اداروں کا عدم تعاون، الیکشن کمیش بروقت الیکشن کیسے کرائے گا؟

الیکشن کمیشن نے بروقت صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں عدم تعاون پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز کی فراہمی،وزارت دفاع کی طرف سے سیکیورٹی اور لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے آر اوز کی دستیابی سے حتمی انکار کے بعدمزید ہدایات کیلئے سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینئر صحافی عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی حکم کی تعمیل کو یقینی بناتے ہوئےاگرچہ الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کیلئے عام انتخابات کا شیڈول توجاری کر دیا ہےلیکن یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ سپریم کورٹ کی مدد کے بغیر انتخابات کیسے ہوں گے وہ بھی اس وقت جب وفاقی حکومت تعاون کیلئے آمادہ نہیں۔ ذرائر کے مطابق کے پی کے گورنر کے ساتھ الیکشن کمیشن کی مشاورت بے سود ثابت ہوئی ہے کیونکہ گورنر انتخابات کی تاریخ کی بجائے الیکشن کیلئے سازگار ماحول بالخصوص سیکورٹی صورتحال پر زیادہ توجہ دے رہے تھے۔ الیکشن کمیشن کی ٹیم نے انہیں بتایا کہ سیکورٹی صورتحال کے امور پر صوبے کی عبوری انتظامیہ سے بات چیت کی جا سکتی ہے اور گورنر کا مینڈیٹ تاریخ کا فیصلہ کرنے تک محدود ہے لیکن یہ دلیل انہیں قائل نہ کر سکی۔ اس کی بجائے انہوں نے اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کا مطالبہ کیا حالانکہ اس ٹیم کو چیف الیکشن کمشنر نے بااختیار بنا کر بھیجا تھا۔ دوسری طرف جہاں تک پنجاب کی بات ہے تو الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو بیوروکریسی سے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ لاہور ہائی کورٹ نے واضح انداز سے جوڈیشل افسران فراہم کرنے سے انکار کر دیاہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے بیوروکریسی سے لیے گئے آر اوز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، تحریک انصاف نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ بیوروکریسی غیر جانبدار انتخابات نہیں کراسکتی اور نگراں حکومت پنجاب بیوروکریسی کے آر اوز پر اثر انداز ہوگی۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے آر اوز عدلیہ سے لینے کی کوشش کی لیکن لاہور ہائیکورٹ نے جوڈیشل افسران کی فراہمی سے معذرت کی لہٰذا الیکشن کمیشن کے پاس آر اوز بیوروکریسی سے لینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔آر اوز کی تعیناتی مزید التواء میں ڈالنے سے الیکشن ملتوی ہوسکتے ہیں۔

لیکن اس کے علاوہ بھی دو معاملات بہت اہم ہیں، اول، الیکشن کرانے کیلئے فنڈنگ اور دوسرا پولنگ اسٹیشنوں پر فوج اور پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی۔ الیکشن کمیشن کو تین لاکھ اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن  نے پنجاب اور کے پی میں الیکشن کرانے کیلئے 20؍ ارب روپے مانگے ہیں جبکہ وفاقی حکومت انکاری ہے اور کہتی ہے کہ اتنے پیسے دستیاب نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وفاق نے حکومتی ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے 100؍ ارب روپے جاری کیے ہیں۔ تو ایسے میں الیکشن کمیشن کا پلان بی کیا ہوگا؟ وہ آئین کا آرٹیکل 218؍ اور 220؍ نافذ کر سکتا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن متعلقہ اداروں سے حمایت حاصل نہ کر پایا تو وہ کیا کرے گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایسی صورت میں سپریم کورٹ سے رابطہ کرکے فنڈز اور فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے کی درخواست کر سکتا ہے، کیونکہ عدالت ہی کے حکم پر الیکشن کمیشن انتخابی سرگرمیاں شروع کر رہا ہے۔ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ الیکشن کرانے کیلئے کیا عملی میکنزم مرتب کرتی ہے۔

خیال رہے کہالیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کاشیڈول جاری کردیاہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30اپریل کو ہونگے، ریٹرننگ افسر گیارہ مارچ کو پبلک نوٹس جاری کریں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی 12سے 14مارچ تک جمع کرائے جاسکیں گے ، کاغذات کی جانچ پڑتال 22مارچ کو ہوگی اور امیدواروں کو انتخابی نشان 6اپریل کو جاری کئے جائیں گے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کومخصوص نشستوں کی ترجیحی فہرست 14مارچ تک ریٹرننگ افسر کے پاس جمع کرانی ہوگی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں آئندہ ہونے والا الیکشن پاکستانی تاریخ کا مہنگا ترین الیکشن ہوگا پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم دونوں ایک دوسرے کو ہرانے کیلئے پورا پورا زور لگائینگے اس لئے دونوں طرف سے اندھا دھند پیسہ پھینکا جائیگا۔ الیکشن کمیشن قومی اور صوبائی اسمبلیوں پرتقریباً 70ارب خرچ کریگا۔اس طرح آنے والے الیکشن پر کْل خرچہ 10کھرب 12ارب روپے ہوگا۔ الیکشن 2018ء میں ہر ایم پی اے نے اوسطاً اپنی الیکشن مہم پر 15کروڑ جبکہ ہر ایم این اے نے الیکشن مہم پر اوسطاً 30کروڑ خرچ کیا تھا۔

عمران اور ثاقب نثار کی گفتگو لیک ہوگئی تو کیا ہو گا؟

Back to top button