ملک میں مذہب کے نام پر خون خرابے کی کوشش کی جا رہی ہے، وفاقی وزراء

وفاقی وزراء خواجہ آصف اور احسن اقبال کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں مذہب کے نام پر خون خرابے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کاکہنا تھاکہ سپریم کورٹ اس معاملے میں وضاحت کرچکی ہے لیکن جھوٹ پرمبنی پراپیگنڈا بدستور جاری ہے،ہم کابینہ کیجانب سےسب کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریاست کسی کوقتل کےفتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نےکہا کہ اگر خدا نخواستہ ریاست نےیہ کھلی چھوٹ دی توریاست کا شیرازہ بکھرجائے گا،سوشل میڈیا میں عوام کوقتل پر اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہےاور انتہاپسندانہ پوسٹس سوشل میڈیا پر لگائی جا رہی ہے،آپ ﷺ پرہمارا ایمان ہےکہ وہ رحمت اللعالمین ہیں اور وہ تمام جہانوں کےلیے رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے اور یہ رحمت کاسلسلہ ہمیشہ جاری رہے گاجب تک کائنات قائم ہے۔

 

سپریم کورٹ کے ایڈہاک ججز جسٹس طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم نے حلف اٹھالیا

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے مذہب کےنام پر جو رحمت کامذہب ہےاس پر ایسی گفتگو کی جائےتو اس سےزیادہ توہین مذہب کوئی نہیں،ریاست اس پر کارروائی کرے گی، کیوں کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز کوکئی برسوں سے ٹارگٹ کیاجارہا ہے،سب کو معلوم ہے کہ انہوں کیوں ٹارگٹ کیاجارہا ہے اور یہ ایک نئی شرارت ہےعدلیہ میں ایک ایسی آواز کو خاموش کرنے کی جو حق اور سچ کی روایت کو قائم رکھے ہوئےہے۔

خواجہ آصف نےکہاکہ ریاست اس بات کی اجازت نہیں دے گااور قانون پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آئےگا،ہمیں اس بات کااعادہ کرنے کی باربار ضرورت نہیں، ختم نبوتﷺ تو ہمارےایمان کااحصہ ہے،اگر اس کا باربار اعادہ کرناپڑا تو سمجھ لیں کہ معاشرے میں کوئی کمی ضرور ہے جو اس کی حیثیت کو بار بار اجاگر کرنا پڑرہا ہے،ایمان کااظہار اعمال سے ظاہر ہونا چاہیے،اس کااظہار ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ آپ کی تقلید کریں،اسلام محبت کاپیغام ہے،اسلام کا وہ چہرہ دکھائیں جو محبت اور پیار کا چہرہ ہے،ایسا چہرہ نئی نسل اور دنیاکو نادکھائیں جو ہمارے دین کوکمزور کرتاہو،جو ہمارے دین کےبنیادی تعلیمات کےمنافی ہو۔

وفاقی وزیر خواجہ آصف نےکہاکہ کسی گروہ کی مذہب، سیاست یا ذاتی مفادات کے نام پر ڈکٹیشن ریاست قبول نہیں کرے گی،ریاست قانون کےمطابق اس قسم کے غیر قانونی اقدامات،اس قسم کےفتوؤں کاجواب دے گی۔

a

Back to top button