ہی دوڑا چلا آتا اور جھنجھلا کر پوچھتا تھا کہ تم نے اس خط میں آخر لکھا کیا ہے؟

Back to top button