اکبر ایس بابر کے بعد کپتان کے ایک اور ساتھی کی چارج شیٹ

تحریک انصاف کے گھر کے بھیدی سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ، فوج کے ایما پر ثاقب نثار کے ہاتھوں نواز شریف کی نااہلی، جنرل ظہیر الاسلام کی سرپرستی میں 126 روزہ دھرنے اور پی ٹی آئی وزراء کی کرپشن کا پردہ چاک کرتے ہوئے لنکا ڈھادی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کی کشتی کو ڈوبتا دیکھ کر اب گھر کے بھیدی لنکا ڈھا رہے ہیں۔ اپنی ہی جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے اکبر ایس بابر کے بعد تحریک انصاف کے سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد نے کپتان کی نااہلی اور ان کی ٹیم کی کرپشن کا پردہ چاک کرتے ہوئے تبدیلی سرکار کو بیچ بازار ننگا کردیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے لوگوں کا مؤقف ہے کہ برسوں بعد احمد جواد کا ضمیر اس لئے جاگا کہ اسے پارٹی عہدے سے ہٹایا گیا۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ اگر بالفرض احمد جواد جھوٹا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ تحریک انصاف کا سیکرٹری اطلاعات ایک انتہائی جھوٹا شخص تھا۔ اور اگر سچا ہے تو پھر پوری نظام تبدیلی کس حال میں ہے۔ خیال رہے کہ احمد جواد ایک سابق نیوی افیسر ہیں، وہ بحیثیت لیفٹیننٹ اپنی تنخواہ کا دس فیصد شوکت خانم کو دیتے تھے۔ 2000 میں عمران خان کی دعوت پر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے 2010 میں پی ٹی آئی کا میڈیا سیل قائم کیا اور اس کے پہلے آرگنائزر بن گئے، 2018 کے عام انتخابات کے بعد وزیر اعظم کے خصوصی ترجمانوں میں شامل ہوگئے، دسمبر 2021 تک تحریک انصاف کے تنظمیوں کی تحلیل تک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھے۔
اب احمد جواد نے سینئیر صحافی سلیم صافی سے ایک انٹرویو میں تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ نواز سیاست اور کئی کابینہ اراکین کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کئے ہیں۔ 2014 کے 126 روزہ دھرنے کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ یہ دھرنا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر دیا گیا تھا اور اسے اسٹیبلشمنٹ کی 110 فیصد حمایت حاصل تھی۔ لیکن تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف بے خبر تھے اور سارا کھیل آئی ایس آئی چیف ظہیر اسلام کنٹرول کرہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری پیغام رسانی کی خدمات سر انجام دیتے تھے۔ احمد جواد نے دعویٰ کیا ہے دھرنے کے آخری دنوں میں جب میں نے سیف اللہ نیازی کو مشورہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کم ہونے کی وجہ سے لوگ کم آرہے ہیں لہٰذا بہتر ہے کہ دھرنا ختم کر دیا جائے تو مجھے بتایا گیا کہ فواد چوہدری پیغام لایا ہے کہ کچھ نہیں ہوگا، دھرنا جاری رکھیں۔ بقول احمد جواد آخری دن صرفِ 50 لوگ دھرنے میں شریک تھے جن میں بھی شامل تھا۔
انٹرویو میں احمد جواد نے دعویٰ کیا کہ جب نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو ایکسٹینشن دینے سے انکار کیا تو پھر دھرنا 2 کا اہتمام کیا گیا اور ہمیں بتایا گیا کہ ایک چیف جسٹس آئے گا جو نواز شریف کو نااہل کریگا۔ بقول جواد پاناما کیس میں نواز شریف کی نااہلی سے ایک ہفتہ قبل تحریک انصاف کا ایک اہم لیڈر پیغام لیکر آیا کہ نواز شریف نااہل ہوجائیں گے لیکن عوام میں اس کی نااہلی کو جسٹیفائی کرنے کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے بھی ایک قربانی دینی پڑے گی۔ اس محفل میں عمران خان اور جہانگیر ترین دونوں بیٹھے ہوئے تھے۔ عمران خان کا کیس کمزور اور جہانگیر ترین کا مضبوط تھا لیکن جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ وہ اس دن بہت پریشان تھے۔ احمد جواد نے دعویٰ کیا کہ 2018 کے الیکشن سے قبل تحریک انصاف کے عہدیدار فوج کے مقامی کمانڈر سے رابطے اور تعلقات بڑھانے کے لیے سرگرداں رہے۔ اکثر امیدواروں کے نام اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے فائنل کئے گئے تھے۔
احمد جواد کے بقول پی ٹی آئی کے ایک سئنیر رہنما نے بہت عرصہ قبل عمران خان کو کہا تھا کہ اگر آپ الیکشن جیت گئے تو صدر بن جانا، وزیر اعظم بننے کی غلطی نہ کرنا ورنہ تباہی آجائے گی۔ جواد کے بقول عمران نے یہ مشورہ نہیں مانا اور آج وہ تباہی آچکی ہے کیونکہ عمران کے پاس 11 سے زیادہ انسانوں کو مینیج کرنے کا تجربہ نہیں تھا۔ بقول احمد جواد عمران خان خود کرپٹ نہیں لیکن کرپٹ لوگ انہیں بہت اچھے لگتے ہیں حالانکہ جو شخص خود کرپٹ نہ ہو تو اسے کرپٹ شخص کے پاس بیٹھنے سے گھن آتی ہے۔
احمد جواد نے بتایا کہ تحریک انصاف کا جو لیڈر اپوزیشن کے ساتھ جس قدر زیاد بدتمیزی کرے، بد تہذیبی کرے، بھانڈ پن کرے، تمسخر اُڑاۓ وہ اُتنا ہی عمران خان کے قریب آ جاتا ہے۔ شہباز گل، فواد چوہدری اور فردوس عاشق سب اسی کلاس میں آتے ہیں۔ احمد جواد نے دعویٰ کیا کہ جب میں یہ کام نہیں کر سکا تو مجھے ترجمانوں کی لسٹ سے نکال دیا گیا۔
اپنے تہلکہ خیز انٹرویو میں احمد جواد نے تحریک انصاف کے وزراء کی کرپشن سے بھی پردہ اٹھایا۔ بقول جواد ایک سئنیر پارٹی رہنما نے عمران خان کو بتایا کہ دو وزراء بڑا مال بنا رہے ہیں تو عمران نے حیرت سے کہا کہ مجھے تو نہیں معلوم۔ اس رہنما نے کہا کہ اگر بحیثیت وزیر اعظم آپ کو نہیں معلوم تو یہ جرم ہے اور اگر معلوم ہونے کے باوجود خاموش ہیں تو یہ اس سے بڑا جرم ہے۔ اس پر عمران کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ احمد جواد نے کہا کہ میں صرف ایک وزیر کی مثال دیتا ہوں۔ علی زیدی حکومت سے قبل لوگوں سے کمیشن لیتا تھا حتی کہ دبئی میں پراپرٹی یا کسی کی عمران خان سے ملاقات کی بھی کمیشن لیتا تھا۔
کالعدم ٹی ٹی پی کی سینئر رہنما مفتی خالد بلتی کی ہلاکت کی تصدیق
جب علی زیدی وفاقی وزیر بنا تو کے پی ٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل جمیل اختر نے مجھے بتایا کہ یہ کس قسم کا بندہ آپ لوگوں نے ہمارے اوپر لگایا ہے۔ کبھی کہتا ہے میری گاڑی کے ٹائر تبدیل کردو کبھی کہتا خانساماں کی تنخواہ دے دو۔ جب اس نے مطالبات نہیں مانے تو عہدے سے ہٹادیا پھر ہائیکورٹ نے بحال کروایا۔ اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایف بی آر سے ایک کرپٹ افسر نادر ممتاز کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کا چیئرمین لگا دیا گیا۔ 3 دفعہ ایکسٹینشن دیکر عارضی طور پر لگائے مافیا کے اس نمائندے کو مستقل کر دیا گیا۔
بقول احمد جواد آج کل کے پی ٹی ہاؤس علی زیدی کے زیر استعمال ہے اور وہاں شام کو جو کچھ ہوتا ہے میڈیا اسے دکھانے کی ہمت کیوں نہیں کررہا۔ احمد جواد نے دعویٰ کیا کہ علی زیدی کے کرپشن اور عیاشیوں بارے جب مجھے پتہ چلا تو میں نے پی ٹی آئی ث چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی سے بات کی۔ اس نے میرے سامنے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو میسج کرکے پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے۔ جس پر عمران اسماعیل نے جواب دیا کہ 99 فیصد سچ ہے۔ سیف اللہ نیازی نے عمران کو وہ میسج بھیجے۔ میرے پاس بھی سارا ریکارڈ محفوظ ہے لیکن عمران نے اس کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا حالانکہ وہ کرپشن مخالف بیانیہ لے کر اقتدار میں آئے تھے۔
