پاکستان کیلئے بھیک!

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ

عظیم قائد نے ’’نوزائیدہ مملکت کو اسلام کی تجربہ گاہ بناناتھا‘‘، وہم و گمان میں نہ ہوگا کہ ہمیشہ کیلئے اقتدار ہتھیانے کا میدانِ جنگ بن جائیگا ۔ پاکستان بھٹک چکا ہے، جمہوری ملک مستقلاً سیاسی عدم استحکام کی عمیق دلدل میں دھنسا ہے۔ کسی شخصیت اور جماعت کے عشق میں مبتلا ہونا میرے نزدیک جہالت ہے، کسی شخصیت سے اتفاق، محبت ،عقیدت میں یا پھر اختلاف کی موجودگی میں حقائق سے چشم پوشی کا امکان نہ گنجائش۔

میانوالی کے ایک سیاسی گھرانے میں شعور کی آنکھ کھولی تو سیاسی ایکٹیوزم وراثت میں ملی۔ بمشکل 12 سال کی عمر میں محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب میں دیگر بچوں کے ہمراہ لالٹین برادر جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ۔الیکشن والے دن 2جنوری 1965ء کو زندگی کی پہلی خونریز لڑائی کا ترنوالہ بنا ۔ ایوب خان کے حامی درجنوں بچوں نے میرا لالٹین کا نشان والا بِلا اُتارنے کی کوشش کی تو مزاحمت پر مجھے کئی پتھر مار کر شدید زخمی کر دیا ۔ اس کے باوجود سیاسی دلچسپی بڑھ گئی، میانوالی گھر کی سیاست کا اعجاز کہ 60ء کی دہائی کے سارے اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ایک زمانہ ایسا بھی کہ جنرل ضیاء الحق سے بوجوہ بے تکلف رسائی تھی۔

آج اپنے ہر زمانے کے قریبی ساتھیوں کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ حکومت یا اقتدار سے زندگی بھر کبھی فائدہ نہیں اُٹھایا ۔ 70ء کی دہائی میں اپنی شناخت کیساتھ سیاسی ایکٹویسٹ رہااور قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کیا۔ بھرپور سیاست کے جراثیم موجود تھے مگر اوائل جوانی میں عام سیاسی کارکنوں کی سیاسی جماعتوں میں درگت بنتے دیکھی تو خوفزدہ ہوا۔ ذلت اور رسوائی سے بچنے کیلئے 1977ء میں اپنے سے حلف لیا کہ زندگی بھر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرنی اور نہ ہی عملی سیاست میں حصہ لینا ہے کہ عزت نفس کی حفاظت لازم تھی۔ ہمیشہ سیاسی گفتگو اور جستجو پاکستان کیلئے وقف کر رکھی، کسی کاروباری مجبوری یا مفاد کے زیربار نہیں رہا ۔ جب کبھی کسی نے وسیع تر قومی مفاد یا قومی سلامتی کی آڑ میں مملکت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بلاجھجک آڑے ہاتھوں لیا ۔ عمر کے جس حصے میں اب ہوں، زمینی خداؤں کا ڈر نہ دولت نہ جاہ و جلال کا لالچ اور نہ ہی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار بیٹے کی محبت حائل ہے۔ اگرچہ بیٹا ماورائے قانون گرفتار ہوا، آئین پاکستان اور آئینی عدالتی نظام کی موجودگی میں ماورائے آئین اور ماورائے عدالتی نظام، 10سال قید کی سزا ایسے ملی کہ حراست بھی غیرقانونی، عدالتی کارروائی کاغذی، جبکہ فیصلے کی کاپی آج تک نہیں ملی۔ پاکستان کے حق میں آواز بلند کرنا فرض جانا ،کڑا کام مگر تالیف قلب، ذہنی سکون کیساتھ ضمیر مطمئن ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا کرم کہ بیٹا بھی ثابت قدمی اور استقامت سے جیل کاٹ رہا ہے ، میری طرف سے اسکی ہمت افزائی شامل ہے۔ مجھے یقین ہے میرا بیٹا اپنی زندگی کے ہر شعبے کو اسلام اور پاکستان پر قربان رکھے گا۔ فرد واحد کے افکار، کردار اور استبداد سے اگر اللّٰہ تعالیٰ کی حدود قیود میں بگاڑ پیدا ہو، خلقت خدا کی جان عذاب میں ہو ، اگر اس وقت اسکا وجود خلقت خدا کیلئے پریشانیاں پیدا کرے تو ہم لکھنے بولنے والوں پر واجب کہ اختلافی نوٹ کو شد ومد سے پیش کریں ۔ اپنی طویل عمر میں پاکستان کے چھ پُرآشوب ادوار دیکھ اور بھگت چکا ہوں ۔ ان سارے ادوار میں ایک قدر مشترک کہ مقتدرہ نے اپنی ذات اور اقتدار کو استحکام اور دوام بخشنے کے بدلے اس مملکت کی چولیں ہلائیں جس نے انکو اپنے سر کا تاج بنایا۔ آج سیاسی عدم استحکام کا ایک ایسا سلسلہ جو نہ ختم ہونے کو ۔ ایوب خان پچھلی 7 دہائیوں کی اکھاڑ پچھاڑ کے موجد، ایوب خان نے ہی دائمی عدم استحکام متعارف کرایا۔ ایوب خان ایک سیاسی عاقبت نااندیش، تا حد نگاہ اپنا اقتدار قائم رکھنے کی سعی میں پہلے ہی سال نظام پنپنے نہ دیا۔ وطن عزیز تجربہ گار بنا رہا ، یحییٰ خان نے مزید تڑکا لگایا، بالآخر مملکت دولخت ہو گئی۔ ہزیمت، ندامت، شرمندگی کا بوجھ آج بھی انکی نسلوں کو اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ (1) ایوب خان بمقابلہ مخالفین، ( 2) بھٹو بمقابلہ مخالفین، ( 3) ضیاء الحق بمقابلہ مخالفین ،( 4) مشرف بمقابلہ مخالفین،ان ادوار کی باہمی سیاسی جنگ و جدل میں وطن عزیز ایک قدم آگے بڑھا نہ پایا دو قدم پیچھے پھسل گیا۔ اقتدار کو استحکام دیتے دیتے مملکت غیرمستحکم سے غیرمستحکم تر ہوتی گئی۔ زبان خلق نقارہ خدا ! اے صاحب اقتدار جب نقارہ خدا کو سنو تو سنجیدگی سے لو وگرنہ داستاں تک نہ ہوگی تمہاری داستانوں میں ۔ خلقت کی زباں پر صرف آہ وبکا ہی توہے ، حکمرانو ! خدا کے واسطہ کان دھرو ، وگرنہ مملکت تتربتر ہو جائیگی۔ مملکت میں آج پھر سے ایک طُرفہ تماشہ جاری ہے، نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس کے نام پر بکھری قوم مزید پارہ پارہ ہو سکتی ہے۔ کئی کل پرزوں کے فرمودات سن کر دم بخود ہوں کہ مملکت کو کن کن غیرسنجیدہ کرداروں کا سامنا ہے ۔ آجکل ایک وزیر کے بھاشن نما بیانات سیاسی عدم استحکام کومزیدبڑھا رہے ہیں ۔ایک جملہ ازراہِ تفنن، طلال چوہدری نے خوشامد میں موصوف کو Democrate اور مزید صوبوں والے بیان کو وزیراعظم کی تابعداری بتایا ہے۔ اگرچہ ہر خاص و عام کو معلوم ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) اور حکومت اس ایشو پر چُپ کا روزہ رکھے ہے ۔ جبکہ میاں نواز شریف کے قریبی دوست مولانا فضل الرحمن کا افشا کہ ’’نواز شریف کی رائے ان ( مولانا ) کی رائے سے ملتی جلتی ہے‘‘، یعنی کہ نئے صوبوں کے مخالف ہیں ۔ اپنی ذات کی حد تک میں نئے صوبوں کے حق میں ہوں مگر عرض اتنی کہ سیاسی یکسوئی کے بغیر نئے صوبے بنانا ناممکن ہے۔ نئے صوبے بنانے کی سمت میں ہر قدم بھرپور اور گھمبیر سیاسی عدم استحکام پیدا کریگا جسکی نظیر شاید دہائیوں پہلے بھی نہ ملے ۔ مزید صوبے مقبول سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ کر کے ہی بنائے جاسکتے ہیں وگرنہ ناممکن ۔ ماضی قریب میں 6نہروں کی تعمیر پر پورا سندھ تین ہفتے بند رہا ۔ اپریل 2025ء میں JDA ، ایاز لطیف پلیجو ، سندھ کی قوم پرست جماعتوں ، وکلاء ، سول سوسائٹی اور دیگر سیاسی قوتوں کی قیادت میں 6نہروں کیخلاف احتجاجی تحریک نے پورے سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ قومی شاہراہوں پر دھرنوں، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کے باعث سندھ کا زمینی رابطہ عملاً مفلوج ہوگیا۔ نتیجتاً 24 اپریل کو وفاقی حکومت کو 6 نہروں کے منصوبے کو روکنے کا اعلان کرنا پڑا۔ مجھے یقین ہے کہ وزیر موصوف کی سمجھ بوجھ سے یہ معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ وگرنہ انکو ایسی عامیانہ گفتگو نہ کرنا پڑتی ۔ ’’جذباتی نہ ہوں، انتظامی یونٹس بنیں گے ۔ کوئی فر د ، سیاسی جماعت یا نمائندہ انہیں روک نہیں سکتا۔ میں اس نوکری پر رہوں یا نہ رہوں ، میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا‘‘

مجھے نہیں معلوم کہ ہر چند سال بعد ایسے مجاور کہاں سے آجاتے ہیں جو ملکی سیاست کو دوسروں کے چابک کے زور پر چلاناچاہتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ بڑی پارٹیوں کو آن بورڈ لیے بغیر نئے صوبے کبھی نہیں بن سکتے۔ کیا ہمارا خود غرض قیادت سے سابقہ پڑا ہے؟ کیا ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھنا۔ پتہ نہیں ہم سیاسی بیمار وطن کو جان بوجھ کر کیوں وینٹیلیٹر پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کی بھیک ! خدارا پاکستان پر ترس کھائیں۔

 

Back to top button