اعظم خان کے عمران کی ہوش اڑا دینے والی کرپشن بارے انکشافات

معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان  کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پی ٹی آئی حکومت میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات میں طوطے کی طرح بول رہے ہیں،انکوائری کرنے والے حیران ہیں کہ جو کچھ ان سے نہیں بھی پوچھا جارہا،اعظم خان وہ بھی فر فر بتارہے ہیں۔عمران خان کی ایسی ایسی کرپشن کی داستانیں سامنے آرہی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ریاست مدینہ کا دعویدار یہ سب کچھ کرتا رہا، یہ انکشاف سینئر صحافی حزیفه رحمان نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کےپرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے حالیہ انکشافات کا ہرجگہ چرچا ہے۔کہا جاتا تھا کہ جس طرح ایک جن کی جان طوطے میں ہوتی ہے، اسی طرح عمران خان کی جان اعظم خان میں تھی۔

اعظم خان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کی حیثیت سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے زیادہ عمران خان سے ہدایات لے کر چلتے تھے۔اب جبکہ عمران خان کو کرپشن مقدمات کا سامنا ہے تو سب سے پہلے جس بیوروکریٹ نے اپنی خدمات وعدہ معاف گواہ کیلئے پیش کی ہیں ، وہ اعظم خان ہی ہیں، حزیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ اعظم خان کے حالیہ انکشافات کے بعد یہ تاثر شدت اختیار کرگیا ہے کہ شاید یہ بیوروکریٹس کسی حکومت کے نہیں ہوتے اور حکومت بدلتے ہی یہ بھی رنگ بدل لیتے ہیں اور ایسے میں تو بہت ہی زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں کہ جب حکمران کرپٹ ہو۔مگرکچھ بااصول افسران بھی ہوتے ہیں جو دیانتدار سیاستدانوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔

 1999میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے چوہدری قمر الزمان چیف کمشنر اسلام آباد تھے اور ان کے پاس چیئرمین سی ڈی اے اور سیکریٹری کیڈ کا بھی اضافی چارج تھا۔ساتھی سول افسران چوہدری قمر الزمان کو ازراہِ تفنن گریڈ 66کا بیوروکریٹ کہہ کر پکارتے تھے۔میاں محمد نوازشریف کی منتخب آئینی حکومت کو پرویز مشرف نے غیر آئینی طریقے سے برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو وزیراعظم کے تمام قریبی بیوروکریٹس زیر عتاب آگئے۔چوہدری قمر ا لزمان کو بھی کچھ دن کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔نامعلوم مقام پر قیدِ تنہائی میں رکھنے کے دو روز بعد جب ایک افسر نے آکر چوہدری قمر الزمان سے انٹرویو کیاکہ نواز شریف نے بطور وزیراعظم کیا کیا غیر قانونی کام آپ سے کروائے ؟ تو چوہدری قمرالزمان نے جواب دیا کہ میں ایک لکڑی کے کھوکھے کی بھی قسم کھا سکتا ہوں کہ کبھی نوازشریف نے بطور وزیراعظم اس کی بھی سفارش نہیں کی۔کیونکہ چیئرمین سی ڈی اے کیلئے سب سے آسان کام کسی کو لکڑی کا چھوٹا کھوکھا گرین بیلٹ کے نزدیک رکھنے کی اجازت دینا ہوتا ہے۔

حزیفه رحمان کا کہنا ہے کہ 2017 میں جب سپریم کورٹ میں پاناما اور حدیبیہ سے متعلق کیس کی سماعت جاری تھی توبنچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے گرج دار آواز میں پوچھا کہ کیا چیئرمین نیب تشریف لائے ہیں۔یہ وہ وقت تھا کہ جب کورٹ روم نمبر 2 عمران خان،شیخ رشید سمیت تحریک انصاف کے حامیوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔آصف سعید کھوسہ کی آواز سن کر چوہدری قمر الزمان بطور چیئرمین نیب روسٹرم پر آگئے۔سپریم کورٹ کے ججز آصف سعید کھوسہ اور شیخ عظمت سعید کا اصرار تھا کہ نیب نے اب تک پاناما کیس کی انکوائری کیوں شروع نہیں کی۔ چوہدری قمر الزمان نے موقف اختیار کیا کہ یہ ایک سول کیس ہے اور جب تک ریگولیٹر ایف بی آر،ایس ای سی پی وغیرہ اس معاملے کی تفتیش کرکے اس میں کوئی کریمنل عنصر تلاش کرکے معاملہ نیب کو نہیں بھیجتے ،تب تک نیب کا اس معاملے کو دیکھنا غیر قانونی ہوگا۔جس پر بنچ نے اعتراض کیا کہ چیئرمین صاحب لگتا ہے کہ آپکا ریگولیٹر وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھا ہے۔جس پر اس وقت کےچیئرمین نیب چوہدری قمر الزمان کہنے لگے کہ نہیں مائی لارڈ، میرا ریگولیٹر یہ بنچ ہے،جس کے سامنے میں کھڑا ہوں۔جسٹس (ر)عظمت سعید نےتاریخی الفاظ بولے جو اگلے روز تمام اخبارات کی شہ سرخی بنےـ’’نیب آج فوت ہوگیا ہے‘‘

حزیفه رحمان کہتے ھیں کہ معاملہ یہیں نہیں رکا ،جسٹس (ر)آصف سعید نے اصرار کیا کہ نیب حدیبیہ کیس کی اپیل کرنے کا ارادہ کیوں نہیں رکھتا،جس پر چیئرمین نیب چوہدری قمر الزمان کہنے لگے کہ اگر نیب زائد المیعاد کیس کی اپیل کرے گا تو پھر اس کا اثر ہزاروں کیسز پر پڑے گا اور میرٹ کہتا ہے کہ حدیبیہ کیس کا فیصلہ درست ہے ۔جس پرجسٹس (ر) آصف سعید کہنے لگے کہ چیئرمین آپ نے اپنا فیصلہ کر لیا ہے تو اب نتائج بھگتنے  کے یے تیار رھیں  ۔پاکستان میں سپریم کورٹ سے بڑی کوئی عدالت نہیں ہے،ایک سول افسر کا سپریم کورٹ کے بنچ کے سامنے ڈٹ کر اپنا اصولی موقف رکھنا غیر معمولی تھا ، لیکن چوہدری قمرالزمان جیسے بہادر سول افسران بھی تب اسٹینڈ لیتے ہیں،جب سامنے  دیانتدار سیاستدان ہو۔ اعظم خان کی کمزوری اور کرپشن اپنی جگہ مگر عمران خان کی کرپشن پر ان کا اسٹینڈ لینا خاصا

ڈنمارک میں قرآن پاک کی بیحرمتی کا ایک اور افسوسناک واقعہ

مشکل ہو جاتا۔

Back to top button