عمران اور ثاقب نثار کی گفتگو لیک ہوگئی تو کیا ہو گا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری کہتے ہیں پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اس وقت ڈسٹرب بھی اور پریشان بھی تاہم وہ سب سے  کہتے یہی ہیں کہ  مجھے جان بوجھ کر گندا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ یہ مجھے انڈر پریشر لانا چاہتے ہیں‘ اپ سیٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن میں اپ سیٹ ہوں اور نہ انڈر پریشر ہوں ..  سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ثاقب نثار کو ان کے گھر جا کر ملے . اپنے کالم میں جاوید چوہدری ریٹائرڈ چیف جسٹس سے ہونے والی اپنی گفتگو کا احوال بیان کرتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد  میری ثاقب نثار  سے چند مرتبہ فون پر گفتگو ہوئی تاہم ملاقات نہیں ہو سکی۔

جسٹس ثاقب نثار کا واٹس ایپ چار دن پہلے ہیک ہو گیا تھا‘ یہ اس پر بہت ڈسٹرب تھے لہٰذا سوموار اور منگل میرا ان سے دو بار ٹیلی فون پر رابطہ ہوا‘ یہ میڈیا اور میرے ساتھ ناراض ہیں لیکن یہ اس ناراضی کے باوجود سب سے بات بھی کر لیتے ہیں اور جس سوال کا جواب یہ دینا چاہتے ہیں یہ دے دیتے ہیں اور جو بات انھیں پسند نہیں آتی یہ اسے گول کر دیتے ہیں۔

یہ ان کی پرانی عادت ہے یہ جس ایشو پر بات نہ کرنا چاہیں یہ اسکا رخ پھیرنے کے لیے کوئی دوسرا موضوع چھیڑ دیتے ہیں‘ میرے ساتھ گفتگو میں بھی یہ بار بار یہ تکنیک استعمال کرتے رہے‘ ان کا کہنا تھا آپ لوگوں نے پورا ملک تباہ کر دیا‘ آپ کی ذمے داری ہے آپ سچ بولیں لیکن آپ جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ نہیں کہہ رہے‘ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے اوپر بے ہودہ الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ انھوں نے نیک نیتی اور انسانی حقوق کو سامنے رکھ کر تمام فیصلے کیے‘ ان کے بقول’’ میں نے ایک لاکھ 30ہزار درخواستیں نبٹائیں لیکن ان پر کوئی بات نہیں کر رہا‘ مجھے جان بوجھ کر گندا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ یہ مجھے انڈر پریشر لانا چاہتے ہیں‘ اپ سیٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن میں اپ سیٹ ہوں اور نہ انڈر پریشر ہوں‘یہ لوگ میری جان تو نہیں لے سکتے‘‘ ان کا کہنا تھا میرا واٹس ایپ اچانک ہیک ہو گیا۔

میرے بیٹے نے واٹس ایپ اور ایف آئی اے کو مطلع کر دیا‘ واٹس ایپ کمپنی کا میسج آ گیا‘ ہم آپ کااکاؤنٹ ریکور کر رہے ہیں لیکن ایف آئی اے کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا، جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا‘ کیا آپ کے واٹس ایپ میں آپ کی کوئی ایسی آڈیوز اور وڈیوز تو نہیں تھیں جنھیں کوئی غلط استعمال کر سکتا ہو۔

یہ سوال ان کو اچھا نہیں لگا اور ان کا کہنا تھا میرا واٹس ایپ ہیک کرنا چوری ہے اور یہ جس نے بھی کی اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا پڑے گا‘ میں اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہوں‘ مجھے ایشوز میں گھسیٹنے‘ خراب کرنے اور تقریروں میں میرے اوپر کیچڑ اچھالنے کی کیا جسٹی فکیشن ہے؟ آپ تو کم از کم سچ کا ساتھ دیں‘آپ تو دوسروں کی زندگی میں گھسنے والوں کے ساتھ نہ چلیں ..  میں نے پوچھا‘ کیا جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید آپ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے رہے تھے؟ جسٹس ثاقب نثار نے کلمہ پڑھ کر جواب دیا۔

بالکل نہیں‘ میرا دونوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا‘ میں اتنا کم زور نہیں تھا کہ جنرل فیض جیسا شخص مجھ سے رابطہ کر سکتا‘ مجھ سے مل سکتا اور میں اس کی خواہش پوری کرتا‘ میں جنرل فیض حمید سے کیوں ملوں گا اور نہ اس میں اتنی جرات تھی کہ یہ مجھے فون کرتا یا ملاقات کرتا‘ میں نے پوچھا آپ نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا تھا۔

یہ فیصلہ آج بھی ڈسکس ہو رہا ہے‘ کیا آپ کا فیصلہ غلط تھا‘یہ فوراً بولے‘ جج درخواستوں اور پٹیشنز میں اٹھائے جانے والوں سوالوں پر فیصلے کرتے ہیں‘ ہمارے سامنے حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے بنی گالا کی منی ٹریل کے حوالے سے تین سوال رکھے تھے اور ہم تین ججز  نے عمران خان کو ان تینمعاملات میں سچا پایا اور ہم نے انھیں صادق اور امین ڈکلیئر کر دیا۔ عمران خان اس کے علاوہ کیا کرتے ہیں‘ ان کی باقی زندگی کیسی گزری اور ان کے باقی معاملات کیا ہیں اور کیا یہ ان میں بھی صادق اور امین ہیں یا نہیں ہیں میری بلا جانے‘ مجھے کیا پتا؟ ان کا کہنا تھا ججز فیصلے کیا کرتے ہیں۔

