عطا تارڑ نے شاہد خاقان،مفتاح اسماعیل کوکھری کھری سنادیں

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اورمفتاح اسماعیل کو کھری کھری سنادیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تار ڑ کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت اصلاحات کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو حکومت کے بہتر معاشی اقدامات کو سراہنا چاہئے تھا، مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ تھے تو مہنگائی زیادہ تھی اب کم ہوئی ہے۔مختلف محکموں میں ڈوان سائزنگ اور رائٹ سائزنگ ہورہی ہے۔پریس کانفرنس میں ان اقدامات کی تعریف ہونی چاہیے تھی۔وزیر اعظم نے سولر پینل، پنشن، کھاد، خیراتی ہسپتالوں، اور آلات پر ٹیکس نہیں لگنے دیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ہمارے دوست ہماری ہر حکومت کا حصہ رہے۔کیا ان کو ایف بی آر اور پی آئی اے کی ڈیجٹائزیشن پر اعتراض ہے۔آپ کو کس چیز پہ اعتراض ہے کیا اس بات پہ اعتراض ہے کہ پنشن اور کھاد پہ ٹیکس نہیں لگایا گیا۔حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے کئی شعبوں میں اصلاحات کی گئیں،حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا کہ نئی اصلاحات متعارف کرائی جائیں،پی ڈبلیو ڈی کی تحلیل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ ڈاﺅن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ پر کمیٹی قائم کی گئی ہے، حکومت باتوں پر نہیں عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے،یہ تاثر غلط ہے کہ 500 ارب روپے ترقیاتی سکیموں میں دیا جا رہا ہے، حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے،وزیراعظم سمیت کابینہ کے ارکان نہ تنخواہ لے رہے ہیں اور نہ مراعات ،وزیراعظم نے حکومتی اخراجات کم کر کے دکھائے۔
مریم نواز آٹے کے نرخ کے غلط اعدادوشمار پیش کرنے پربرہم
عطا تارڑ نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر کام تیزی سے جاری ہے۔اسٹیٹ اون انٹرپرائزز کی نجکاری میں تیزی آئی ہے،آج مہنگائی کم ہو کر 11 فیصد پر آ گئی ہے، ایف بی آر کے 13 ٹریلین کا ریونیو کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے،ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔حکومت کوئی پیسہ لگائے بغیر ملنڈا گیٹس فاﺅنڈیشن کے ذریعے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کر رہی ہے، سولر پینلز پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔وزیراعظم ملک و قوم کی بہتری چاہتے ہیں۔کم از کم اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ میڈیا ورکرز اور رپورٹرز کے حوالے سے بھی کم از کم اجرت کا اطلاق ہونا چاہئے،پی بی اے اور اے پی این ایس نے اس حوالے سے یقین دہانی کرائی ہے،وزیراعظم کا وژن ہے کہ ملکی معیشت کو درست کیا جائے،تجارتی خسارہ کم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے،سٹاک ایکسچینج میں روزانہ کی بنیادوں پر تیزی رہی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بجٹ معیشت کے استحکام کی جانب مثبت قدم ہے۔ایک لاکھ تنخواہ والے کو پچیس سو ٹیکس دینا پڑے گا۔
عطا تارڑ نے کہاکہ سٹاک ایکسچینج میں نئے ریکارڈز بننا اس بات کی دلیل ہے کہ تاجروں نے بجٹ کو قبول کیا ہے۔لوگوں کو اب نان فائلر سے فائلر بننا ہوگا۔اسلام آباد میں فارم ہاؤسز اور بڑے گھروں پہ ٹیکس لگایا گیا ہے۔ٹیکس نہیں دینا چاہتے لیکن معیشت کی بہتری چاہتے ہیں۔کم سے کم اجرت کو سینتیس ہزار کیا گیا۔
