سائفر کی کاپی کے بعد کابینہ اجلاس کے منٹس بھی گم

تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے2021ءکے ابتدائی مہینوں میں اپنی حکومت کے خلاف جس سائفر سازش کا ہنگامہ برپا کیا تھا، اس کے غبارے سے ہوا تو خود ان کے اپنے یو ٹرنز اور آئے دن بدلتے بیانیوں ہی سے نکل چکی تھی لیکن ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جانب سے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان نے نہ صرف اس پورے معاملے کا صریحاً بے بنیاد ہونا اور پوری قوم کو فریب دینے کاایک سوچا سمجھا اور مکروہ منصوبہ ہونا بالکل واضح کردیا ہے بلکہ عمران خان کو جھوٹا نمبر ون ثابت کر دیا ہے تاہم حقائق سامنے آنے کے بعد جہاں عمران خان مجرم قرار دئیے جا رہے ہیں وہیں اعظم خان کیخلاف اعانت جرم کی وجہ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سینئرصحافی دی نیوز عمر چیمہ نے شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جب کابینہ میں سائفر پر بات ہوئی تو بیورو کریسی کے لوگوں کو کیبنٹ میٹنگ سے ہٹا دیا گیا تھا، سائفر کی کاپی وزیراعظم عمران خان سے گم گئی جبکہ سائفر پر کابینہ اجلاس کے منٹس اعظم خان نے گم کر دئیے ہیں۔عمر چیمہ کے مطابق سائفر کے معاملہ پر ایف آئی اے نے جے آئی ٹی بنائی تھی، ایف آئی اے نے سائفر معاملہ پر اس وقت امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید کو بھی بلایا تھا.اس وقت امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے ایف آئی اے کو بتایا 7مارچ 2022ء کو ڈونلڈ لو میرے پاس لنچ کیلئے آئے اور یہ باتیں کیں ، اس کا پس منظر یہ تھا کہ عمران خان جس دن روس گئے اسی دن روس نے یوکرین پر حملہ کردیا، عمران خان نے بھی یورپی یونین کے حوالے سے بھی کوئی بیان دیا تھا، اس طرح کی باتوں نے امریکیوں کو اپ سیٹ کیا اسی تناظر میں ڈونلڈ لو نے اسد مجید سے اپنے غصے کا اظہار کیا، اس وقت چونکہ تحریک عدم اعتماد کی بات چل رہی تھی اس لیے ڈونلڈ لو نے کہا کہ ہمارا عمران خان کے ساتھ گزارا نہیں ہوگا یعنی ہم نئی حکومت کے ساتھ بات کریں گے، جے آئی ٹی نے اسد مجید سے پوچھا کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس میں کوئی سازش تھی؟اسد مجید کا کہنا تھا کہ مجھے سازش کا عنصر تو نظر نہیں آتا لیکن امریکی عہدیدار کی زبان بہت سخت تھی۔اسد مجید نے انہیں بتایا کہ میری کوشش کے باوجود اعظم خان سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔
عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ ایف آئی نے اس وقت پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کو بھی انکوائری کیلئے بلایا تھا، انہوں نے لکھا فیصل ترمذی نے کابینہ کو بریفنگ دی، تاہم کیبنٹ سیکرٹری نے کہا آپ یہ غلط کہہ رہے ہیں کابینہ کو بریفنگ آپ نے دی ہے لہٰذا منٹس میں تصحیح کریں، اعظم خان نے کچھ دن بعد دفتر خارجہ سے رابطہ کر کے کہا کہ سائفر میٹنگ کے منٹس مجھ سے گم ہوگئے ہیں آپ اس کی کاپی دیدیں، دفتر خارجہ نے انہیں کہا کہ منٹس آپ نے لیے تھے ہمارے پاس اس کی کاپی نہیں ہے ۔ عمر چیمہ کے مطابق جب ایف آئی اے میں اسد عمر سے لیک آڈیو کے بارے میں پوچھا گیا تو اسد عمر نے اقرار کیا آڈیو میں آواز میری ہے، شاہ محمود قریشی ایف آئی اے میں ادھر ادھر کی باتیں کر کے نکل آئے۔
دوسری جانب سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ سائفر کے معاملے پر تین اور اہم بیانات ہیں جو ایف آئی اے اعظم خان کی گواہی سے پہلے ریکارڈ کر چکا ہے۔ اسد عمر نے ایف آئی اے کو بتایا ہے کہ عمران خان سائفر کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ دوسرا بیان سیکرٹری خارجہ سہیل کا ہے اور تیسرا بیان موجودہ سیکرٹری خارجہ اسد مجید کا ہے جو اس وقت امریکہ میں سفیر تھے۔ یہ بیانات عمران خان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ عمران خان نااہل ضرور ہوں گے، الیکشن کی مہم بھی نہیں چلا سکیں گے کیونکہ اس وقت وہ جیل میں ہوں گے۔
دوسری طرف صحافی انور سجاد کا دعویٰ ہے کہ سائفر والے معاملے میں شاہ محمود قریشی بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سائفر والا کیس عمران خان کے گلے پڑ جائے گا اس پر خصوصی عدالت بنائی جا رہی ہے اور اگلے دو مہینے میں عمران خان بڑی مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ اکتوبر کے آخر تک عمران خان کو اچھی خاصی سزا مل چکی ہو گی اور وہ جیل میں ہوں گے۔ ایک رپورٹ یہ بھی ہے کہ 25 جولائی کو جب عمران خان ایف آئی اے جائیں
گے تو انہیں تحویل میں لے لیا جائے گا۔
