فارن فنڈنگ کیس لٹکانے کے لیے کپتان کا نیا حربہ

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس مزید لٹکانے کے لئے انکی جماعت نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پٹیشنر اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کی دستاویزات دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی اس حرکت کا اصل مقصد یہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کی تحقیات کبھی مکمل نہ ہوں اور عمران کا اقتدار محفوظ رہے۔ واضح رہے کہ جب برسون پہلے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کی تحقیقات شروع ہوئی تھیں تو الیکشن کمیشن نے قرار دیا تھا کہ درخواست گزار کو حق حاصل ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس کی دستاویزات دیکھے۔ تاہم اس کے بعد بنائی جانے والی اسکروٹنی کمیٹی نے تحریک انصاف کے وکیل کے اعتراضات کو بنیاد بناتے ہوئے اکبر ایس بابر کو یہ اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اب حال ہی میں اکبر ایس بابر کی ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے دوبارہ یہ قرار دیا کہ پٹیشنر الیکشن کمیشن آفس کی حدود میں مالیاتی ماہرین کی موجودگی میں تحریک انصاف کی دستاویزات دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اب تحریک انصاف نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکبر بابر کہتے ہیں کہ اگر عمران خان کے ہاتھ صاف ہیں تو پھر وہ انہیں تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹس کی دستاویزات دیکھنے سے کیوں روک رہے ہیں ۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسکروٹنی کمیٹی کو رواں برس 31 مئی تک تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کر رکھی ہے تاکہ گزشتہ سات سال سے لٹکے ہوئے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے تاہم تحریک انصاف نہیں چاہتی کہ اس معاملے کا کوئی حتمی نتیجہ نکلے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں میں تحریک انصاف حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔ کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر ملکی فنڈز میں سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے سے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔
تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے پارٹی کی غیر ملکی فنڈنگ کی دستاویزات تک رسائی کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے بانی و منحرف رہنما اکبر ایس بابر کو پارٹی کی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق دستاویزات کے مطالعے کے لیے مالیاتی ماہر کی خدمات لینے کی اجازت دی تھی۔ پی ٹی آئی وکیل کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ای سی پی میں 14 اپریل 2021 کے حکم نامے پر ‘جزوی نظرِ ثانی کی درخواست’ الیکش کمیشن میں پیش کی جس میں اسکروٹنی کے عمل کے دوران چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا مالیاتی ماہر کو شامل کرنے کی تجویز پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ نظرِ ثانی درخواست میں حکمراں جماعت نے دعویٰ کیا کہ اسکروٹنی کے عمل میں کے دوان مالیاتی ماہر کی معاونت کی اجازت دینا پورے عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں ای سی پی بینچ نے اسکروٹنی کمیٹی کو دستاویزات کے معائنے کے لیے دونوں فریقین کو 8 روز دینے اور اپنی رپورٹ کمیشن کے پاس مئی کے اختتام تک جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے دونوں فریقین سے اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ان کے تکنیکی ماہرین کے نام بھی طلب کیے تھے۔ چنانچہ گزشتہ روز اکبر ایس بابر سید احمد شاہ کی سربراہی میں قانونی ٹیم اور بدر اقبال چودھری کے ساتھ اور ای سی پی کے سامنے تحریری طور پر نامزد کیے گئے مالیاتی ماہرین کے ہمراہ الیکشن کمیشن پہنچے تاہم کمیشن کے رکن خیبرپختونخوا ارشاد قیصر کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے لیے جانے کی وجہ سے ای سی پی ڈائریکٹر جنرل قانون دستیاب نہیں تھے لہازا اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوسکا۔ اکبر ایس بابر نے اسکروٹنی کمیٹی کے ایک رکن سے کہا کہ کمیشن کے احکامات کے مطابق کمیٹی بلا کسی تاخیر کے کارروائی آگے بڑھائے۔
بعدازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ کمیٹی کو بلا تاخیر اسکروٹنی کا عمل کرنا چاہیے اور پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی تمام تفصیلات کے مطالعے کے لیے 8 روز کے شیڈول کو حتمی شکل دینی چاہیے۔ تاہم تحریک اںصاف کی جانب سے اس عمل کو چیلنج کئے جانے کے فیصلے کے بعد خدشہ ہے کہ چھ برسوں سے زیرسماعت فارن فنڈنگ کیس کو مزید لٹکانے کی کوشش کی جائے گی۔
