بہروز سبزواری نے نادیہ خان کو کھری کھری کیوں سنائیں؟

معروف میزبان اور اداکارہ نادیہ خان کو ڈراموں کی کہانیوں پر تنقید کرنا مہنگی پڑگئی، اداکارہ کے ویڈیوز کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اداکار بہروز سبزواری نے نادیہ خان کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا، کئی مواقع پر نادیہ خان کو ٹی وی ڈراموں پر سخت تنقید کرتے ہوئے دیکھا گیا جن کی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو چکی ہیں۔ایک مرتبہ نادیہ خان نے ڈراموں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈراموں میں غیر ازدواجی تعلقات کی ترویج کی جاتی ہے، شادی شدہ خواتین کو غیر مرد حضرات سے معاشقہ کرتے دکھایا جاتا ہے، پاکستانی ڈراموں میں زیادہ تر خواتین اپنے شوہروں کو دھوکا دے رہی ہیں، جب ڈراموں میں بہت سلجھے اور اچھے مرد کے کردار کو دکھایا جاتا ہے تو چڑچڑاپن محسوس کرتی ہوں، کیونکہ آج کل ایسے مرد نہیں ہوتے۔نادیہ خان نے ایک اور جگہ کہا تھا کہ ہمارے ڈراموں میں زیادہ تر خامیاں رائٹرز میں ہیں، ڈراموں کا سکرپٹ کمزور ہے، میں سمجھتی ہوں کہ ہالی وڈ میں جس طرح کام ہوتا ہے ہمیں ویسا کرنے کی ضرورت ہے، ایک سیریز میں ایک سے زیادہ رائٹرز ہونے چاہئے، 16 سے 17 اقساط لکھنا ایک رائٹر کے بس کی بات نہیں ہے۔بہروز سبزواری نے کہا کہ جب ہمارے پاس ڈرامے کا سکرپٹ آتا ہے تو ہم کوشش کرتے ہیں کہ تھوڑی سی تبدیلی لائیں لیکن پورے سکرپٹ کو ہم خود تبدیل نہیں کرسکتے، پی ٹی وی کے دور میں مارشل لا ہونے کے باوجود رائٹر تہذیب اور طریقے کی باتیں کہہ جاتا تھا، اور وہ سیریل بہت مشہور بھی ہوئے۔ڈراموں میں جس تہذیب کا خیال رکھا جاتا تھا آج اس کا فقدان ہے، ہم اس کا حصہ ضرور ہیں لیکن جو بات غلط ہے اسے میں صحیح نہیں بول سکتا، آج کل ریٹنگ پر ڈرامے چلتے ہیں اور بنتے بھی ہے، بہت محنت سے ایک ڈراما یا سیریز بنتی ہے۔بہروز سبزواری نے کہا کہ ڈرامے اتنے آسانی سے نہیں بنتے کہ کوئی بھی اپنا تنقیدی ریویو بنا کر پیش کرلے، ایک پروگرام میں ہماری کچھ روبینہ اشرف سمیت ہماری کچھ دوستیں بھی ڈراموں پر غیر ضروری تنقید کر رہی ہوتی ہیں، ’میں معذرت چاہتا ہوں ان خواتین اور چینل سے کہ آپ یہ بتانے والی کون ہوتی ہیں کہ ڈرامے میں کیا ہونا چاہئے؟ انہیں معلوم ہے کہ ڈرامے میں کتنی محنت سے کام ہوتا ہے۔اس دوران پروگرام میں اداکار خالد انعم نے بھی کہا کہ ’کوئی اور کہتا تو ہمیں تعجب ضرور ہوتا لیکن یہ خواتین خود سیٹ پر آتی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ ڈرامے کے پیچھے کتنی محنت لگتی ہے ان کی جانب سے ایسا کہنا افسوس کی بات ہے۔بہروز سبزواری اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’اس شو میں ایک عجیب خاتون ہیں، نادیہ خان، جو نامور مارننگ شو اینکر تھیں، وہ اپنے مارننگ شو میں بھی مہمانوں کی بے عزتی کرتی تھیں، اس شو میں اپنی ہی انڈسٹری کے لوگوں کا مزاق اڑایا جا رہا ہے، مجھے بہت غصہ ہے، یاد رہے کہ نادیہ خان نے بھی کئی ڈراموں میں اداکاری کی ہے جن میں ’کیسی عورت ہوں میں‘، ’ڈولی ڈارلنگ‘، ’زن مرید‘، ’کم ظرف‘، اور ’ایسی ہے تنہائی‘ کے علاوہ دیگر ڈرامے شامل ہیں۔
