جنوری 2024میں انتخابات کا انعقاد آئینی ہے یا غیر آئینی؟
الیکشن کمیشن کے آئندہ برس جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کروانے کے واضح اعلان نے کئی ماہ سے انتخابات نہ کروانے کی افواہوں کا خاتمہ کر دیا ہے تاہم پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کروانے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سنہ 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست 2018 سے شروع ہوئی تھی اور اس کی پانچ سال کی مقررہ مدت 12 اگست 2023 کی رات 12 بجے مکمل ہونا تھی تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے مقررہ مدت پہلے نو اگست کو ہی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔آئین کے تحت عام انتخابات اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن بعد ہونا تھے تاہم سابقہ حکومت کی جانب سے مردم شماری کی منظوری کے بعد الیکشن کا انعقاد التوا کا شکار ہو گیا۔ایسے میں ’الیکشن کب ہوں گے‘ کا سوال پاکستان میں اہم ہوتا چلا گیا۔
جمعرات کو ایک اعلامیے میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اس نے ’حلقہ بندیوں کے کام کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست 27 ستمبر 2023 کو شائع کر دی جائے گی اور ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات و تجاویز کی سماعت کے بعد حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 30 نومبر کو شائع کی جائے گی۔‘الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ اس کے 54 دن کے الیکشن پروگرام کے بعد ’انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کروا دیے جائیں گے۔‘ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے سے پاکستان میں عام انتخابات سے جڑا ابہام کچھ کم ہوتا ہوا نظر آیا۔
سیاسی تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے ”تاریخ کا اعلان ایک مثبت اور اہم علامت ہے تاہم پاکستانی سیاست اتنی غیر مستحکم ہے کہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ تین ماہ بعد کیا ہو گا۔‘‘
پاکستان بزنس فورم کے عہدیدار احمد جواد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا اعلان ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے، کیونکہ”تاجر برادری کا مطالبہ تھا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے تاکہ عدم استحکام پر قابو پایا جا سکے، جو ہمیں دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ پاکستانی معیشت کو ایک مکمل استحکام کی ضرورت ہے۔‘‘
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے انعقاد بارے آئین کیا کہتا ہے؟واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 52 میں قومی اسمبلی کی مدت کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ اس میں درج ہے کے قومی اسمبلی کی مدت پانچ برس ہے۔آئین کے آرٹیکل (1) 224 کے تحت اگر اسمبلیاں مدت پوری ہونے سے قبل تحلیل کر دی جائیں تو اس کے بعد 90 دن میں الیکشن کروانے لازم ہیں۔
آئینی ماہر اور پاکستان میں الیکشن کی نگرانی کرنے والے غیرسرکاری ادارے فافن کے ترجمان مدثر رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر اسمبلیاں آئین کی بتائی گئی مدت پوری کر رہی ہیں تو اس دن کے بعد 60 دن کے اندر اندر الیکشن ہو جانے چاہییں اور اگر اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل کر دیا جاتا ہے تو 90 دن کے اندر الیکشن ہوں گے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں انتخابات کےالتوا کی سرکاری وجہ سابقہ حکومت کی جانب سے نئی مردم شماری کی منظوری تھی جو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں دی گئی۔اس منظوری کے بعد سابقہ حکومت کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن کو ملکی آبادی کے تازہ تخمینے کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کی از سر نو حد بندی کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ اگست میں صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ایک خط بھی لکھا گیا۔اس خط میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا، صدر آئین کے آرٹیکل 48 (5) کے تحت اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کیلئے اسمبلی تحلیل کی تاریخ کے 90 دن میں تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں۔
صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے ملاقات کے لیے مدعو کیا تاہم ان کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جوابی خط میں مطلع کیا گیا کہ ترمیم شدہ قانون کے تحت انتخابات کی تاریخ دینا صرف الیکشن کمیشن کا استحقاق ہے۔
خیال رہے کہ ماضی میں غیرمعمولی حالات کو وجہ بتا کر انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔تاہم یہ التوا کس صورت میں کیا جا سکتا ہے اس بارے میں قانونی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس حوالے سے آئین میں واضح طور پر نہیں بتایا گیا ہے ماہر قانون بیرسٹر ظفر اللہ نے بتایا کہ اس میں ’مینڈیٹری ان نیچر‘ اور ’ڈائریکٹری ان نیچر‘ قوانین میں فرق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے آئین کی دفعہ 254 یہ کہتی ہے کہ آئین میں اگر کسی کام کا وقت مقرر ہو اور وہ اس وقت پر نہ ہو سکے تو وہ کام خراب نہیں ہوتا۔ اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔‘’اگر قانون کے تحت کسی بھی کام کا وقت مقرر ہو اگر آپ وہ کام اتنے دنوں میں نہیں کریں تو وہ غیر قانونی ہو گا، غلط ہو گا اور اسے اگر نہ کیا تو اس میں سزا ملے گی تو اس کام کو اتنے دنوں میں کرنا ضروری ہوتا ہے تو وہ مینڈیٹری ان نیچر ہوتا ہے۔‘
’رولز کے مطابق اگر کسی کام میں یہ بتایا جائے کہ آپ کو اتنے دنوں میں یہ کام کرنا ہے لیکن اس کی تاخیر میں سزا یا جرمانے کا ذکر نہ ہو تو وہ ڈائریکٹری ان نیچر ہوتا ہے تو 90 روز میں انتخابات ڈائریکٹری اِن نیچر ہے جس میں وہ کام ضرورتاً آگے پیچھے کر دیا جاتا ہے اور اس میں قباحت نہیں۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ ’جب سپریم کورٹ میں بتایا گیا کہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو فیصلے میں عدالت نے لکھا کہ اس کام میں تاخیر ہو سکتی ہے لیکن کوشش کریں کہ کم سے کم وقت آگے جائے۔۔۔ گویا انھوں نے بات طے کر دی۔‘بیرسٹر ظفر اللہ کے مطابق ’پاکستان کے آئین کی دفعہ 254 کے مطابق
بجلی 3روپے 28پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا فیصلہ
الیکشن لیٹ بھی ہوئے تو بھی یہ درست عمل ہو گا خلاف قانون نہیں۔‘
