شریف فیملی نے وزارت اعلی بارے کیا ریکارڈ قائم  کیا؟

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مریم نواز کی صورت میں کسی بھی صوبائی اسمبلی میں خاتون قائد ایوان کا چناؤ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نون لیگ کی چیف آرگنائز ر مریم نواز نے اپنے والد میاں نواز شریف اور چچا شہباز شریف کے برعکس یکطرفہ مقابلے کے بعد وزیر اعلی منتخب ہو گئی ہیں اورانہوں نے حلف اٹھاتے ہی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کی پارلیمانی تاریخ میں وزیر اعلیٰ کیلئے پہلاالیکشن انیس سو اٹھاسی میں سیاسی جماعتوں کی بحالی کے بعد ہوا۔ جس میں میاں نواز شریف دوسری مدت کیلئے وزیر اعلیٰ چنے گئے اور سردار فاروق لغاری اپوزیشن لیڈر مقرر ہوئے ۔ تاہم وہ نواز شریف کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دیکر مرکز میں چلے گئے اور پانی و بجلی کے وزیرمقرر ہوئے۔ انیس سو نوے میں نون لیگ کے غلام حیدر وائیں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو اس وقت اسپیکر میاں منظور احمد وٹو نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے اور پارلیمانی تاریخ میں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کروائی۔ جس میں پیپلز پارٹی نے ان کا ساتھ دیا اور غلام حیدر وائیں شکست کھا گئے ۔ وہ دو سال وزیر اعلی رہنے کے بعد سبکدوش ہوئے تو میاں منظور احمد وٹو پچیس اپریل سنہ انیس سو ترانوے میں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ لیکن وہ صرف چوراسی روز کیلئے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس دوران اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو شیخ منظور الہی نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے ۔ لیکن ملکی تاریخ میں پہلی بار ہی سپریم کورٹ نے یہ اسمبلیاں بحال کر دیں اور منظور وٹو پھر وزیر اعلیٰ بن گئے۔ تاہم ایک سال تین سو اٹھائیس روز وزیر اعلیٰ رہنے کے بعد انہیں رخصت ہونا پڑا اور پیپلز پارٹی کی مدد سے ملکی تاریخ میں پہلی بار کم ترین اراکین کے ساتھ سردار عارف نکئی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے ۔ جو ایک سال اکیاون روز وزیر اعلی رہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انیس سوستانوے میں نون لیگ کو فتح حاصل ہوئی تو پہلی بار جہاں مرکز میں میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ بنے۔ وہیں پنجاب میں ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ یہ وہ انتخاب تھا جس میں چودھری پرویز الہی اور نواز شریف کے خاندان میں پہلی بار اختلاف رائے سامنے آیا۔ لیکن اسے ہوا نہ دی گئی اور جب بارہ اکتوبر کو جنرل پرویز مشرف نے اسمبلیاں تحلیل کر کے شریف خاندان کو پابندسلاسل کیا تو اس وقت شہباز شریف دو سال چونتیس روز تک وزیر اعلی رہ چکے تھے۔ شریف خاندان کی جلا وطنی کے دوران چودھری خاندان نے پرویزمشرف کا ساتھ دیا۔ جس کے نتیجے میں دو ہزار دو کے عام انتخابات پرویز الہی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ جو اسمبلی کی مدت پوری کرنے والے پہلےوزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ۔ جبکہ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نواز شریف بحالی جمہویت انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والےالیکشن میں بلا مقابلہ وزیر اعلی بنے تھے اور انیس سو نوے تک پانچ سال ایک سو انیس روز تک وزیر اعلی رہنے کا ریکارڈ بنا چکے تھے۔

خیال رہے کہ پارلیمانی تاریخ میں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کسی منتخب وزیر اعلی کا کم ترین عرصہ گیارہ اپریل دو ہزار آٹھ سے آٹھ جون دو ہزار آٹھ تک  صرف اٹھاون روز کا ہے۔

جس کے بعد شہباز شریف وزیر اعلی منتخب ہوئے ۔ وہ دو ہزار نو میں پچیس فروری سے تیس مارچ تک گورنر راج نافذ ہونے کے باعث غیر فعال بھی رہے اور پھر دو ہزار تیرہ اور دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد بھی پوری مدت کیلئے وزیر اعلیٰ رہے۔ تاہم دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے سردار عثمان بزدار وزیر اعلیٰ بنے۔ ان کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور ان کے استعفے کے بعد پہلی بار شریف خاندان کو وزیر اعلیٰ کے الیکشن میں سخت ترین مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران سردار عثمان بزدار تین سال دو سوتر پن روز تک وزیر اعلیٰ رہے۔

واضح رہے کہ جس طرح شریف خاندان نے آسان مقابلوں کے بعد وزارت اعلی کے منصب کا طویل ریکارڈ قائم کیا۔ اس طرح اسی خاندان کے حمزہ شہباز کا کم ترین عرصے صرف ستاسی روز تک وزیر اعلی رہنے کا بھی ریکارڈ قائم ہوا۔ نون لیگ ہی کا ریکارڈ سردار دوست محمد کھوسہ کی اٹھاون روزہ وزارت اعلی کا بھی ہے لیکن انہوں نے اپنی قیادت کیلئے منصب چھوڑا تھا۔ جبکہ حمزہ شہباز شریف ہنگامہ خیز الیکشن میں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے اور عدالتی فیصلے کے باعث سبکدوش ہوئے۔ ان کےبعد چودھری پرویز الہی ستائیس جولائی دو ہزار بائیس کو وزیر اعلیٰ بنے اور ایک سال ستاسی روز کے بعد انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے شدید دباؤ پر استعفیٰدیدیا اور اسمبلی تحلیل کروادی ۔ اس مرحلے پر بھی نئی پارلیمانی تاریخ رقم کی گئی کہ انہوں نے اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کرنے والے روز ہی دن کے ابتدائی پہر میں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا اور اس کے تیسرے پہر اسمبلی توڑ دی تھی۔ تاہم اب حالیہ آٹھ فروری کے الیکشن میں پہلی بار وہ خود،ان کا کوئی بیٹا بیٹی یا بیوی حتی کہ قریبی ساتھی بھی پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب نہیں ہو سکا۔ پنجاب اسمبلی کی مدت کے دوران کم ترین عرصے کیلئے وزیر اعلیٰ رہنے والوں میں پی پی دور کے تین وزرائے اعلیٰ ملک معراج خالد ، غلام مصطفیٰ کھر اور حنیف رامے کے نام بھی شامل ہیں۔

Back to top button