ایکسٹینشن قبول نہیں، چیف جسٹس فائز عیسیٰ کا صاف انکار

حکومت کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبروں کی تردید کے بعد اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود ایکسٹینشن لینے سے صاف انکار کردیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے افواہیں گرم تھیں کہ شہباز حکومت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مدت ملازمات میں توسیع کرنے کیلئے اسمبلی میں آئینی ترمیم لے کر آنے والی ہے تاہم بعدازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایسی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس نے ان سے اٹارنی جنرل کی موجودگی میں ہونے والی ملاقات میں توسیع لینے سے انکار کر دیا تھا تاہم کچھ دن قبل رانا ثناء الل نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر سارے ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاتی ہے تو چیف جسٹس بھی ایکسٹینشن لینے پر راضی ہو جائینگے تاہم اب چیف جسٹس نے اس دعوے کو بھی رد کر دیا ہے۔

نئے عدالتی سال کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران چیف جسٹس سے سوال کیا گیا کہ رانا ثنااللہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر تمام جج صاحبان کی عمر بڑھا دی جائے تو آپ بھی ایکسٹینشن لینے پر متفق ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رانا ثنااللہ صاحب کو میرے سامنے لے آئیں۔چیف جسٹس نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک میٹنگ کے دوران یہ بات ہوئی تھی جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور اٹارنی جنرل تھے لیکن رانا ثنااللہ نہیں تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس میٹنگ میں وزیر قانون نے کہا کہ حکومت تمام چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کررہی ہے جس پر میں نے کہا کہ باقیوں کی کردیں لیکن میں ایکسٹینشن قبول نہیں کروں گا، مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کل میں زندہ رہوں گا بھی یا نہیں۔

6 ججوں کے خط کا معاملہ سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے بارے سوال کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی نے اس حوالے سے فیصلہ کرنا ہے، جسٹس مسرت ہلالی ناسازی طبع کی وجہ سے نہیں آرہی تھیں جس وجہ سے بینچ نہیں بن پارہا تھا۔چیف جسٹس سے جب سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس بارے میں معلوم نہیں، اس حوالے سے قانون پڑھوں گا اور بہتر ہے آپ یہ سوال پارلیمانی کمیٹی سے پوچھیں، ہوسکتا ہے کہ یہ میرے پاس چیلنج ہوجائے۔

اس سے قبل فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہہر جج کا کچھ نہ کچھ رجحان ہوتا ہے، پہلے بینچ دیکھ کر ہی بتا دیا جاتا تھا کہ کیس کا فیصلہ کیا ہو گا، اب تو مجھے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میرے دائیں بائیں جانب کون سے ججز کیس سنیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ  انہوں نے بطور چیف جسٹس سب سے پہلے فل کورٹ بلانے کا کام ہی کیا تھا، اس سے پہلے 4 سال تک ہم سب جج اس طرح ملے ہی نہیں تھے، اس میٹنگ میں ہم نے فیصلہ کیا تھا مفاد عامہ کے مقدمات براہ راست نشر ہوں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عام طور پر عوام وہی دیکھتے سمجھتے تھے جو کوئی ٹی وی چلائے یا یوٹیوبر دکھائے، ہم نے فیصلہ کیا کہ عوام خود ہماری کارکردگی دیکھیں، عوام خود دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں ہم میں شفافیت ہے یا نہیں۔اپنی ایک سالہ کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں ان کے دور میں پہلی مرتبہ کسی سپریم کورٹ کے جج کو مس کنڈکٹ پر برطرف کیا گیا، ہم نے کچھ عدالتی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا، بھٹو ریفرنس کی سماعت کے بعد ان کیخلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط قرار دیا اسی طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی غلط طریقے سے برطرفی کو بھی کالعدم قرار دیا گیا۔’ججوں کے خلاف بے شمار الزامات لگتے ہیں اور وہ جواب نہیں دے پاتے، ہم نے سپریم جوڈیشل کونسل کے آرٹیکل 5 میں ترمیم کی کہ کسی سپریم کورٹ/ہائیکورٹ کے جج پر الزام لگتا ہے تو وہ جواب دے سکتے ہیں۔‘جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس مظاہر علی نقوی کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں سے شفافیت اور احتساب مانگیں اور خود کا نہ کریں تو بات کی وزن نہیں ہوتی اور فیصلوں کی اہمیت بھی نہیں ہوتی، ہمارے جج پر الزام لگائے گئے، جوڈیشل کونسل نے کارروائی کی اور ان کو برطرف کیا گیا، ہم نے کیس کھلی عدالت میں چلایا اور سپریم کورٹ کے جج کو بد انتظامی پر برطرف کیا گیا پہلی دفعہ پاکستان میں۔

Back to top button