اسلام آباد پر یلغار کا خدشہ: KP میں گورنر راج کا امکان

 

 

 

تحریک انصاف کی معتدل مزاج قیادت نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نئے وزیراعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کےلیے اسلام آباد پر ایک اور ممکنہ یلغار کے نتیجے میں نہ صرف گورنر راج لگ سکتا ہے بلکہ صوبائی حکومت بھی ختم ہو سکتی ہے۔

 

پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی خیبر پختون خواہ کے علاوہ تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے اسلام آباد کی جانب ایک نئے لانگ مارچ کے اعلانات نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید ہوا دی ہے۔ پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے سہیل آفریدی اور جنید اکبر کے جارحانہ بیانات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 نومبر 2024 کے اسلام آباد دھرنے کی ناکامی کے بعد ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے 100 مرتبہ سوچنا چاہیے اور تمام پارٹی کو مشاورت سے فیصلے لینے چاہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے لب و لہجے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی اہم شخصیات پریشان ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ ایسا جارحانہ رویہ خیبر پختونخوا حکومت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

 

جن لوگوں نے ایسے تحفظات کا اظہار کیا ہے اُن میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور، سینیٹر شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم اور دیگر شامل ہیں۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی طور پر علی امین گنڈا پور نے خبردار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور پارٹی کے صوبائی صدر کے اشتعال انگیزی پر مبنی بیانات پارٹی کی واحد حکومت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے اسے برقرار رکھنا چاہیے اور وفاق کو ایسا موقع نہیں دینا چاہیے جس سے تحریک انصاف کی واحد صوبائی حکومت بھی ختم ہو جائے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان، شبلی فراز اور شیخ وقاص اکرم نے بھی وزیر اعلی بننے کے بعد سہیل افریدی کی جانب سے بار بار فوج کو للکارنے اور اس کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 

پی ٹی آئی قائدین کا موقف ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو رہی ہے، طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ہدف بنانے اور اسکے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے سے 9؍ مئی 2023 جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے جس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال گنڈاپور کی جگہ وزارت اعلیٰ سنبھالنے والے سہیل آفریدی عمران کی رہائی کیلئے اسلام آباد کی جانب ایک فیصلہ کن لانگ مارچ شروع کرنے کے لیے شدید دباؤ میں ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق عمران نے آفریدی کو اس شرط پر وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا تھا کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی ان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک شروع کر دیں گے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے ماضی کے غلط فیصلوں سے خائی سبق نہ سیکھا اورایک بار پھر اسلام آباد پر لشکر کشی کا فیصلہ کیا تو اس سے نہ صرف وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اقتدار کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہو جائے گا بلکہ ایسا غیر حقیقت پسندانہ اور تصادم پر مبنی فیصلہ کے پی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عمران کے لیے بھی نئی سیاسی مشکلات پیدا کر دے گا۔

کور کمانڈر پشاور نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بننے پر مبارک باد دی : شیخ وقاص اکرم

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ بڑے احتجاج کی چہ تیاریاں زور پکڑ رہی ہیں۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس احتجاج کو منظم، مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے پرعزم یے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی ایک نئی احتجاجی تحریک کے لیے چاہے کتنی ہی کوششں کیوں نہ کر لیں، وہ بالاخر ناکام ہی ہوں گے چونکہ 26 نومبر کے بعد سے عمران کی تمام احتجاجی کالز بری طرح ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔

 

Back to top button