کیا ڈالر کی قیمت 250روپے سے نیچے آنے والی ہے؟

پاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں سے روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔گزشتہ ایک ہفتے میں ڈالر کی انٹربینک قدر میں تقریباً چھ روپے کی کمی ہوئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں گراوٹ کا رجحان جاری ہے اور یہ 296 روپے 15 پیسے پر پہنچ گیا ہے۔پاکستان میں ایکسچینج کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں، بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد اور اسمگلرز کیخلاف کارروائی کے بعد ملکی ترسیلات زر میں 10؍ سے20؍ فیصد تک اضافہ متوقع ہے جبکہ اگر کریک ڈاؤن جاری رہا تو ڈالر کی قیمت 250روپے سے بھی نیچے آ سکتی ہے۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز ہی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈالر کی سمگلنگ اور گرے مارکیٹ میں کام کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جبکہ حکومت نے ایکسچینج کمپنیز میں بھی سادہ لباس میں اہلکار تعینات کیے ہیں۔ان تیز رفتار اقدامات کے اثرات مارکیٹ میں واضح ہیں تاہم اشیائے صرف کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں دیکھی جا رہی۔
دوسری جانب دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا ہے کہ کریک ڈاؤن سے قبل ایکسچینج کمپنیوں کو روزانہ پانچ ملین ڈالرز ملتے تھے لیکن اب انہیں 15؍ ملین ڈالرز مل رہے ہیں یعنی اس میں 200؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے ریٹس میں نمایاں کمی آئی ہے اور فی ڈالر 295؍ روپے کا ہوگیا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کارروائی جاری رہی تو ڈالر 250؍ روپے سے نیچے آ جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں، بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد اور اسمگلرز کیخلاف حالیہ کارروائی کے نتیجے میں بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد اور بینکوں کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈالرزکی بڑی تعداد مختلف بینکوں کے لاکرز میں رکھی گئی تھی اور بینکوں کا عملہ بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے ساتھ مل کر یہ ڈالرز حوالہ اور ہُنڈی میں استعمال کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان لاکرز کی چابیاں بینک کے کرپٹ عملے کے پاس ہوتی تھیں اور جیسے ہی انہیں بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کی طرف سے پیغام ملتا تھا تو یہ کرپٹ بینک عملہ امریکی ڈالرز کی غیر قانونی تجارت شروع کر دیتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کے اس غیر قانونی کاروبار میں کئی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان بھی ملوث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈالر کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کیلئے مستقل اقدامات سے پاکستان اپنے زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کر سکتا ہے۔6؍ ستمبر کو فوجی قیادت کی جانب سے پر زور انداز سے شروع ہونے والے اس کریک ڈاؤن کے بعد ملکی بینکوں اور اوپن مارکیٹس میں لاکھوں کروڑوں ڈالرز آ چکے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ رواں ماہ کے آغاز میں انٹر بینک میں ایک ڈالر 308؍ جبکہ اوپن مارکیٹ میں 330؍ روپے کا ہوگیا تھا لیکن اب ریکوری ہو رہی ہے اور ڈالر کا ریٹ انٹر بینک میں 295؍ جبکہ اوپن مارکیٹ میں 296؍ روپے کا ہوگیا ہے۔ڈالر کی غیر قانونی تجارت کیخلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رہا تو ڈالر کا ریٹ مزید کم ہوگا۔ ملک بوستان نے کہا کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے درخواست کی تھی کہ ڈالر کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوز میں ملوث افراد اور مافیاز کیخلاف کارروائی کریں۔ کریک ڈاؤن سے قبل، لوگوں کی اکثریت بلیک مارکیٹ میں ڈیلرز سے رجوع کر رہی تھی۔
دوسری جانب سیکریٹری جنرل ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ڈالر سمیت اسمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے لیکن کریک ڈاؤن کے باوجود بھی لوگ ڈالر فروخت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ظفر پراچہ ڈالر نے اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف کریک ڈاؤن سے ہی تمام مسائل کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے لیے پالیسی بھی بنانی ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی تیل سمیت دیگر اشیا کی اسمگلنگ کے خلاف مزید سختی ہو نی چاہیے اور مؤثر پالیسی بناکر ان کا تسلسل بھی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ حالات پر قابو کرنے کے لیے پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران سے بارٹر ٹریڈ
اداکارہ شگفتہ اعجاز اپنی والدہ کی طرح موذی مرض کا شکار؟
کو اپنانا ہو گا اور اس کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسی بھی بنانی ہوگی۔
