دریائے ستلج میں طغیانی، بند ٹوٹ گئے، آبادیوں میں پانی داخل

بہاولپور کے علاقے میں دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث زمیندارہ بند ٹوٹ گئے، جس کے بعد سیلابی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا، نتیجتاً متعدد مکانات گر گئے اور مکینوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی۔
موضع ساہلاں میں زمیندارہ بند کے ٹوٹنے سے پانی بستی حسین آباد اور دیگر ملحقہ بستیوں میں داخل ہو گیا، جس سے کئی گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، ہیڈ تریموں سے ایک اور بڑے سیلابی ریلے کے اخراج کے باعث دوبارہ ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ملتان نے خبردار کیا ہے کہ ہیڈ تریموں سے نکلنے والا چار لاکھ چودہ ہزار کیوسک کا نیا ریلا دو روز میں ملتان کے بندوں سے ٹکرائے گا۔ انہوں نے دریائی علاقوں کے رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ عارضی طور پر گھروں کو واپس جانے سے گریز کریں۔
ڈی سی ملتان کا کہنا تھا کہ موجودہ ریلا شجاع آباد اور جلالپور پیروالا کے کئی علاقوں میں پہلے ہی نقصان کا باعث بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریلے کے سست رفتار اخراج (ڈسچارج) کے باعث اس کی سطح میں کمی نہیں آ سکی، اور اگر نئے ریلے کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو بریچنگ (مصنوعی بند توڑنے) کے آپشن پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
ادھر ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب، عرفان علی کاٹھیا نے سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گجرات میں شدید بارشوں کے نتیجے میں مرکزی نالوں میں شگاف پڑے، جس کے باعث اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی۔ تاہم، نکاسیِ آب کے لیے مشینری علاقے میں پہنچا دی گئی ہے، اور اگلے 12 سے 18 گھنٹوں میں صورتحال کے بہتر ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔
