کیا آشوب چشم کے مریضوں کو ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے؟

آشوب چشم کی وبا پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جس سے بچائو کیلئے کچھ لوگ گھریلو ٹوٹکے آزما رہے ہیں لیکن ماہرین طب کے مطابق یہ مرض 8 سے 10 روز میں خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے جبکہ گھریلو علاج کی بجائے ڈاکٹرز سے رجوع کرنا چاہئے۔ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار دو سو 69 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، 36 اضلاع میں آنکھوں میں انفیکشن کے کلتین لاکھ 94 ہزار سات سو 95 کیسز رپورٹ ہوئے، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے اور صحت یابی میں مدد کے لیے آنکھوں کے مناسب حفظان صحت کو برقرار جائے، بشمول صاف پانی سے باقاعدگی سے دھونا، تیز دھوپ سے تحفظ، اور دھول اور گندگی سے بچانا۔صوبہ پنجاب میں رواں برس کے آغاز سے اب تک آشوب چشم کے تین لاکھ 57 ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں، تیزی سے پھیلنے والے اس انفیکشن سے آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں، ان میں نہ صرف خارش ہوتی ہے بلکہ یہ بہنے بھی لگتی ہیں، یہ بیماری نہ صرف ہاتھوں کے ذریعے پھیلتی ہے بلکہ کھانسی اور چھینک سے بھی ایک سے دوسرے کو منتقل ہو سکتی ہے۔نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر نے آشوب جشم کے وائرل مرض کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بروقت حفاظتی اقدامات کرنے کی تنبیہ کی ہے اور مریضوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاج کے لیے خود سے ادویات لینے سے گریز کریں۔نگراں وفاقی وزیر نے کہا کہ آشوب جشم گنجان آباد شہروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں لوگ فیکٹریوں، بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ پلازوں جیسے غیر محفوظ ماحول میں رہ رہے ہیں، انہوں نے آشوب جشم کے مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آنکھوں کی صفائی کے لیے تجویز کردہ آنکھوں کے قطرے اور ٹشو پیپر استعمال کریں، عارضی راحت کے لیے ٹھنڈے پانی کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، سینی ٹائزر کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اور خبردار کیا کہ ہاتھ اچھی طرح دھوئے بغیر آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں، موجودہ صورتحال میں باہمی فاصلہ برقرار رکھنا اور گھر پر رہنا سب سے مؤثر احتیاطی تدابیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مرض میں مبتلا بہت سے لوگ طبی معائنہ کے لیے ڈاکٹر کے پاس نہیں جا رہے ہیں جبکہ دیگر خود دوا کا سہارا لے رہے ہیں جو مریضوں کی آنکھوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، محکمہ صحت نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی حفاظتی ہدایات جاری کر دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت پنجاب نے صوبے کے تمام ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا ہے کہ وہ اپنے شعبہ امراض چشم اور بیرونی مریضوں میں زیادہ سے زیادہ حفاظتی انتظامات کریں، آنکھوں کے امراض میں مبتلا تمام مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کرنا چاہئے جہاں آنکھوں کے ماہرین کو ڈیوٹی پر
ریاست کی رٹ کیلئے کسی حد تک بھی جائیں گے
رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔
