بھارت اور امریکہ کے پاکستان میں BLAکے ذریعے چینیوں پر حملے؟

حکومت پاکستان جہاں ملک کے سنگین سیاسی اور معاشی مسائل سے نبردآزما ہے وہیں بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے چینیوں کے خلاف جاری دھمکیوں نے حکومتی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب مبصرین چینی شہریوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں بھارت اور امریکہ کے ملوث ہونے کے شبہات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اور امریکہ کا چین کی مخالفت میں پی ایل اے کے ذریعے چینیوں پر حملے خارج از امکان نہیں۔

خیال رہے کہ بلوچ عسکریت پسند تنظیم نے ملک میں جاری چینی پراجیکت بند کرنے کی دھمکی 13 اگست کو گوادر میں چینی انجینیئروں کے ایک قافلے کو نشانہ بنانے کی اپنی کوشش کے بعد جاری کی تھی۔ گوکہ اس حملے میں کسی چینی کو نقصان نہیں پہنچا تاہم چین نے دہشت گردی کے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے اور پاکستان میں چینی اہلکاروں، اداروں اور پروجیکٹوں کے تحفظ کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی دھمکی کتنی سنگین ہے؟بلوچ لبریشن آرمی کی سرگرمیوں اور ماضی میں اس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر قریبی نگاہ رکھنے والے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دھمکی کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بی ایل اے نے پاکستانی فوج کے خلاف بھی حملے کیے ہیں اس لیے اس کے خطرے کو معمولی سمجھ کر مسترد کرنا مناسب نہیں۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور سابق سنیٹر لشکری رئیسانی کا کہنا ہے کہ اگست میں صوبے میں متعدد حملے ہوئے۔ اگر بی ایل اے گوادر پورٹ کے علاقے میں داخل ہو سکتا ہے، جو کہ صوبے کا سب سے محفوظ حصہ ہے، تو پھر اس کی دھمکی کو غیر سنجیدہ انداز میں نہیں لینا چاہیے۔

صوبائی اسمبلی کی سابق رکن یاسمین لہری کا خیال ہے کہ اس تنظیم نے خواتین کو بھی بھرتی کیا ہے اور خودکش حملے بھی کیے ہیں، لہذا اس کا خطرہ سنگین ہے۔

واضح رہے کہ چینیوں کو صرف بلوچ عسکریت پسند گروپوں کی مخالفت کا سامنا نہیں ہے بلکہ پاکستانی طالبان، داعش اور کچھ سندھی قوم پرست عسکریت پسند گروپ بھی چین کے شدید مخالف ہیں۔

عسکریت پسندی کے امور کے ماہر احسان اللہ ٹیپو محسود کا خیال ہے کہ مختلف نظریات کے عسکریت پسند گروپ مشترکہ دشمنوں کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کو مربوط کرتے ہیں یا حکمت عملی کی سطح پر تعاون کرتے ہیں۔انہوں نےمزید بتایا کہ طالبان اور بی ایل اے دونوں چینی اور پاکستانی فوج کے شدید مخالف ہیں۔ دونوں نے کمیونسٹ ملک کے شہریوں اور پاکستان کی مسلح افواج کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔”اسے دیکھتے ہوئے اس بات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حکمت عملی کی سطح پر ایک دوسرے کا تعاون نہیں کریں گے۔ حالانکہ اب تک اس طرح کے تعاون کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے لیکن اگر انہوں نے تعاون کیا تو یہ چینیوں کے لیے بہت مہلک ثابت ہوگا۔”

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں کو بھارت اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سابق سربراہ ڈاکٹر طلعت اے وزارت کا خیال ہے کہ چین مخالف بلوچ عسکریت پسندوں کو نئی دہلی اور واشنگٹن کی سرپرستی حاصل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹیجک پارٹنر ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کو بحر ہند تک رسائی فراہم کرے گا اور اس وجہ سے بھی چین مخالف دو ریاستیں بلوچ عسکریت پسندوں کی حمایت کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر طلعت کا کہنا تھا کہ، "پاکستان کے ذریعہ بھارتی جاسوس کلبھوشن سدھیر جادھو کی گرفتاری اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ نئی دہلی ان عسکریت پسندوں کی حمایت کر رہا ہے اور اس پر واشنگٹن کی خاموشی اس کی ملی بھگت کو ثابت کرتی ہے۔”

تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عسکریت پسندوں کے حملوں کے بعد چین پاکستان میں اپنے پروجیکٹ بند کردے گا؟بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حملوں اور دھمکیوں کے باوجود بیجنگ کام نہیں روکے گا۔ بلوچستان کے ایک سابق وزیر اعلیٰ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین منصوبے سے الگ نہیں ہوگا۔ ”یہ دو ریاستوں کا معاملہ ہے اور چند عسکریت پسند گروپ ابھرتی ہوئی سپر پاور کو ان منصوبوں پر کام روکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔” چینی اس طرح کے حملوں کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ ”وہ جانتے ہیں کہ خطرات ہیں۔ ان کا نقصان ہوا لیکن وہ سی پیک منصوبوں کو

پنجاب ،خیبرپختونخوامیں گیس چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

ترک نہیں کریں گے۔”

Back to top button