فلم ’’لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ امریکی اسٹنٹ ایوارڈ کیلئے نامزد

معروف پاکستانی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ ‘‘ کا اختتام بھی فلم کو انٹرنیشنل ایوارڈ کے لیے نامزد کر گیا ہے، جی ہاں، فلم کو امریکی اسٹنٹ ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا گیا جس کی وجہ فلم کا اختتامی منظر، فائٹ سینز کو قرار دیا جا رہا ہے۔بلال لاشاری کی فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے اختتامی منظر میں مولا جٹ اور نوری نتھ کے ایکشن سین کو فلمایا گیا ہے، جسے اداکار فواد خان اور حمزہ علی عباسی نے ادا کیا، فلم کے اس منظر کو اسٹنٹ ماسٹر ایان وان ٹیمپرلے نے اپنی نگرانی میں کروایا تھا، ٹورس ورلڈ اسٹنٹ ایوارڈ کی کیٹیگری میں پاکستانی فلم کے مقابلے میں دیگر فلمیں بھی نامزد ہوئی ہیں جن میں آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’ایوری تھنگ ایوری ویئر آل ایٹ ونس‘ اور ’دی گرے مین‘ بھی شامل ہیں۔ٹورس ورلڈ اسٹنٹ ایوارڈز ہر سال منعقد ہونے والی ایک سالانہ ایوارڈ تقریب ہے جو دنیا بھر کی فلموں میں اسٹنٹ اداکاروں کی بہترین پرفارمنس کے لیے دیا جاتا ہے، یہ تقریب ہر سال لاس اینجلس میں منعقد ہوتی ہے، ٹورس ورلڈ اسٹنٹ ایوارڈز کی پہلی تقریب 2001 میں ہوئی تھی جہاں اداکاروں کو ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ہالی وڈ کی متعدد بلاک بسٹر فلمیں ونس اپان اے ٹائم ان ہالی وڈ (Once Upon a Time in Hollywood) ، کنگز مین (Kingsman) ، فاسٹ اینڈ فیوریئس 6 (Fast and Furious 6) ، انسیپشن (Inception) اور دی ایوینجرز (The Avengers) اسٹنٹ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں، اور اب پاکستانی فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ بھی یہ ایوارڈ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئی ہے۔ٹورس ورلڈ اسٹنٹ ایوارڈ کی ویب سائٹ کے مطابق دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے ڈسکرپشن باکس میں لکھا گیا کہ مولا اور نوری کئی طرح کے ہتھیاروں سے لڑتے ہیں، کلوز اپس اور وائیڈ اینگل میں اداکاروں نے مختلف طرح کے اسٹنٹ پرفارم کیے، اسٹنٹ کی ریہرسل کرنے میں دو ہفتے لگے اور شوٹنگ میں ایک ہفتہ لگا، ہتھیاروں کا بہترین انداز میں استعمال کیا گیا اور اداکاروں نے کئی گھنٹوں کی مشق اور مہارت کے ساتھ اسے کامیابی سے نبھایا۔فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ اکتوبر 2022 میں ریلیز ہوئی تھی، اپنی ریلیز کے چوتھے ہفتے کے دوران یہ فلم دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی پنجابی فلم بن گئی تھی، اس کے علاوہ یہ 2022 میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی جنوبی ایشیائی فلم ہے، یہی نہیں بلکہ یورپی ملک ناروے میں ہونے والے سالانہ ’بولی وڈ فلم فیسٹیول‘ میں فلم ساز بلال لاشاری کو فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے لیے بہترین فلم ساز کے ایوارڈ سے vبھی نوازا
بہروز سبزواری نے نادیہ خان کو کھری کھری کیوں سنائیں؟
گیا تھا۔
