‘صفر سے کاروبار شروع کرنیوالی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں’

https://youtu.be/8blT5F2-a7k

پاکستانی نوجوان میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کاروبار کیلئے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے جبکہ یہ خیال بالکل غلط ہے، دنیا کے بڑے بڑے تاجروں نے اپنے کاروبار کو صفر سے شروع کیا۔

اگر دنیا کی کامیاب ترین کمپنیز کے دفاتر یا ان کی تصاویر دیکھ کر آپ کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ ان کے پاس شروع سے ہی اچھی عمارات اور سرمایہ تھا تو اپنا خیال بدل لیجئے، آپ کو بڑی کمپنیز کے آغاز کے دنوں پر یقین نہیں آئے گا کہ چند سو ڈالر میں کسی گیراج، بیڈروم اور تھڑے سے اٹھنے والی کمپنیاں آج اربوں ڈالر کی مالک ہیں۔

سیدتی میگزین کی رپورٹ میں مائیکروسافٹ، ایپل، ایمیزون سمیت دوسری ایسی مشہور کمپنیز کے شروع کے ایام کے بارے میں بتایا گیا ہے، طویل عرصے تک دنیا کے امیر ترین رہنے والے شخص بل گیٹس اور پال ایلن نے مائیکرو سافٹ کارپوریشن کی بنیاد 1975 میں اپنے گیراج میں رکھی تھی کیونکہ ان کے پاس کام شروع کرنے کے وسائل بہت کم تھے، یہیں سے انہوں نے اپنا پہلا آپریٹنگ سسٹم لانچ کیا تھا اور سخت محنت کے بعد آج اس مقام پر ہیں صرف بل گیٹس کے اثاثوں کی مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، آج اس کمپنی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 350 ارب ڈالر ہے۔

ڈیل کارپوریشن کمپنی کی شروعات اس کے بانی مائیکل ڈیل نے 1984 میں اس وقت کی تھی جب انہوں نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم ادھوری چھوڑتے ہوئے ٹیکنالوجی کے میدان میں کچھ کر دکھانے کا خواب دیکھا تھا، اس کے چند روز بعد انہوں نے اپنے گیراج میں کمپنی کی بنیاد ڈالی اور آج دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیز میں شمار ہوتی ہے۔

اسی طرح ایمازون کی بنیاد جیف بیزوس نے 1994 میں رکھی تھی جو ایک چھوٹی سی آن لائن لائبریری تھی، بیزوس واشنگٹن کے بیلیوو میں اپنے گھر کے گیراج سے ایمیزوں کا ابتدائی کاروبار کرتے رہے جو کتابوں سے دوسری چیزوں اور پھر امریکہ سے نکل کر دنیا بھر تک پھیلتا چلا گیا، اور آج کمپنی کی مالیت کئی سو ارب ڈالر ہے اور بیزوس دنیا کے امیر ترین شخص بھی رہے۔اس ٹیکنالوجی کمپنی کا آغاز سٹیو جابز اور سٹیو ووزنیاک نے 1975 میں کیا تھا اور آج دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہے۔

ہیولٹ پیکارڈ نامی کمپنی 1939 میں بل ہیولٹ اور ڈیو پیکارڈ نے سلیکون ویلی نام کے ایک چھوٹے سے کمرے میں شروع کی تھی اور ان دونوں کے پاس صرف 538 ڈالر تھے اور انہی کو استعمال میں لاتے ہوئے کچھ چیزیں متعارف کرائیں اور وہاں سے شروع ہونے والا سلسلہ آج تک جاری ہے اور آج یہ دنیا کی کامیاب ترین کمپنیز میں شامل ہے۔

یانکی کینڈلز نامی کمپنی کے بانی مائیکل کٹریج کی عمر اس وقت صرف 16 تھی جب انہوں نے اپنے گیراج میں موم بتیاں بنانے کا کام شروع کیا اور پہلی موم بتیاں مدرز ڈے پر اپنی ماں کو تحفے کے طور پر دیں۔ ایک تقریب میں لوگوں نے وہ موم بتیاں دیکھیں تو ان کے لیے بھی بنانے کا کہا اور دو کلاس فیلو بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور پھر موم بتیوں کے علاوہ دوسری چیزیں بنانے لگے۔یہ کمپنی 1969 میں قائم ہوئی امریکہ سمیت دوسرے ممالک کی شاید ہی ایسی کوئی گفٹ شاپ ہو جہاں اس کے آئٹم موجود نہ ہوں۔ 1999 میں مائیکل نے اس کو فروخت کر دیا تھا تاہم یہ آج بھی بہت بڑی کمپنی ہے۔

ڈزنی کمپنی کی ابتدا بھی ایک گیراج سے 1923 میں اس وقت ہوئی تھی جب والٹ ڈزنی، ان کے بھائی رائے اور چچا رابرٹ نے ایک خاموش فلم کے مناظر فلمائے تھے اور آج یہ انٹرٹیمنٹ کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا اور منافع بخش گروپ ہے۔

موٹر سائیکلز بنانے والی ہارلے ڈیوڈسن کمپنی کی بنیاد ولیم ہارلے نے 1901 میں گھر کے باہر بنے ایک تھڑے پر رکھی تھی جس کے اوپر لکڑی کا چھوٹا سا شیڈ تھا جہاں انہوں نے اپنے دوست آرتھر ڈیوڈسن کے ساتھ مل کر انجن سے چلنے والی سائیکل کے منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔ایک سال بعد ہی یہ کمپنی تھڑے سے اٹھ کر ایک کمرے میں منتقل ہوئی اور اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

میٹل کارپوریشن نامی کھلونے بنانے والی یہ بڑی کمپنی بھی ان کمپنیز میں شامل ہے جن کی ابتدا گیراج سے ہوئی تھی۔ 1969 میں بننے والی اس کمپنی کو ترقی کی منازل طے کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور چند سال بعد ہی باربی ڈولز اور دوسرے کھلونے والی سب سے بڑی کمپنی بن گئی۔

دی لوٹس نامی کمپنی کی بنیاد 1948 میں انتھونی کولن بروس نے ڈالی تھی اور ہورنسی ریلوے سٹیشن کے قریب بنے ایک اصطبل میں پہلی لوٹس کار کی تیاری شروع کی تھی۔ یہ بعدازاں بہت بڑی کارساز کمپنی کے طور پر سامنے آئی اور مشہور سپورٹس اور ریسنگ کاریں بنانا شروع کیا۔

عارف نقوی کی امریکہ حوالگی کے بعد عمران کےبھی پھنسے کا خطرہ

Back to top button