عاصم منیر کو چیف بنانے پر باجوہ نے مارشل لا لگانے کی دھمکی دی

نواز شریف کے قریبی ساتھی اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ جب نواز شریف نے جنرل عاصم منیر کو اگلا آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا تھا تو جنرل قمر جاوید باجوہ نے مارشل لا لگانے کی دھمکی دے دی تھی۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ اپنے عہدے میں توسیع چاہتے تھے جبکہ عمران خان اس لیے جنرل عاصم منیر کی مخالفت کر رہے تھے کہ وہ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔ تاہم شہباز شریف حکومت نے جنرل عاصم منیر کو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی "ری ٹین” Retain کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، جس کے چند روز بعد انہیں آرمی چیف بنانے کا اعلان کر دیا گیا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ، جنرل فیض حمید اور عمران خان، یہ تینوں عاصم منیر کا راستہ روکنا چاہتے تھے اور اسی لیے نومبر 2023 میں جب ان کی تقرری کی تقرری ہونی تھی تو عمران نے دو عدد مارچ کیے لیکن ان کی دال نہیں گلی۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ ابھی ساری کہانیاں سامنے آئیں گی کہ وہ کون تھا جس نے نادرا سے آرمی چیف کا ریکارڈ نکلوا کر سعودی عرب کے سفیر کو جا کر دیا، انکا کہنابتھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عاصم منیر کا تقرر روکنے کے لیے عمران خان، فیض اور باجوہ اکٹھے تھے اور جب تقرر ہو گیا تو فوج میں بغاوت کروانے کے لیے 9 مئی کا منصوبہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کے تقرر میں سب سے بڑا کردار میاں نواز شریف کا تھا جس سے اصف زرداری کی مدد سے ممکن بنایا گیا۔
حکومت پنجاب کی بجلی سبسڈی نے IMF کا قرض پروگرام لٹکا دیا
عرفان صدیقی نے کہا کہ خواجہ آصف درست کہتے ہیں کہ عاصم منیر کے تقرر پر مارشل لا لگانے کی دھمکی دی گئی تھی اور ہماری ٹیم کے ایک صف اول کے اقتصادی ماہر کو سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بلا کر کہا کہ اگر ملک میں مارشل لا لگ جائے تو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، کیا معاشی پابندیاں لگیں گی اور اگر لگیں گی تو پاکستان کس حد تک برداشت کر سکے گا، اس حد تک گفتگو کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ بھی عاصم منیر کو آرمی چیف لگانا نہیں چاہتے تھے، وہ توسیع لینا چاہتے تھے یا نہیں اس پر سوالیہ نشان ہے لیکن اس پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہے کہ وہ کہتے تھے کہ آرمی چیف کے عہدے کے لیے یہ پانچ لوگ ہیں، عاصم منیر کو چھوڑ کر ان چار میں سے کسی کو لگا لو لیکن اس کو نہ لگاؤ۔ ان کا کہنا تھا کہ عاصم منیر کو آرمی چیف نہ بنانے پر باجوہ صاحب اور فیض حمید کا اتفاق تھا لیکن نواز شریف نے کہا کہ مارشل لا کی دھمکی ہو یا کچھ اور ہو، سینیارٹی لسٹ پر جو شخص بھی پہلے نمبر پر ہے اس کا تقرر ہو گا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ کہانی اتنی پھیلا دی جائے کہ ہم کہیں کہ باجوہ کو بھی لے کر آؤ، ظہیر الاسلام کو بھی لے کر آؤ، عاصم باجوہ بھی کو بھی لاؤ، شجاع پاشا اور آصف غفور کو لاؤ، طاہر القادری کو لے کر آؤ، پھر یہ کہانی اتنی پھیل جائے گی کہ سمیٹی نی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ اس موقع پر فیض حمید سے توجہ ہٹا کر محض اپنے ایجنڈے کے لیے اسے سیاسی کھلیان میں بکھیر دیں اور اصل مدعہ پیچھے رہ جائے۔ مسلم لیگی سینیٹر نے کہا کہ پاکستان کی پوری تاریخ میں چار ناکام بغاوتوں سمیت 9 مئی سے بڑا بغاوت کی کوشش کا اور کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام ’ان فوکس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ پانی پی ٹی ائی کے جیل میں ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کی سارا دن ملاقاتیں جاری رہتی ہیں جن کے بعد پورا دن پریس کانفرنسوں کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، انہوں نے 22 اگست کا جلسہ کینسل کرنے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا بھی علیمہ خان کی طرح یہ سوال ہے کہ کیا صبح 7 بجے جیل کے اندر کسی قیدی سے کوئی ملاقات ہو سکتی ہے اور اگر ہو سکتی ہے تو کس قانون کے تحت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سار بجے والی ملاقات کے حوالے سے میرے علم میں کوئی بات نہیں، البتہ یہ معمول کی کارروائی ہرگز نہیں تھی۔
سابق آئی ایس آئی سربراہ کے کورٹ مارشل کے اوپن ٹرائل کے عمران خان کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ فوج میں کورٹ مارشل ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں اور آج تک کسی کا بھی اوپن ٹرائل نہیں ہوا، انہوں نے کہا کہ خان صاحب کے اپنے دور حکعمت میں 25 آدمیوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلے، اور ان 25 میں سے تین کو موت کی سزائیں سنائی گئیں، لیکن کوئی اوپن کورٹ ٹرائل نہیں ہوا اور وہ اب بھی جیل میں پڑے ہوئے ہیں۔
بنیادی وجہ یہ ہے کہ کورٹ مارشل ٹرائل کبھی بھی اوپن ٹرائل نہیں ہوتا۔ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کے دوہرے معیار ہیں، فیلڈ کورٹ مارشل کے اپنے تقاضے ہیں اور وہ ویسے ہی ہو گا جیسے کے ہوتا ہے، فیض حمید کے اوپن کورٹ ٹرائل کے مطالبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران ایک ایسے آدمی کی وکالت کیوں کر رہے ہیں جو خود اس حوالے سے کچھ نہیں بول رہا۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں حال ہی میں جو فسادات ہوئے ان میں ملوث سینکڑوں لوگوں کا سمری ٹرائل کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے، لیکن ہمارے ملک میں ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود 9 مئی کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں ہو سکی کیونکہ عدالتیں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جب عدلیہ اور انصاف کے ایوانوں سے سست روی کا عالم ہو گا اور اتنے بڑے سانحے کی حساسیت کا یہ عالم ہو گا تو آپ کہاں سے انصاف پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کے فسادی ساتھی اب گرفت میں آئے ہیں، گو کہ بہت دیر سے آئے ہیں لیکن یہ اب بتائیں گے کہ اِن کا 9 مئی سے کیا تعلق تھا۔
