ججوں اور واپڈا ملازمین کے لئے 10 ارب کی مفت بجلی عوام کے ذمے

اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کوپرکشش تنخواہوں،رہائش اور دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ 1000یونٹ ماہانہ بجلی فراہم کی جا رہی ہے دوسری جانب واپڈا کے اہلکار اور افسر جتنی چاہیں بجلی استعمال کریں ،نہ تو ان کے ہاں لگے میٹر کی ریڈنگ نوٹ کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں اضافی بل اداکرنا پڑتا ہے . موجودہ نرخوں کے حساب سے 2لاکھ واپڈا ملازمین کو مفت بجلی فراہم کرنے کی یہ عیاشی عوام کو  10ارب روپے میں پڑ رہی ہے ۔ یہ اعداد و شمار سینئر صحافی بلال غوری نے اپنے ایک کالم میں ظاہر کیے ہیں . وہ لکھتے ہیں کہ وفاقی کابینہ نے جاتے جاتے بجلی 7روپے 50پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دیکر عوام پر ایک بار پھر برق گرادی ہے ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ اس ظالمانہ فیصلے کی ذمہ داری لینے کے بجائے یہ وضاحت  پیش کی جارہی ہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹینڈنگ ایگریمنٹ کے تحت یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔ دراصل بجلی کی تقسیم کار کی ذمہ دار کمپنیاں جنہیں ایکس واپڈا ڈسکوز کہا جاتا ہے ،انہیں سالانہ 150ارب روپے خسارے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے پاور سیکٹر کے نقصان اور گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس خسارے کو ختم کریں تو بجلی کے نرخ بڑھا کر اس مسئلے کو حل کرلیا جاتا ہے۔ہمسایہ ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی ،پنجاب اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں بجلی بالکل مفت فراہم کی جارہی ہے۔ہمارے ہاں بھی حکومت عام آدمی کو نہایت معمولی سبسڈی دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ہونا تو یہ چاہیے کہ  آپ نہ تو سبسڈی دیں اور نہ ہی بجلی مفت فراہم کریں،جو بھی کاسٹ آتی ہے وہ صارف سے وصول کریں ،اخراجات پورے کرنے کیلئے بجلی کی قیمت بڑھانا پڑتی ہے تو ضرور بڑھائیں لیکن اپنی نااہلی ،مجرمانہ غفلت ،غیر ذمہ داری ،کرپشن اور عیاشیوں کا بوجھ عوام کے کندھوں پر نہ ڈالیں۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ  پہلے تو یہ طے کرلیں کہ جب غریب آدمی سے پورا بل وصول کرنا ہے تو پھر بجلی کسی کیلئے مفت نہیں ہوگی۔کیا یہ بھونڈا مذاق نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کوپرکشش تنخواہوں،رہائش اور دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ 1000یونٹ ماہانہ بجلی ،گیس اور 200لیٹر پیٹرول مفت فراہم کیا جارہا ہے؟واپڈا کے ملازمین کو ان کے گریڈ کے حساب سے ماہانہ 1100 یونٹ تک بجلی مفت دی جارہی ہے۔گریڈ ایک سے چار تک کے ملازمین کیلئے 100،گریڈ 5سے گریڈ 10تک کے ملازمین کیلئے 150یونٹ ،گریڈ 11سے گریڈ15تک کے ملازمین کیلئے 200،گریڈ 16کے ملازمین کیلئے300 ،گریڈ 17کے ملازمین کیلئے450،گریڈ 18کے ملازمین کیلئے600، گریڈ 19کے ملازمین کیلئے 880،گریڈ 20کے ملازمین کیلئے1110جبکہ گریڈ 21اور گریڈ 22کے ملازمین کیلئے1300 یونٹ فری ہیں ۔اور یہ فارمولہ تو محض کتابوں تک محدود ہے ، عملاً واپڈا کے اہلکار اور افسر جتنی چاہیں بجلی استعمال کریں ،نہ تو ان کے ہاں لگے میٹر کی ریڈنگ نوٹ کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں اضافی بل اداکرنا پڑتا ہے۔افسر وں کے تو ٹھاٹھ باٹھ ہی الگ ہیں ،آپ کسی لائن مین کے گھر جا کر دیکھ لیں،روٹی ہانڈی کیلئے بجلی کا ہیٹر استعمال ہوتا ہے ،سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے ونڈو ایئر کنڈیشنڈچلائے جاتے ہیں کیونکہ مالِ مفت دلِ بے رحم.

 بلال غوری کہتے ہیں کہ 16ستمبر 2021ء کو سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں ہونے والے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق سال 2018-19ء میں واپڈا ملازمین  بشمول ڈسکوز اور پاور جنریشن کمپنیوں میں کام کرنیوالے ملازمین نے بجلی کے391ملین یونٹ مفت یونٹ استعمال کیے۔تب تو اس مفت خوری کا تخمینہ 5.26ارب روپے بنتا تھا مگر اب موجودہ نرخوں کے حساب سے 2لاکھ واپڈا ملازمین کی یہ عیاشی 10ارب روپے میں پڑ رہی ہے ۔ 30مارچ 2023ء کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے اس مفت خوری کا نوٹس لیا اور حکم دیا کہ مفت بجلی کی سہولت ختم کی جائے۔ 24جون 2022ء کو بھی نور عالم خان نے بطور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی، اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے یہی حکم صادر فرمایا تھا  لیکن ایک سال بعد دوبارہ وہی احکامات جاری کرنے کا مطلب ہے کہ ’نوٹس ملیا ،ککھ نہ ہلیا‘‘۔

ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ واپڈا کا عملہ  نہ صرف خو د مفت بجلی استعمال کرتا ہے بلکہ بجلی چوری کرنے والوں کی سہولت کاری کرکے مزید خسارے کا سبب بنتا ہے۔فروری 2023ء میں قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2022-23کے دوران 380ارب روپے کی بجلی چرائی گئی اور اگلے سال بجلی چوری سے ہونے والا نقصان 520ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔صرف ایک گرڈ اسٹیشن بنوں سے 5ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔بجلی چوری کا مطلب ہے کہ یا توعملہ چوروں کے ساتھ ملا ہوا ہے یا پھر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا ۔ دونوں صورتوں میں اس کا خمیازہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ملازمین اور افسروں کو بھگتنا چاہئے لیکن یہ بوجھ بھی صارفین کو اُٹھانا پڑتا ہے،کیوں؟

بلال غوری پوچھتے ہیں کہ عام آدمی واپڈا والوں کی نااہلی ،غفلت اور بدعنوانی کی سزا کیوں بھگتے؟یہ قانون سازی کی جائے کہ جس سب ڈویژن سے جتنی بجلی چوری ہوگی اس کی کٹوتی متعلقہ SDOاور اس کے ماتحت کام کرنیوالے عملے کی تنخواہوں سے کی جائے گی۔کسی کوبجلی کا ایک یونٹ بھی مفت نہیں ملے گا۔اگر اس کے بعد بھی پاور سیکٹر کا خسارہ ختم نہیں ہوتا تو بجلی کے نرخ ضرور بڑھائیں۔اگر کڑوی گولیاں نگلنا ضروری ہیں تو پھر سب کو اپناحصہ وصول کرنا ہوگا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف عام انسانوں اور

ڈنمارک میں قرآن پاک کی بیحرمتی کا ایک اور افسوسناک واقعہ

بے سروسامانوں پر مسلسل برق گرتی رہے۔

Back to top button