فیصلے غلط بھی ہوتے ہیں اور صحیح بھی‘ ان پر تنقید بھی ہوتی ہے اور تعریف بھی اور یہ فیصلے ججز کے بعد بھی ڈسکس ہوتے رہتے ہیں‘ میرے فیصلے بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ آپ پڑھ لیں‘ آپ ان پر بات بھی کر لیں تاہم یہ یاد رکھیں جج بھی انسان ہوتے ہیں‘ یہ بھی غلط ہو سکتے ہیں اور ان کے فیصلوں کا فیصلہ بہرحال تاریخ کرتی ہے۔ میں نے پوچھا‘ یہ تاثر ہے جہانگیر ترین بیلنسنگ ایکٹ کا شکار ہو گئے تھے‘ یہ بولے‘ آپ ججمنٹ پڑھ لیں‘ اس کا جواب میں نہیں ججمنٹ دے گی‘ میں نے پوچھا‘ عمران خان نے چند دن قبل آپ سے کیوں رابطہ کیا تھا؟

یہ بولے‘ یہ کسی معاملے میں میری مدد چاہ رہے تھے لیکن میں نے ان سے فوراً کہہ دیا‘ میں اس معاملے کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا‘ میں اس میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا‘ میں نے پوچھا‘ کیا آپ کا واٹس ایپ اس گفتگو کے بعد ہیک ہوا؟ جسٹس صاحب کا جواب تھا‘ میں آپ سے بھی اس معاملے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا‘ میں نے پوچھا‘ کیا عمران خان آپ کے ذریعے موجودہ ججز سے کوئی سپورٹ چاہ رہے تھے۔

یہ سن کر جسٹس ثاقب ناراض ہو گئے اور انھوں نے سخت لہجے میں جواب دیا‘ میں اس معاملے میں قطعاً کوئی بات نہیں کرنا چاہتا‘ نہ ہاں اور نہ ناں‘دوسرا ججز آزاد ہیں‘ یہ میری بات کیوں مانیں گے؟ جاوید چوھدری بتاتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ اگر آپ کی عمران خان سے گفتگو لیک ہو گئی تو کیا یہ آپ دونوں کے لیے خطرناک نہیں ہوگا ؟ یہ سختی سے بولے‘ تم لوگوں نے پورے ملک کو برباد کر دیا ہے۔

بچوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں‘تم لوگوں نے تمام لوگوں کے بارے میں بد اعتمادی اور بے اعتباری پیدا کر دی ہے‘ آپ لوگ میرے ساتھ بھی یہی کر رہے ہیں لیکن میں ڈرنے والا نہیں ہوں‘ میں نے پوچھا‘ آپ کس کو بربادی کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں‘ یہ بولے‘ ہم سب ذمے دار ہیں، میں کسی ایک ادارے کو ذمے دار نہیں سمجھتا‘ ہم سب لوگوں اور اداروں نے مل کر اس ملک کو تباہ کیا‘ آپ نے بھی اور میں نے بھی‘ آپ کی ذمے داری ہے آپ پاکستان کے بارے میں سوچیں‘ بچوں کی زندگیاں تباہ نہ کریں۔

اپنا کنڈکٹ ٹھیک کر لیں‘ ریٹنگ کے پیچھے نہ دوڑیں‘ میں نے پوچھا‘ آپ کا جنرل فیض حمید کے ساتھ کوئی رابطہ ہے؟ یہ بولے‘ بالکل نہیں ہے تاہم جنرل باجوہ ریٹائرمنٹ کے بعد اڑھائی تین ماہ قبل (جنوری 2023 میں) میرے پاس میرے گھر تشریف لائے تھے۔ہم نے چائے اکٹھے پی‘ گپ شپ کی‘ بچوں اور فیملی کے بارے میں بات کی اور بس۔میں نے کہا میرا خیال ہے آپ اس ملاقات سے قبل فیملی سمیت ان کے گھر بھی گئے تھے‘ ان کا جواب تھا یہ ملاقاتیں غیر سیاسی تھیں اور فیملی میٹنگز تھیں‘ ان کا سیاست اور موجودہ حالات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا‘ آپ لوگ اندازے مت لگائیں۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے سابق چیف جسٹس کو ایک بار پھر عمران خان سے گفتگو اور ان کے دور کے مقدمات کی طرف لے جانے کی کوشش کی لیکن یہ بڑی مہارت سے بات کو دوبارہ میڈیا‘ کی کردار کشی اور اپنے کارناموں کی طرف لے آئے اور ان کا کہنا تھا میں نے زندگی میں جو اچھے کام کیے آپ لوگ ان کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ آپ میرے سیاسی فیصلوں کو کیوں زیادہ ڈسکس کرتے ہیں؟ ہمارے پاس اس دور میں جو شواہد تھے ہم نے قانون کے مطابق فیصلے کر دیے‘ آپ فیصلے پڑھیں اور انھیں اچھا یا برا سمجھ لیں‘مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں جاوید چوہدری اس ساری گفتگو کا نتیجہ اخذ کرتے ہوۓ  آخر میں کہتے ہیں کہ مجھے ثاقب نثار کی گفتگو سے یہ محسوس ہوا یہ ڈسٹرب بھی ہیں اور پریشان بھی۔

جعلی ڈگری کیس میں سزا یافتہ شعیب شیخ گرفتار

Back to top button