گرمی سےیورپ جھلس گیا،فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد1000سےتجاوزکرگئی

40ڈگری سے زائد گرمی نے یورپ کو جھلسا دیا، فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی۔
سکینڈے نیویا سے لے کر الپس تک یورپ کا بڑا حصہ ہفتے کے روز شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا، جہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا اور متعدد ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔
مختلف ممالک میں گرمی کی لہر کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے، صرف فرانس میں 24 جون سے جاری ریکارڈ گرمی کی لہر کے دوران ملک میں معمول سے تقریباً ایک ہزار زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق 85 فیصد اموات 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی ہوئیں، جبکہ سب سے زیادہ اضافہ پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کے اندر ہونے والی اموات میں دیکھا گیا۔
محکمۂ صحت نے واضح کیا کہ یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور حتمی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
جرمنی، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے ابتدائی ریکارڈ قائم ہوئے، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ بنا۔
ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی گرمی انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھی۔
ان کے مطابق اس ہفتے رات کے اوقات میں ریکارڈ کی جانے والی شدید گرمی 2 دہائیاں قبل کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ ممکن ہو چکی ہے۔
جرمنی کی گرین پارٹی کی سابق پارلیمانی رہنما کترین گوئرنگ ایکارٹ نے کہا کہ یہ خوشگوار موسمِ گرما نہیں بلکہ صحت عامہ کا بحران ہے۔
برلن میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر پولیس نے شہریوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے واٹر کینن کے ذریعے ہلکا پانی کا چھڑکاؤ کیا۔
جرمن محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے علاقے مویکرن-ڈریوٹز میں درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
جو ایک روز قبل قائم ہونے والے 41.3 ڈگری کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔
