میں معافی مانگتا ہوں!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
آج کے دور میں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکا ہے جہاں خبر کی رفتار تو غیر معمولی ہے، مگر خبر کے نام پر پھیلایا جانے والا جھوٹ سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ سچائی کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی کیخلاف کوئی بات سامنے آئے تو تحقیق سے پہلے ہی اسے آگے بڑھانے، الزام کو حقیقت سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے جس میں ہم سب شامل ہوتے ہیں۔ کسی کی عزت اچھالنے والی تحریر ہو، کوئی غیر مصدقہ خبر ہو یا کسی کی کردار کشی پر مبنی ویڈیو، لوگ اسے پڑھتے، دیکھتے، اس پر یقین کرتے اور پھر دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اپنی سیاسی وابستگی یا پسندوناپسند کی بنیاد پر جو سنتے ہیں، دیکھتے ہیں اُسے آگے بڑھا دیتے ہیں لیکن اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اسلام نے زبان کے استعمال، خبر کی تصدیق اور دوسروں کی عزت و آبرو کے تحفظ کے بارے میں کتنی واضح ہدایات دی ہیں۔ اس حوالےسے محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی ایک تحریر اسی اہم اور نظر انداز کیے جانے والے پہلو کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتی ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ انسان کو دوسروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، بالخصوص کسی پر الزام لگاتے یا کسی کی برائی پھیلاتے وقت، آخرت میں اپنی جواب دہی کو یاد رکھنا چاہیے۔ یہ محض ایک مذہبی نصیحت نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کی اصلاح کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے مفتی صاحب نے ہم سب کو یاددہانی کرائی کہ کس طرح ہمارا ثواب اور نیک اعمال ایسے لوگوں کے پلڑے میں ڈال دیے جائیں گے جن پر ہم نے بہتان تراشی کی ہو گی، جن کے خلاف جھوٹ پھیلایا ہو گا۔ پہلے کسی خبر کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے میں وقت لگتا تھا، لیکن اب چند سیکنڈ میں ایک پیغام ہزاروں، لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد تک پہنچ جاتا ہے۔ مسئلہ صرف رفتار کا نہیں، بلکہ اس رفتار کے ساتھ ہماری ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ اگر ہم کسی غیر مصدقہ خبر کو آگے بڑھاتے ہیں تو ممکن ہے کہ ہم انجانے میں کسی بے گناہ کی عزت، خاندان کے سکون اور زندگی کے معمولات کو تباہ کرنے میں شریک ہو جائیں۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو صرف ایک پوسٹ شیئر کی ہے، کوئی الزام خود نہیں لگایا۔ لیکن کیا کسی جھوٹی بات کو آگے پھیلانا اس کے پھیلاؤ میں حصہ ڈالنا نہیں؟ اگر کسی شخص کے خلاف ایک بے بنیاد الزام ہزاروں افراد تک پہنچتا ہے تو ہر وہ شخص جو تحقیق کے بغیر اسے آگے بڑھاتا ہے، اس نقصان میں اپنا حصہ شامل کرتا ہے۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ خبر کسی دوسرے نے دی تھی یا ہم نے اسے صرف آگے بھیجا تھا۔ اسلام میں کسی پر جھوٹا الزام لگانا، بہتان تراشی کرنا اور کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا سنگین اخلاقی برائیاں ہیں۔ اسلام ہمیں بدگمانی سے بچنے اور دوسروں کی پوشیدہ کمزوریوں کو تلاش نہ کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ کسی کی غیبت کرنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ اس تعلیم کا تقاضا ہے کہ ہم نہ صرف اپنی زبان بلکہ اپنی انگلیوں کو بھی قابو میں رکھیں، کیونکہ آج ہماری انگلیوں سے لکھے گئے الفاظ بھی دوسروں کیلئے اذیت اور رسوائی کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں۔ سیاست دانوں، صحافیوں، مذہبی شخصیات، سرکاری افسران اور معاشرے کے بااثر افراد کے بارے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ کسی کی سیاسی مخالفت اپنی جگہ، کسی کے فیصلےپر تنقید کرنا الگ بات ہے، لیکن اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دینا، جھوٹے الزامات لگانا یا کسی کی کردار کشی کرنا کسی صورت درست نہیں ہو سکتا۔ کسی شخص کا سیاسی مخالف ہونا اس بات کا جواز نہیں کہ اس کیخلاف ہر غیر مصدقہ بات کو درست مان لیا جائے اور اسے پھیلا بھی دیا جائے۔ ہمارے ہاں ایک اور خرابی بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ اپنی پسند کے شخص یا جماعت کے خلاف آنیوالی خبر کو فوراً سچ مان لیتے ہیں، جبکہ اپنے پسندیدہ رہنما کے خلاف کسی خبر پر یقین کرنے سے پہلے متعدد سوال اٹھاتے ہیں۔ گویا سچائی کا معیار حقیقت نہیں بلکہ ہماری سیاسی وابستگی بن گئی ہے۔ یہی رویہ معاشرے میں نفرت، بداعتمادی اور تقسیم کو بڑھاتا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ کوئی خبر موصول ہو تو سب سے پہلے اس کے ماخذ کو دیکھیں۔ کیا یہ کسی معتبر ذریعے سے آئی ہے؟ کیا اس کی تصدیق ہو چکی ہے؟ کیا اسے آگے پھیلانے سے کسی بے گناہ کی عزت مجروح ہو سکتی ہے؟ اور اگر یہ خبر غلط ثابت ہو جائے تو کیا ہم اس نقصان کی تلافی کر سکیں گے جو اس کے پھیلاؤ سے ہو چکا ہوگا؟ یہ سوالات بظاہر معمولی ہیں، لیکن اگر ہم انہیں اپنی عادت بنا لیں تو سوشل میڈیا کا ماحول بہت حد تک بہتر ہو سکتا ہے۔ کسی کی غلطی ثابت ہو بھی جائے تو اسے بیان کرنے کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، تذلیل نہیں۔ تنقید دلیل کے ساتھ ہونی چاہیے، الزام ثبوت کیساتھ اور گفتگو اخلاق کے دائرے میں رہ کر۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم دوسروں کی غلطیاں کتنی جلدی پکڑ لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی زبان، اپنے الفاظ اور اپنے رویوں کو کتنا قابو میں رکھتے ہیں۔ دوسروں کی عزت محفوظ رکھنا صرف ایک سماجی تقاضا نہیں، دینی ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر لکھی گئی تحریر چند لمحوں میں ہماری نظروں سے اوجھل ہو سکتی ہے، مگر اس کے اثرات دیر تک باقی رہ سکتے ہیں۔ کسی کی عزت کو پہنچنے والی ٹھیس، کسی خاندان کی پریشانی اور کسی بے گناہ کے خلاف پیدا ہونے والی نفرت محض ایک پوسٹ حذف کر دینے سے ختم نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگلی مرتبہ جب ہمارے سامنے کسی کے خلاف کوئی خبر، الزام یا تہمت آئے تو اسے آگے بڑھانے سے پہلے رک جانا چاہیے۔ ممکن ہے ہماری خاموشی کسی کی عزت بچا لے اور ہماری تحقیق کسی بڑے نقصان کو روک دے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم سچائی کے امین بننا چاہتے ہیں یا محض افواہوں کے پھیلانے والے۔ کیونکہ آخرکار ہمیں صرف یہ نہیں بتانا ہوگا کہ ہم نے کیا کہا، بلکہ یہ بھی کہ ہم نے کس بات پر یقین کیا، کس الزام کو پھیلایا اور کسی دوسرے کی عزت کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داری کس حد تک ادا کی۔ اس حوالے سے میں اُن تمام لوگوں سے معافی کا طلبگار ہوں جو میری کسی غلط خبر یا سوشل میڈیا پوسٹ سے دکھی ہوئے۔ یہاں ایک دوسرے سے معافی مانگنا، آخرت کے بوجھ سے بہت بہتر ہے۔

 

Back to top button