نئے کور کمانڈر کوئٹہ آصف غفور متنازعہ کیوں ہیں؟

یکم اگست کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد کی شہادت کے بعد انکی جگہ لینے والے لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو ایک پروفیشنل لیکن متنازعہ سیاسی جرنیل سمجھا جاتا ہے جو بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے ترجمان کا فریضہ بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔

بطور فوجی ترجمان آصف غفور کی ذات کے سے جو تنازعات جڑے ہوئے ہیں ان میں سرفہرست ڈان لیکس کا معاملہ ہے۔ تب نواز شریف وزیر اعظم تھے اور انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر پر شدید تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ وزیر اعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس کی خبر لیک ہو کر انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہو گئی۔ اس خبر کو آئی ایس پی آر کے ترجمان آصف غفور نے ‘قومی سلامتی کے منافی’ قرار دے کر حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا تھا۔ سیرل المائیڈہ نے اس خبر میں غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت کے درمیان اختلاف کا ذکر کیا تھا، تاہم فوجی ترجمان آصف غفور نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ حکومت نے اس معاملے کی تحقیق کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی رپورٹ آنے کے بعد پرویز رشید کو وزیر اطلاعات کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

لیکن اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے آصف غفور نے سرکاری اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی ڈان لیکس بارے تحقیقاتی رپورٹ نامکمل ہے لہٰذا اسے مسترد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس رپورٹ کے لیے لفظ rejected استعمال کیا تھا جس سے ملک میں ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ بعد ازاں سول اور فوجی حکام کے مابین کئی ہفتوں کے مذاکرات کے نتیجے میں اس ٹویٹ کوواپس لے لیا گیا تھا لیکن یہیں سے نواز شریف اور فوجی قیادت کے مابین اختلافات کی بنیاد پڑ گئی۔

وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں آصف غفور کو فوج سے زیادہ حکومت کا ترجمان سمجھا جاتا تھا جو اس کے میڈیا منیجر کا کردار ادا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ جب 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی جیت کی رپورٹس آنا شروع ہوئیں تو آصف غفور نے ٹویٹ داغا تھا وتعز من تشاء وتذل من تشاء۔ اس ٹویٹ پر بھی ملک بھر میں کئی دن خوب لے دے جاری رہی تھی کیونکہ آر ٹی ایس سسٹم بٹھائے جانے پر اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن 2018 میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔ تحریک انصاف کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں عمران خان حکومت پر تنقید ہونا شروع ہوئی تو آصف غفور نے فوجی ترجمان ہونے کے باوجود اسکا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ وہ اکثر حکومت پر ہاتھ ہولا رکھنے کے لیے میڈیا اداروں کو پریس ایڈوائس بھی جاری کرتے تھے۔ اپنی ایک پریس کانفرنس میں تو آصف غفور اس حد تک کھل کر سامنے آ گئے کہ انہوں نے صحافیوں اور میڈیا اداروں کو مشورہ دیا کہ نئی حکومت کو کم از کم 6 ماہ دیں اور تب تک کوئی منفی خبروں دینے کی بجائے ملک کی مثبت تصویر کشی کریں۔

ایک اور موقع پر آصف غفور نے قوم پرست سیاسی رہنمائوں کی تصاویر دکھا کر کہا تھا کہ یہ لوگ قومی اداروں کے خلاف پراپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس عمل پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا کر کے فوجی ترجمان نے ان لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔

شاران بلوچ، مرحومہ کریمہ بلوچ سے متاثر نکلی

سینئر صحافی وارثی کے مطابق آصف غفور کے بطور فوجی ترجمان پاکستانی میڈیا مالکان اور صحافیوں سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ان کا دور ایک اور متنازعہ سابق فوجی ترجمان جنرل عاصم باجوہ کے دور سے بھی اہم مانا جاتا ہے۔ جب ن لیگ کی قیادت فوج پہ تنقید کر رہی تھی تو جنرل غفور نے ادارے کو بھر پور انداز میں ڈیفنڈ کیا۔ کچھ مبصرین کے مطابق ان کی اسی کارکردگی کے باعث ان کو تیزی سے ترقیاں ملی ہیں۔ 3 اگست کو لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی شہادت کے بعد کور کمانڈر کوئٹہ کی پوزیشن سنبھالنے والے آصف غفور اس سے قبل اوکاڑہ کور کے کمانڈر تھے۔ انہوں نے 1988 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور کارگل کی جنگ میں بھی بطور میجر حصہ لے چکے ہیں۔ بعد ازاں 2008 سے 2010 کے درمیان سابق فاٹا اور سوات میں ہوئے طالبان مخالف آپریشنز میں بھی انہوں نے بطور لیفٹیننٹ کرنل حصہ لیا۔ 2016 میں آصف سوات میں ایک ڈویژن کے کمانڈر تھے اور پھر ڈی جی آئی ایس پی آر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

Back to top button